بھدرواہ کے صارفین آلودہ پانی پینے پر مجبور

بھدرواہ //قدرتی وسائل سے مالا مال ریاست کے اہم صحت افزاء مقامات میں سے ایک بھدرواہ قصبہ، جسے چھوٹا کشمیر بھی کہا جاتا ہے کے صارفین کو محکمہ پی ایچ ای کی جانب سے پینے کے لئے ایسا آلودہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے جس کے استعمال سے لوگوں کی صحت پر مسلسل مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس عام مسئلہ کو لے کر یہاں کے عوام انتظامیہ، محکمہ ، حکومت اور بالخصوص مقامیعوامی نمائندوں سے اس قدر خفا ہیںکہ انہوں نے ان کے خلاف ایک منظم تحریک شروع کرنے کا من بنالیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمہ لوگوں کو صاف پینے کا پانی مہیا کرنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے آلودہ پانی سے پیدا ہونے والی کئی بیماریاں علاقہ میں عام ہو چکی ہیں ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں پچھلے کئی برسوں سے مسلسل آلودہ پانی فراہم کیا جارہا ہے ، بالخصوص موسم برسات میںپانی میں نہ صرف مختلف قسم کے جراثیم پائے جاتے ہیں بلکہ وہ دیکھنے میں خاک آلود، سونگھنے میں بد بودار اور ذائقہ میں بھی بد مزہ ہوتا ہے ۔یہاں تک کہ کئی ایک علاقوں میں پی ایچ ای کی طرف سے فراہم کیا جانے والا پانی پینا تو درکنار نہانے اور کپڑے دھونے کے قابل بھی نہیں ہوتا۔ اس سلسلہ میں متعلقہ حکام اور مقامی ممبر اسمبلی کے پاس کئی بار استدعا کی گئی لیکن ہر طرف سے ناکامی ہی ہاتھ لگی اور انہیں کھوکھلی یقین دہانیوں سے ٹرخا دیا گیا۔ اس پانی کے استعمال سے مختلف قسم کی وبائیں جن میں ہیضہ، تپ دق، ٹائیفائیڈ ، ہیپٹائٹس اور چمڑی کے مختلف روگ سرفہرست ہیں کے پھیلنے کا ندیشہ ہے ، لوگوں کے پاس دوسرا کوئی بھی متبادل دستیاب نہیں ہے نتیجہ کے طور پر لوگ اس قسم کی بیماریوں کو جھیلنے کے لئے مجبور ہیں۔ محلہ صرافاں کے ایک شخص کا کہنا ہے کہ محکمہ پی ایچ ای صارفین سے فلٹر شدہ پانی کی فراہمی کے نام پر کرایہ وصول کر تا ہے لیکن انہیں ندی نالوں سے گندہ پانی بنا فلٹر کئے ہوئے براہ راست سپلائی کر دیا جاتا ہے ۔پینتھرز پارٹی کے ضلع صدر نیرج سنگھ منہاس کا کہنا ہے کہ’’کاغذات میں بھدرواہ میں کئی فلٹر پلانٹ ہیں لیکن انہیں کبھی بھی استعمال میں نہیں لایا جاتا، دہائیوں سے واٹر سپلائی پائپیں نالہ سے براہ راست لوگوں کے گھروں تک لگادی گئی ہیں ‘‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں نہ صرف آلودہ پانی استعمال میں لانا پڑتا ہے کہ کئی بار گریوٹی لائن کے قریب مرے ہوئے جانوروں کے ڈھانچے دیکھے گئے ہیں ۔ہم محکمہ سے بار ہا اپنا طریقہ کار درست کرنے کی استدعا کر چکے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو ہم سڑکوںپر اترنے کے لئے مجبور ہو ں گے‘‘۔ ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حکومت لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لے وعدہ بند ہے اور اس کیلئے کئی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ نریندر سنگھ بالی نے بتایا کہ ’انتظامیہ اس بات سے بخوبی با خبر ہے کہ موسم برسات کے دوران بالخصوص ضلع ڈوڈہ میں پانی کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو کئی ایک جگہوں پر خاک آلود پانی نلوں سے آتا ہے ، محکمہ اس مسئلہ کے حل کے لئے منصوبہ بندی کر رہا ہے تو کہ لوگوں کو پینے کے لائق پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے ۔‘‘انہوںنے بتایا کہ ضلع میں مختلف فلٹریشن پلانٹوں کی تجدید کاری اور مرمت کا کام ہاتھ میں لیا گیا ہے اور متعدد مقامات پر نئے فلٹریشن پلانٹ تعمیر کئے جا رہے ہیں ۔