بھیانک جرائم سخت سزائیں

۔10 سے18سال کے بچوں کی لاشیں زمین کی تہ سے نکالی گئیں ،پھر مجرم کے خلاف قتل کا مقدمہ چلا لیکن کینیڈا میں چونکہ موت کی سزا ختم کی جاچکی ہے، مجرم کو اب زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا کا امکان تھا ،عدالت نے اپنے فیصلے میں ’’سفارش‘‘ کی کہ اسے بغیر پیرول تا عمر قید رکھا جائے،لیکن ’’سفارش‘‘کالفظ ساتھ لکھنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید عدالت کو ایسا حکم دینے کا اختیار نہیں تھا ۔بچوں کے والدین کو جب اس حوالے سے ساری الم ناک صورت حال کا علم ہوا ، ان میںاضطراب کی لہر دوڑ گئی ،انہوں نے OLSON پر مقدمہ دائر کیا کہ کینیڈاکے ٹیکس دینے والوں کا ایک لاکھ ڈالر اس درندہ صفت کی جیب میں گیا ہے، کم از کم اس درندے سے وہ چھین کر ان مظلوم بچوں کے ورثا ء کو دیا جائے لیکن یہ لوگ اُلٹا ’’آزادولبرل‘‘ عدالت میں شکست کھا گئے ۔مقدمہ خارج ہوا اور سپریم کورٹ نے یہ کیس سننے سے انکار کیا ۔اُدھر اس سفاک مجرم نے ہائی کورٹ سے جیل میں بہتر رہائشی سہولت کا مطالبہ کیا ،اُس کی درخواست سماعت کے لئے منظور ہوگئی ۔یہ ہوش رُبا عدالتی فیصلہ بھی انسانیت کے زخموں پر نمک پاشی کرتا رہا۔ان سنگین وارداتوں کے شکار بچوں کے والدین اور لواحقین نے ایک انجمن VICTIMS OF VOILENCEبنائی،اس انجمن نے پارلیمان سے مطالبہ کیا کہ کینیڈا میں سزائے موت بحال کی جائے ۔ انجمن کے ایک ترجمان نے محو لہ بالا اخبار کے نمائندے سے کہا :’’ہم نے ہار نہیں مانی ،ہم نے ایک گروپ بنا یا ہے اور ہم نے پارلیمنٹ کے ارکان سے مطالبہ کیا ہے کہ کینیڈا میں سزائے موت کو واپس بحال کیا جائے ،اولسن جیسے جنسی درندوں کو سیدھے جہنم میں بھیجا جائے جس کا وہ مستحق ہے۔اس واقعے پر کسی تبصرے کی جنداں ضرورت نہیں۔انسان تمام مخلوقات میں اشرف و افضل ہے لیکن جب وہ انسانیت کا لباس اُتار کر اور اپنی عظمت کی رِدا کو خود ہی تار تار کرنے پر بضدہو تو اس بوسیدہ وجود سے معاشرہ کیا کوئی خیر کی اُمید رکھ سکتا ہے ؟ بلا شبہ انسان میں رحم دلی  کا جذبہ کوٹ کوٹ کرن  بھراہو تو وہ کاہے کا انسان ہوا؟البتہ انسان کی ہر صفت کے اظہار کا اپنا ایک موقع و محل ہوتا ہے ۔ اگرانسانی صفات کا بے موقع ، بغیر سوچے سمجھے یا غیر ضروری وغیرمشروط طوراستعمال کیا جائے تو یہ صفت بجائے رحمت کے زحمت کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے ۔آپ سانپ اور بچھوؤں کو دودھ پلاتے رہیں اور توقع یہ رکھیں کہ ان کا لعاب دہن تریاق ہے اور ان کے کاٹے سے مریض شفا یاب ہوں گے ،تو یہ خیال دیوانے کا خواب ہی ہوسکتا ہے ۔
اسلام دین رحمت ہے انسانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ساری کائنات کی مخلوق کے لئے لیکن جب اُخروی تصور سے باغی وسرکش انسان شیطنیت کو بھی مات دے ، شرمسار کردے تو وہ جراحت ( آپرویشن )کا آپشن استعمال میں لاتا ہے ، جیساکہ خدائی اعلان ہے : اور اے عقل والو !تمہارے لئے قصاص کے قانون میں زندگی کا سامان ہے۔‘‘انسانی وجود کو توانا اور صحت مند رکھنے کے لئے ڈاکٹر اور جراح اُس عضو کو کاٹ کر پھینکنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے جو گل سڑ چکا ہو اور اب اس سے رسنے والے زہر کا سارے جسم میں سرایت کرنے کا اندیشہ لاحق ہو۔ مریض کے اقربا ء خود اس کرب ناک صورت حال میں اس عمل پر اس لئے راضی ہوتے ہیں کہ اُن کے عزیز کا باقی جسم صحیح سالم رہے ۔اسی طرح انسانی معاشروں کی صحت کے لئے لازم وملزوم ہے کہ اُس فاسد مواد سے اُسے چھٹکارا دیا جائے جو اُسے کرب و اضطراب کا شکار بنا دے اور اخلاقی اقدار اور روحانی عظمتوں کے شیش محل کی تاراجی کا باعث بنے ۔اسلام کے قلب ِرحمت میں یہ شوق نہیں پلتا کہ چوک چوراہوں میں بے تحاشہ پھانسیاں لگ جائیں ،تختۂ دار پر انسان لٹکتے رہیں اور پھر سیٹیاں اور تالیاں بجیں بلکی یہ دین نہ چاہتے ہوئے بھی انتہائی سزا اُس وقت دیتا ہے جب کوئی اور چارۂ کار باقی نہ ہو ۔ اس باب میں تاریخ اسلام کی کتنی ہی زندہ مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ایک شخص رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر بدکاری کے جرم کا خود اقبال کرکے حد نافذ کرنے کا باصرار مطالبہ کرتا ہے ،نبی ٔ محترم ﷺ گردن مقدس اِدھر اُدھر پھیر لیتے ہیں کہ فریادی خاموش ہو لیکن وہ اعترافِ جرم پر بضد ہے، بجائے اس کے کہ اس کے لئے سزا کا اعلان ہو ، نبویؐ فرمان جا ری ہوتا ہے آیا اس شخص کا دماغ ٹھیک ہے ؟ اس نے کچھ نشہ تو نہیں کیا ہے؟شرکائے محفل ہی نہیں بلکہ فریادی خود کہتا ہے کہ میں صحیح الدماغ ہوں اور نشے کا عادی نہیں۔پھر نبی محترمؐﷺاس عمل قبیح کی اصل ہیئت بیان فرما کرا س سے پوچھتے ہیں: کیاتم نے ایساپھرویساپھر ویسا کیا؟محض اس لئے کہ عدل کا ہر تقاضا پوراہو، پھرجب ا س شخص کی سزا یعنی سنگ ساری کا اعلان ہوتا ہے تو لوگ مجرم کو سنگ سار کرکے لوٹ آتے ہیں اور دربار نبوی ؐ میں اس حوالے حال احوال عرض کر تے ہیں تو ایک صاحب نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسولﷺ!وہ مجرم تو بس بھاگنے کو ہی تھا کہ میں نے پاس پڑی اونٹ کی ران کی ایک ہڈی اُٹھا ئی، اُس پر دے ماری اور وہ مرگیا ۔ پتہ ہے نبی رحمت ؐنے کیا فرمایا : ـ’’ہائے! وہ بھاگ گیا تھا ، کاش بھاگنے ہی دیتے‘‘ ۔یہ ہے بنی کائنات ﷺکے مقدس دل میں انسانیت کے لئے شفقت و محبت اور رحم دلی کا لا مثال ولاثانی جذبہ ۔ ہمارے یہاں بیمار کو کبھی انجکشن دینے کے مرحلے سے اور کبھی جراحی کے عمل سے اس لئے گزرناپڑتا ہے اور خوردو نوش میں احتیاط اس لئے کرنا پڑتی ہے کہ اُس کی صحت قائم رہے ۔اسی طرح انسانی معاشرے کی درستگی اور تندرستی کے لئے لازم ہے کہ بادل نخواستہ ہی سہی سماج کی صحت اور آبرو کے لئے مضرت رساں مواد اور عضو ئے فاسدہ کو سماجی جسم سے کاٹ پھینکا جائے،نہیں تو مرض سارے بدن میں سرایت کرکے پورے وجود کو ختم کرکے ہی دم لے گا ۔
آج  دنیا بھر میںجنسی ہوس عروج پر ہے اور عملاً انسانی عزت و ناموس دائو پر لگی ہے ۔یہ جرم نیو یارک میں ہو یا لندن میں ،خشکی میں ہو یا تری میں، لاہور میں ہو یا دلی میں ،گجرات میں ہو یا ہریانہ میں ، عرب میں ہو یا عجم میں، یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے سنگین جرم ہے اور مجرم معاشرے کی مجموعی بھلائی و اچھائی کے نقطہ ٔ نظر سے کسی سفارش و رحم کا مستحق نہیں ہوتا ۔آصفہ کے مجرم ہوں یا زینب کے ،دامنی کے گناہ گار ہوں یا ہریانہ کی معصوم بچی کے قاتل ، یہ سب ظالم ہیں اورظالم صرف ظالم ہوتا ہے چاہے وہ جس کسی پر بھی ظلم کرے اور مظلوم صرف مظلوم ہے چاہے وہ جس کسی ظالم کے ہتھے چڑھے۔اس میں رنگ و نسل ،مذہب ،خطہ، زبان، امیری غریبی اور حسب و نسب کا کوئی امتیاز نہیں۔آصفہ ہو یا اُناوکی مظلوم بیٹی سب معاشرہ کی بیٹیاں ہیں ۔انہیں انصاف ہی نہیں چاہیے  بلکہ انصاف ہوتا ہوا دِکھنا چاہئے ۔ یہاں وہاں جنسی زیادتی کے موضوع پرسزائے موت کے آرڈی نینس پاس تو ہوئے لیکن اس میں عمر وغیرہ کی قید کیا اورکیوںہے؟ یہ بھی ایک اہم سوال ہے ۔جُرم جرم ہوتا ہے ،اس کا چھوٹی یا بڑی عمر سے کیاتعلق ؟ بہر کیف اس وادی ٔمینو سواد میں پچھلے کئی عشروں کے دوران ایسے بہت سارے ہوش رُبا المیے رونما ہوئے ،وہ کنن پوشہ پورہ کی عفت مآب خواتین کی اجتماعی آبروریزی کے دل دہلانے والا شرم ناک معاملہ ہو یا شوپیان کی بیٹی آسیہ اور نیلوفر کی عزتوں سے کھلواڑ کی بدترین وارداتیں ۔کیا ان سب کا کوئی نوٹس بھی لے گا ؟یہ بھی ایک چبھتا ہوا سوال ہے جو متاثرین کے اقرباء و اعزہ نہیںاٹھا رہے بلکہ ہر باضمیر اور غیرت مند انسانکے ذہن میں کلبلا رہاہے۔ جواب کیا ملے گا، وقت کا مورخ اس کے انتظار میں ہے ۔حالانکہ ہمارا یقین ہے  ع
جو چپ رہے گی زبانِ خنجر
 لہو پکارے گا آستیں کا 
فون نمبر9419080306
