بھدرواہ کے صحت افزاء مقامات آلودگی کی لپیٹ میں ، مومی لفافے سب سے بڑا خطرہ

 بھدرواہ //وادی چناب خصوصاً وادی بھدرواہ میں سیاحوں کی وجہ سے اقتصادی حالت کو فروغ ہو رہا ہے۔تاہم ،جہاں پر اس سے وادی کی اقتصادیات میں مدد ملتی ہے وہیں اسکے دیگر اثرات بھی ہیں۔سیاح اس قدرتی خوبصورتی سے لُطف اندوز ہونے کے بعد چلے جاتے ہیں لیکن ہر سو گندگی پھیلاتے ہیں۔ایسی لا پرواہی سے اس علاقہ کی خوبصورتی متاثر ہوتی ہے۔قدرت کے شائقین سیاحوں کے اس رویہ سے بہت ہی نالاں ہیں۔خوشگوار موسم ،بہتر سیکورٹی، اور بھدرواہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے بہتر انفراسٹریکچر مہیا کرنے کی وجہ سے امسال وادی میں سیاحوں کا کافی رش رہا ۔ ایک اندازے کے مطابق امسال 4.1 لاکھ سے زائد سیاح تپتی گرمی سے راحت پانے کے لئے وادی بھدرواہ کا دورہ کر گئے ہیں،جن میں سے بیشتر ملک کے دیگر حصوں سے تعلق رکھتے تھے۔بھدرواہ وادی میں سر سبز سیر گاہ ،پہاڑوں کے سلسلے اور دریاسیاح کی دلکشی کا اہم سبب تھے تاہم سیاحوں کا بھاری رش وادی کے لئے بھاری پڑا ہے کیونکہ بلندیوں پر واقع بھدرواہ کے سیر گاہ بشمول پدری گلی، بھل پدری، جائی، گلداندا ،بگھن، چھتر گلی، ہنگا، اور سرتھل جو کہ عرصہ سے ہی سیاحوں کی دلکشی کا توجہ بن گئے ہیں،میں پلاسٹک کے کوڑا کرکٹ اورلفافوں نے ان علاقوں کے ماحول پر کافی بُرا اثر ڈالا ہے۔سیاحوں کی لاپرواہی سے ماحولیات کے متاثرین کے لئے باعث تشویش ہے۔قدرت کے ایک شائقین عظمت فاروق نے کہا کہ سیاحوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ کوڑا کرکٹ مناسب جگہ پر ضائع کریں، تاکہ قدرت کو بچایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اگر اسی طرح سے ماحول کا آلودہ کرنا جاری رہا تو ایک دو سال میں بھدرواہ کے قدرتی سیر گاہ اپنی خوبصورتی کھو جائیں گے۔تاہم ، انہوں نے اس سب کیلئے سیاحوں کو ہی مورد الزام نہیں ٹھہرایا ہے۔کیونکہ ان سیر گاہوں میں کہیں بھی کوڑے دان دکھائی نہیں دیتے ہیں جہاں پر سیاح کوڑا کرکٹ جمع کر سکتے ۔ایک اور سماجی کارکن امتیاز اررحمان جگو نے کہا ہے کہ سیر گاہوں میں کوڑے دانوں کی عدم موجودگی محکمہ سیاحت کی غفلت شعاری کی جانب اشارہ کرتی ہے۔اس سے یہ عیاں ہے کہ سرکار ان صحت افزا مقامات پر معقول انفراسٹریکچر مہیا کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ہمیں سیاحوں کو سہولیات فراہم کرنی ہونگی۔ڈوڈہ کے مدثر جمیل نے کہا کہ میں پدری سیر گاہ کا ایک باقاعدہ سیاح ہوں اور گُذشتہ پانچ سال سے ہر سال اس سیر گاہ کا دورہ کرتا ہوں۔اس نے مزید کہا کہ ایک مرتبہ اس کی خوبصورتی آنکھوں کو راحت دیتی تھی اور ہر جگہ چھوٹے چھوٹے رنگ برنگے پھول ہوتے تھے لیکن بدقسمتی سے پلاسٹک کے کچرے نے اب اس سیر گاہ کی شکل ہی بدل دی ہے۔اس نے مزید کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاحوں کو ماحول کی دیکھ بال کرنے کیلئے بیدار کیا جائے۔اور پلاسٹک کے لفافے اور بوتلیں اگر وہ اپنے ساتھ واپس لیں تو اس سے ماحول کو آلودہ ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ جب نامہ نگار نے چیف ایگزیکٹو آٖفیسر بھدرواہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے اس سلسلہ میں رابطہ کیا تو انہوںنے اس سب کی ذمہ واری لیتے ہوئے کہا کہ سیاحوں کو اپنے میں ایک اچھے شہری کا خیال پیدا کرنا چاہیے،تاکہ خوبصور ت سیر گاہوں کے ماحول کو بچایا جا سکے۔انہوںنے کہا چنانچہ سیر گاہ جنگلات میں واقع ہیں اسلئے ہم سول انتظامیہ کے ساتھ ساتھ محکمہ جنگلات سے بھی تال ومیل بنائے رکھتے ہیںاور اگلے سال سے ان تمام سیر گاہوں پر کوڑے دان نصب کئے جائیں گے۔اسکے علاوہ ہم سیاحوں کو ماحول کے تئیں صفائی کا خاص خیال رکھنے کے لئے پمفلٹ تقسیم کریں گے۔