بھاٹہ دھوڑیاں انکائو نٹر ،زیر حراست جنگجو ہلاک | فائرنگ میں3سیکورٹی اہلکار زخمی ،تلاشی مسلسل جاری

مینڈھر //مینڈھر کے بھاٹہ دھوڑیاں جنگلا ت میں جاری انکائونٹر نے ایک ڈرمائی صورت اختیار کرلی ہے جس کے دوران ایک زیر حراست ملی ٹینٹ لقمہ اجل جبکہ دو پولیس اہلکاروں سمیت 3اہلکار زخمی ہو گئے ۔انکائونٹر کے دسویں روز تلاشی مہم کے دوران موقعہ پر لیا گیا ایک زیر حراست ملی ٹینٹ ہلاک ہو گیا جبکہ فائرنگ میں تین مزید فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں ۔ہلاک ہوئے ملی ٹینٹ کی شناخت ضیا مصطفیٰ سکنہ رولاکوٹ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے طورپر ہوئی ہے جبکہ مذکورہ ملی ٹینٹ کو 2003میں گرفتار کیا گیا تھا ۔سرکاری ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بھاٹہ دھوڑیاں کے ناڑ کس علاقہ میں شروع ہوئے انکائونٹر میں ہوئی ہلاکتوں کے بعد پولیس کی جانب سے ایک مقدمہ زیر ایف آئی آر نمبر 107/2021درج کر کے تحقیقات شروع کی گئی تھی ۔انہوں نے بتایا کہ زر دفعا ت 302،307،120بی آئی پی سی اور 7/25/26آرمی ایکٹ کے تحت شروع کئے گئے مقدمے کی تحقیقات کے دوران کئی افراد کو حراست میں لیا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران سیکورٹی ایجنسیوں کو خدشہ ہوا کہ مذکورہ ملی ٹینٹ جو موبائل فون نمبر استعمال کررہے تھے اس کا لنک ضیا مصطفیٰ سے ملتا تھا جوکہ اس وقت کوٹ بلوال جیل جموں میں قید تھا ۔انہوں نے بتایا کہ تحقیقا ت کے سلسلہ میں سیکورٹی ایجنسیوں نے مذکورہ ملی ٹینٹ کو 10دنوں کی ریمانڈ پر لے کر سنیچرکو مینڈھر منتقل کیا تھا ۔پولیس کو تحقیقات کے دوران کچھ اہم سراغ بھی ملے تھے ۔انہوں نے بتایا کہ اتوار کی صبح جموں وکشمیر پولیس اور فوج کی ایک ٹیم نے ملی ٹینٹ کو انکائونٹر کی جگہ پر لیا تاکہ جنگل میں موجود ملی ٹینٹوں کی کمین گاہ کا سراغ لگایا جاسکے تاہم اسی دوران کی ئی فائرنگ میں دو پولیس اور ایک فوجی اہلکار کے علاوہ زیر حراست ملی ٹینٹ بھی زخمی ہو گیا لیکن اس کو موقعہ سے بھاری فائرنگ کی وجہ سے بچایا نہ جاسکا ۔زخمی اہلکاروں کو موقعہ سے بازیاب کر کے علاج معالجہ کیلئے منتقل کیا گیا ۔زخمیوں کی شناخت دلیپ کمار اور اشفاق احمد کے طورپر ہوئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ بعد میں زخمی ملی ٹینٹ بھی مردہ پایا گیا جبکہ اس کی لاش کو باز یاب کروالیا گیا ہے ۔ایک سنیئر پولیس آفیسر نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے تحقیقات کے سلسلہ میں انکائونٹر والی جگہ پر منتقل کئے گئے گرفتار ملی ٹینٹ بھاری فائرنگ کی وجہ سے ہلاک ہوگیا جبکہ اس دوران فوجی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں ۔اس دوران دسویں روز بھی جنگلات میں تلاشی مہم مسلسل جاری رہی ۔