! بھیانک جرائم سخت سزائیں

  انسانی فکر جب بانجھ اور انسانی ضمیر کی کھیتی جب بنجر ہو جاتی ہے تو ان میں کسی بھی خیر اور نصیحت کو قبولنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے ، ا ن کے بطن سے شر و فتن جنم لیتے ہیںاور انسان شتر بے مہار بن کر کسی جانور کی طرح زندگی گزارنے کا خوگر ہوجاتا ہے ، وہ کسی اخلاقی پابندی اور معاشرتی ضابطے کے دائرے میں نہیں رہنا چاہتااور نہ ہی روحانی ترقی یا صفائی قلب کی ٹھنڈی ہوائیں اُس کے پاس پھٹکتی ہے۔اس کی آنکھ ،کان ، ہاتھ ،پائوں سے پھر شر ہی شر کا ارتکاب ہوتا ہے ، وہ اپنے پرائے کی کوئی تمیز باقی نہیں رہتی ، وہ حلال و حرام کی اصولوں کا مذاق اُڑاتا پھرتاہے اور زندگی کے تمام شعبوں میں اُس کی بے قاعدگیاں، خود غرضیاں اور غنڈہ گردیاں اُسے اسفل بنا کے رکھ دیتی ہیں ۔ اگرچہ سماج کے حساس اور زندہ ضمیر لوگوں کی نگاہوں میں ایساآدم زادپستی کی گہرائیوں میں لڑھکتے ہوئے پست ترین سطح پرگر جاتا ہے مگر وہ لاپرواہی کے عالم میں کسی کو خاطر میں ___انسانی معاشروں کا بہرنوع ارتقاء کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ خلق اللہ ( حدیث کی زبان میں العیال اللہ) میں باہم محبت و مودت کا رشتہ قائم رہے، حیا،پاک دامنی اور عفت و عصمت کی پاسداری و حفاظت کی لازمی ذمہ داری ہر شخص نبھائے۔عدل و انصاف کا میزان سر چڑھ کر ان لوگوں میں بولے،چادر اور چار دیواری کا تقدس قائم رہے ،ماں بہن کی ناموس و عزت کی نگہبانی سماج کا ہر فرد اپنی ڈیوٹی مانے ۔ان خوش گوار خصائل کے علی الرغم وہ انسان جس کی خلقت اَحسن تقویم (بہتریں ساخت ) پر ہوئی ہے، جب اخلاقی بحران وبگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے تو پھر کار گہہ حیات شر اور فساد کی آما ج گاہ بن جاتی ہے۔فساد کے ان عوامل و علل میں سب سے زیادہ جنسی بھوک بھی شامل ہے جس کی تسکین کے لئے بہک کر اگر کوئی انسان جائز صورتوں کو چھوڑ کر غلط راہوں کا انتخاب کرے تواس صورت میں لازماًمعاشرے میں ایک انارکی پھیل جاتی ہے ۔ یاد رکھئے کسی بھی خاتون کی عزت پر دست درازی ہو یا اس کی ناموس پر حملہ بولا گیا ہو تو یہ ابلیسی اقدام نہ صرف متاثرہ فردکے لئے سوہانِ روح بن کر رہ جاتا ہے بلکہ اُس کے اعزہ و اقارب بھی تا حیات دردو کرب میں دب جاتے ہیں اور اُن کا خون ایسے بدقماش کے خلاف ہمیشہ کھولتا رہتا ہے ۔ اس کے ردعمل میں مجرم کو سزا دینے کے لئے یا تو وہ خود قانون ہاتھ میں لیتے ہیں یا اُن کی امیدیں لا اینڈ آرڈر سسٹم اور نظام عدل سے وابستہ ہوجاتی ہیں ، جہاں مجرم کو تحقیق وتفتیش کے مراحل سے گذر کر جرم ثابت ہونے کی صورت میں از روئے قانون اپنے کئے کی سنگین ترین سزا مل جاتی ہے ،لیکن اگر بذات خود نظامِ عدل کے پیچ کچھ ڈھیلے ہوں اور مظلوم کی دادرسی کی بجائے  مجرم کے تئیں چشم پوشی بر ت لی جاتی ہو، توہر چہار جانب سے انصاف کی دہائی اور عدل کا مطالبہ ہوتا ہے جس کی تائید و حمایت میں معاشرے کا باضمیرشخص لازمی کر تا ہے ۔ جنسی زیادتی ہے ہی کچھ ایسی سیاہ کاری اگر اس پر قانون کی گرفت کو’’ آزادی اور لبرل ا زم ‘‘ کے نام پر نرم کر دی جائے تو ایک ہاتھ نوع انسانی کی اخلاقی فضیلت کا سوتا خشک ہوجاتاہے اور دوسرے ہاتھ تمدن ِ انسانی کی جڑ یں کٹ جاتی ہیں ۔کوئی بھی آسمانی دین اس قبیح عمل کی اجازت نہیں دیتا جب کہ اسلام اس کارِ خبیثہ سے انسانیت کا رُواں رُواں بچانے کے لئے وسیع پیمانے پر انسدادی، اصلاحی اور احتیاطی طریقوں سے اپنے پیروکاروں کو آشنا کر تا ہے۔ یہ دین ہر اُس چوردروازے اور روزن تک کو بند کئے بنا نہیں چھوڑ دیتا ہے جہاں سے اس سیاہ کاری کے جرثومے داخل ہونے کا خفیف سے خفیف تر بھی امکان ہو ،یہ ایک دوسرے کے گھر آنے جانے کے آداب بھی بتاتا ہے ،کب جائیں کب نہ جائیں،اس میقات سے بھی آگاہ کرتا  ہے، محرمات اور نا محرمات کی نشاندہی بھی فرماتا ہے،خود گھر کے مکینوں کو گھر میں داخلے کے قواعد وضوابط سے روشناس کر اتا ہے، مردتو مرد یہ عورتوں تک کی نگاہوں پر غض بصر کی شکل میں اخلاقی قدغن لگاتا ہے اور کہتا ہے کہ نظر ایک تیر ہے جو کبھی دل پر لگتا ہے تو شر و فساد کا ایک لامتناہی سیلاب اُمڈ آتا ہے____بدنگاہی اسلام کی نگاہ میں زبردست گناہ ہے اور یہاں سے ہی شر کی زمین ِخار زار وسعتیں پاتی ہے۔اس دین فطرت نے ہر رشتے اور قرابت کی حدبندیوں کو واضح کیا ہے ، اس نے دیور اور بھابی کی قربتوں تک کو قطعاً ناپسند یدہ اور غیر مطلوب کہا ہے ۔بہن اور بھائی اور والد اور بیٹی کو ایک ساتھ تنہائی میں کمرے میں بیٹھنے تک سے روک کر اس بات کاواضح پیغام دیا ہے کہ انسانی دل میں کوئی بھی بُرا خیال پنپ نہ سکے ۔ دین خداوندی نے اس بات کو بھی الم نشرح کرکے رکھ دیا ہے کہ دین ِمبین انسانی فطرت اور مکرو ہ سوچ سے کلی طور آگاہ ہے۔اس لئے اس نے ہر اُس راستے کو مسدودکرنے کی مکمل کوشش کی ہے جو انسان کو بدکاری ،قتل ،اغواء یا کسی اور سنگین جرم کا مرتکب ہونے کی منزل پر لے جاتا ہو ۔ اصلاح ِاحوال کے لئے سب سے پہلا پیغام جو اسلام نے دیا ہے ،وہ یہی ہے کہ انسان کے دل میں آخرت کا تصور راسخ ہو اور یہ بات اس کے ذہن و قلب میں رَچ بس جائے کہ کل داورِ محشر کی عدالت میں نامۂ اعمال میں لکھے نیک و بد کی بنیاد پر جز و سزا ہوگی۔جہنم اور جنت کا مقصد یت ہی یہی ہے کہ مسلمان دنیا میں شجرِ سایہ دار بن کر دیگر عبادات ِ الٰہی کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ انسانی عزت و ناموس کا ہمہ وقت محافظ ونگران بنے۔ اس محافظت کا حق ادا کیا تو بفضل تعالیٰ مومن جنت کا حقدار لیکن خدانحواستہ ڈاکو،لٹیرا اور رہزن بناتو انجام جہنم کی دھکتی آگ تیار ہے۔ اسی تصورِ آخرت کی ٹھوس بنیاد پر آج سے ڈیڑھ ہزار برس پیغمبر اسلام ؐ کی قیادت میںپہلے صالح و ذمہ دار انسانی معاشرہ تشکیل پایا توانسانی عزت و جان  کیا جنگل کے درندے بھی اپنے کو محفوظ ومامون تصور کرنے لگے ۔ گناہ کے بارے میں سوچنا تک جب گناہ تسلیم کیا جانے لگے تو ایک حسین وجمیل اور صالح معاشرہ کاقیام لازم وملزوم ہے ۔ خیر القرون کے اس تاریخ ساز اسلامی معاشرے میں اخلاق کی خوشبوئیں آج بھی کثافت آلودہ انسانی اذہان کو معطر کررہی ہیں۔
  آج کی تاریخ میںچونکہ افراط وتفریط کے شکار انسانی سماج میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جن کے شوریدہ نفس کی بنجر زمین حق کی تخم ریزی اور صدق کے سیرابی کے باوجود کوئی اچھا ثمر نہیں دے پاتی، اور ایسے لوگوں کی بھی کوئی کمی نہیںجن میں بہت سارے اخلاقی اوصاف موجود ہوں توہوں لیکن بے قابو جنسی ہوس اور نظروں کی آوارگی اُن کے ہاتھوں ایسے جرائم کا ارتکاب کرواتی ہے جو اپنے انتہائی مضر اور ہلاکت خیز اثرات سماج پر مرتب کرتے ہیں۔اس کا پیشگی نوٹس لے کر اسلام سب سے پہلے آخرت کی پکڑاور جواب دہی کا احساس ضمیر میں جاگزین کر کے انسان کو ایسے اعمال خبیثہ سے بچاتا ہے لیکن اگر پھر بھی کوئی مدہوش باغی اپنی اصل چراہ گاہ سے نکل کر کہیں اور اپنی جنسی ہوس پوری کرنے کا شیطانی حربہ اختیار کرے تو پھر سماج میں جرم ، گناہ ، استحصال ،اغواء اور قتل جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب خارج از امکان نہیں ۔ دین ِفطرت نے ا س ضمن میں کوڑہ زنی اور سنگ ساری جیسی سخت سزائوں کا انتخاب کرلیا ہے تاکہ دنیا اس بدقماشی کا ہولناک انجام دیکھ کر عبرت و موعظت حاصل کرے۔اسلام نے اس تعلق سے  باضابطہ عدالتی کارروائی کے ذریعے جو سزائیں مقرر کی ہیں اُنہیں قران و سنت میں تمام جزئیات وکلیات سمیت دیکھا جاسکتا ہے اور تاریخ اسلام میں ان کڑی سزاؤں کے عملی نفاذ کے بارے میں قواعد وضوابط کے واضح مرقعے موجود ہیں ۔ زانی ،قاتل ،چور، خائن وغیرہ سب کے لئے الگ الگ سزائیں مقررہیں اور جب بھی انسانی و اسلامی معاشروں میں ان پر عمل ہوا تو واقعی خیر و شر کے بیچ ایک طویل و عریض دیوار حائل ہوئی اور بہت کم لوگوں نے اسلام کے دورِ زریں میںاس دیوار کو پھلانگنے کی حماقت اپنے سر لی ۔واضح رہے کہ دین حق کے توسل سے انسانی فطرت سے جو معاشرے مربوط رہے، انہوں نے ہمیشہ بدکاری کو ایک قبیح جرم سمجھا اور اس سے بچے رہے لیکن جوں جوں انسانی معاشروں کا تمدن اور رہن سہن کا اسلوب خراب ہوتا رہا، جرائم کے تعلق سے حکومتوں کے رویے بتدریج نرم اور لچک دار بنتے گئے، یہاں تک کہ جرائم کے حوالے سے سزا دینے میں امیر و غریب کے مابین امتیاز بھی برتا جانے لگا تونوبت بہ ایں جار سید کہ انسانی معاشرہ اس قدر ڈھیٹ اور بے غیرت ہو گیا کہ کسی کی عزت و ناموس کی پامالی ، ڈاکہ زنی ، قتل غارت گری۔ خیانت کے ضمن میں اسلامی سزائوں کا مذاق اڑانے تک میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی گئی۔ نتیجہ یہ کہ دنیا  ہوش رُبا جرائم کی آماج گاہ بن کے رہی ۔ اس صورت حال کے نا موافق نتائج کی فصلیں کاٹ کرآج ان مجرموں کو سنگین ترین سزائیں دینے پر اللہ کے باشعور بندے ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں رہنے والی دوسری اقوام زنا کاری میں ملوث لوگوںکو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے سزائے موت کی کھلی وکالت کر رہی ہیں ۔ آج انسانیت اس بارے میں فریاد کناں ہے اور سزائے موت کی بحالی کے لئے سڑکوں پر آنے کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہورہا ہے ۔عجب حال ہے دنیا کا ،آج کلیجہ تھام کر پڑھ لیجئے کہ 17؍اکتوبر 1989ء کو کنیڈا کے مشہور ہفت روزہ اخبار National Enquirerکے صفحہ پچاس پر ایک خبر شہ سرخیوں اور تصاویر کے ساتھ شائع ہوئی تھی،اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کنیڈا کے علاقہ برٹش کولمبیا میں ایک وحشت ناک مجرم (Cliffoldol son)کو قتل ،زنا بالجبر اور غیر فطری عمل کے الزام میں دھرلیا گیا ، یہ شیطان نوخیز کلیوں ،بچیوں ،لڑکوں اور لڑکیوں کو روز گار کا لالچ دیتا ،انہیں نشہ آور گولیاں کھلاتا اور پھر زبردستی ان سے سیاہ کاری کا مرتکب ہوتا اور انجام کار انہیں قتل کرکے کہیں دور دراز علاقوں میں دفن کردیتا ۔اس کی گرفتاری عمل میں آئی ، تفتیش ہوئی تواپنے سنگین گناہوں کا اعتراف کیا اور انکشاف کیا کہ 11؍نو عمر بچیوں اور بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کیا اور لاشیں مختلف مقامات پر دفن کرچکا ہوں۔قتل بھی اس بہیمانہ انداز میں کیا تھا کہ جب ایک بچے کی لاش نکالی گئی تو اس کے سر میں لوہے کی میخ ٹھونکی ہوئی پائی گئی۔الامان و الحفیظ۔جب گرفتاری کے بعد پولیس نے ان بچوں کی لاشوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی تو اس بدقماش اور درندہ صفت انسان نے یہ مطالبہ کرڈالا کہ مجھے وہ سارے مقامات یاد ہیںجہاں میں نے ان بچوں کی لاشیں دفن کی ہیں لیکن میں ان مقامات کا پتہ مفت میں بتا نہیں سکتا ۔ میری شرط ہے کہ مجھے فی لاش دس ہزار ڈالر معاوضہ ادا کیا جائے۔دلوں کو دہلانے اور حیران کرنے والا یہ مطالبہ بھی پولیس نے تسلیم کرلیا کیونکہ ملک میں کوئی ایسا قانون وضع نہیں ہوا تھا جس کی رُوسے مجرم کو لاشیں برآمد کرنے پر آمادہ کیا جاسکتا تھا ۔پولیس نے سرینڈر کیا ،البتہ مجرم نے اتنی رعایت حاصل کی کہ ایک لاکھ ڈالر ادا کئے جائیں اور گیارہویں بچے کی لاش مفت برآمد کروں گا۔12سے18سال کے بچوں کی لاشیں زمین کی تہ سے نکالی گئیں ۔
فون نمبر9419080306
(بقیہ صفحہ  جمعہ کے شمارے میںملاحظہ فرمائیں)