بھرم کھل گیا

اگر آپ جانتے ہیںتو پھر ٹھیک ہے ،اگر نہیں تو میں بتا دیتا ہوںکہ ہندوستان میں دو چیزوں کی کثرت ہے اور اس کے برعکس دو چیزوں کا فقدان ہے ۔کثرت والے چیزوں میں سے ایک بے کار اور تن آسان زندگی گزارنے والے سادھوئوں کی ہے ،جن کے لئے پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنے کارِ کال کے دوران کہا تھا کہ تمام سادھوئوں کو پکڑ کر فوج میں بھرتی کرلو ،یہ بے کار کی زندگی جی رہے اور دوسروں کی زندگی بھی اجیرن کردیتے ہیں،اور دوسری کثرت والی چیز ہے جھونپڑپٹیاں ۔اور جن چیزوں کا فقدان ہے اُن میں مکانوں یا گھروں کی کمی ہے جس وجہ سے بڑے بڑے شہروں میں لوگ کثرت سے فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے مخصوص جگہوں کو گھر کی صورت دی ہوتی ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ پیدائش و اموات بھی فٹ پاتھوں پر ہوتی ہے۔حیران کن بات تو ہے، پر حقیقت پر مبنی ہے کہ جتنی ملک جموں و کشمیر کی آبادی ہے اتنے لوگ کولکتہ میں رات کو فٹ پاتھوں پر رین بسیرا کرتے ہیں ۔ اس ضمن میں ممبئی کا نمبر دوسرا اور پھر دہلی اور دوسرے شہر آجاتے ہیں۔دوسری چیز بیت الخلاء ،سنڈاس یا لیٹرن(Latrine)ہیں۔گرچہ’’ سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ نعرے کے نتیجے میں کافی سارے شوچالیہ بن گئے مگر مصیبت یہ ہے کہ کچھ لوگ ابھی اُن کا استعمال نہیں کرتے کیونکہ عادت کھلے میں بیٹھنے کی پڑ گئی ہے اور عام جنتا خاص کر دیہاتوں اور گائوں کے جن جاگ کھلے میں بیٹھنا ہی پسند کرتے ہیں،کیونکہ اس طرح سے سیاست اور کھیت کھلیان پر آپس میں تبادلۂ خیال بھی ہوتا ہے اور فری میں ایر کنڈیشن سنڈاس کے مزے بھی ملتے ہیں۔
جن حضرات نے بڑے بڑے شہروں کی سیاحت کی ہوگی یا کبھی ایسے ہی جانے کا اتفاق ہو ا ہوگا انہوں نے بذات خود مشاہدہ کیا ہوگا کہ وہاں مختلف جگہوں جھونپڑ پٹی کی کس قدر بھر مار ہے اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایسی ہی ٹاٹ اور کھپریل سے بنائی گئی بستیاں اُن بڑے اور خوبصورت شہروں کی مٹی پلید کردیتے ہیں اور ایک ہی نظر بھر دیکھنے سے لگتا ہے کہ مخمل میں ٹاٹ کا پیوند ہے یا ایک رنگ دار خوبصورت دیوار پر گوبر کا اوپلا تھوپ دیا گیا ہے ۔ان جھونپڑ پٹیوں میں رہنے والے مردو زن اور بچوں کے روزگار کے ذرائع کیا ہیں ،وہ تو سب جانتے ہیں کہ اکثر کچرے کے ڈھیروں اور ہوٹلوں کے ڈسٹ بِنوں سے مختلف چیزیں چن کر اور پھر ان کو آگے بیچ کر اپنی زندگی کی گاڑی کو چلاتے رہتے ہیں ۔ان ننگ دھڑنگ لوگوں کودیکھ کر ہی گھن آتی ہے ،وہ میلے کچیلے رہتے ہیں جس وجہ سے ان سے بدبو آتی ہے ۔اس میں ویسے ان کا قصور کم ہی ہے کیونکہ پانی تک ان کی رسائی مشکل سے ہی ہوپاتی ہے ۔خیر سے اس میں سے کچھ سوغات اپنی وادی کو بھی ٹرانسفر ہوئی ہے اور انہوں نے اس طرح سے سرکاری اور پرائیویٹ زمینوں پر قبضہ جمایا ہے جیسے کہ وہ ان کی نجی جائیداد ہو ۔کچھ بنجاروں نے تو پکے مکان بھی بنا ڈالے ہیں ۔مرد اور عورت بلکہ بچے بھی بھیک مانگ کر لاتے ہیں۔حلیہ تبدیل کرکے آتے ہیں اور مختلف حربوں سے بھولے بھالے عوام کو لوٹتے ہیں۔رات کو سانجا دم لگتا ہے اور پھر آگے کا حال آپ کو معلوم ہی ہے ۔ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کی غرض سے آپ جلد ہی دیکھیں گے کہ ان کے اسم گرامی ووٹر لسٹوں میں بھی ہوں گے اور وہ بعد میں آپ کی ہمسائیگی میں بھی آرام سے براجیں گے ۔
ہاں تو ہم جھونپڑ پٹی کی بات کررہے تھے ۔ان جھونپڑ پٹیوں میں یا یوں کہیں ان کے مکینوں میں کچھ لوگ ذرا Sociableقسم کے لوگ بھی ملتے ہیں ۔وہ ڈھنگ سے پہنتے ہیں اور چھوٹے موٹے کام جیسے میکنگ ،آٹو رکھشا پُلر ،چوکیداری ،دکانوں پرصفائی ،چائے پانی لانا ،فلوس کھلونے بیچنا ،پھل ترکاری کے ٹھیلے لگانا وغیرہ اسی طرح کے کام کرتے ہیں مگر اخلاقی اعتبار سے اس ایک کمرے کی جگہ میں کوئی سوشے بلٹی (Socialility)نہیں ہوتی اور نہ رہ سکتی ہے ۔محنت مشقت کا کام کرنے والے یہ لوگ جب رات کو ڈرموں ،سائیکل ٹیوبوں اور حوضوں جوہڑوں میں چھپائی گئی گھٹیا قسم کی دارو کا پوا چڑھاکر اپنی جھونپڑی میں لوٹتے ہیں تو اس اندھیرے کنویں میں کس کا پائوں کہاں پڑتا ہے ،اس کا کوئی امتیاز نہیں رہتا ۔اس لئے کون کہاں ،کس طرف،کس کونے میںسٹک گیا ،کوئی فرق نہیں پڑتا اور یہی وجہ ہے کہ ایسے ہی رین بسیروں سے کون کس کی اولاد ہوتی ہے ،کوئی پتہ نہیں چلتا ۔ایسے اندھیرے کنوئوں میں اس طرح کی غیر رومانی گھٹنائیں اکثر گھٹتی رہتی ہیں۔میں سمجھتا ہوں، آپ ماشا ء اللہ سمجھ دارہیں ،خود سمجھ گئے ہوں گے ۔مجھے بتانے یا دہرانے کی کیا حاجت ہے ۔ایسی بستیوں میں ایسی جگہوں پر پیدا ہونے والے ،پلنے اور پروان چڑھنے والے لوگوں کی اخلاقی ، ذہنی،شعوری ،سماجی اور لسانی حالت کیا ہوگی ،معیار کیا ہوگا ،اُس کا وویہار اور ذہنی اُپج کیا ہوگی ،دماغی سطح کس طرح کی ہوگی ،آسانی سے سمجھ میں آنے والی بات ہے ۔اب اتفاق سے اگر ایسی جن جاتی کو اپنے اصلی گائوں کے آدھار کارڈ پر کبھی بیلٹ فورس میں جگہ مل جاتی ہے تو ایسے لوگوں کے لچھن نرالے ہوتے ہیں ۔آپ نے کئی بار دیکھا ہوگا کہ وادی میں جب فورسز ماردھاڑ،ٹیر گیس شلنگ ،پیلٹ فائرنگ وغیرہ کے بعد گھروں میں گھس کر ٹھکائی شروع کرتے ہیں، اُس وقت ان میں سے چند وردی پوش لوگ ایک تو گھروں کی قیمتی اشیا ء اڑا لیتے ہیں اور دوسرے مہنگی اشیاء بشمول ٹی وی ،فرج ،کمپیوٹر ،کار ،بائیک وغیرہ کی توڑ پھوڑ کردیتے ہیں ۔گلی میں ہوئے تو گھروں کی باہرکھلنے والی کھڑکیاں اور دروازوں کے علاوہ غلیل سے اوپر والی منزلوں کے شیشے چکنا چور کردیتے ہیں۔
حقیقت میں دیکھا جائے تو بیلٹ فورس کا ایک ڈسپلن ہوتا ہے ۔قانون یا ڈسپلن شکنی کے لئے ہر بندہ مقررہ سزا کا مستوجب ہوتا ہے ۔دیکھا گیا ہے کہ اخلاقی ضابطے کی عمل آوری نہ ہونے پر اکثر کوارٹر گارڈ کی سزا ہوجاتی ہے مگر پھر بھی سویلین آبادی جانی نقصان کے علاوہ مالی نقصان سے بھی کیوں دوچار ہوتے ہیں؟اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ کچھ عناصر کی ذہنی اُپج ہی اُن کو ایسا کرنے پر اکساتی ہے اور یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے قیمتی گھریلو اشیاء نہ اپنے گھر میں دیکھی ہوتی ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسی دوسروں کے پاس بھی نہ ہوں۔اگر صورت حال ذہنی نابالیدگی نہ ہوتی تو لٹے پٹے خستہ حال مسلمان جب دفع بلاء کے لئے روایتی انداز سے پہلے ہلدی والے چاؤلوں (تہری)کا بالٹین یا طشتری گلی میں تقسیم کرنے کے لئے نکالتے ہیں تو یہی وردی پوش سب سے پہلے اپنے ہاتھ اپنا حصہ لینے کے لئے آگے کردیتے ہیں ۔ قاعدے کے مطابق اُنہیں کسی بھی چیز کو لینے کی اجازت نہیں ہوتی ہے ۔اس کو آپ کیا کہیں گے ؟ صاف ظاہر ہے    ؎ 
بھرم کھل گیا اُس کی قامت درازی کا 
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او سرینگر -190001،کشمیر
 موبائل نمبر:-9419475995