بھاری برفباری کی پیش گوئی کا ردعمل

سرینگر / محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق شمالی کشمیراور شہر کے متعدد علاقوں میں جمعہ کی شام سے ہی ہلکی برف باری شروع ہو گئی ۔محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سونم لوٹس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جمعہ کی صبح سے ہی وادی میں ہلکی برفباری ہوگی اور پھر اس میں اضافہ ہو گا ۔سونم لوٹس کے مطابق 20سے لیکر 23تک بھاری برف باری ہو گی جس سے زمینی اور فضائی رابطہ مسدود ہو سکتے ہیںاسکے بعد موسم میں بتدریج بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ سرینگر جموں شاہراہ سمیت وادی کی دیگر کئی سڑکیں بھی بند ہوسکتی ہیں۔
محکمہ کی جانب سے جاری ایڈوائزری کے بعد انتظامیہ نے لنگوٹے کس لئے ہیں او ر یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ مکمل طور پر متحرک ہے تاکہ برف باری کے دوران لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔محکمہ بجلی کے چیف انجینئر قاضی حشمت نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا بھاری برف باری کے باعث بجلی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اُن کی پہلی ترجیح  بجلی سپلائی کو بحال کرنے کی ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں ہوئی بھاری برف باری کے باوجود محکمہ نے 12گھنٹوں میں بجلی بحال کر دی تھی ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ نے ہر ضلع اور تحصیل مقامات پر کنٹرول روم قائم کئے ہیں اور محکمہ کے ملازمین نے بھی اپنی طرف سے تیاری کرلی ہے ۔
چیف انجینئر آر اینڈ بی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ موسمیات کی ایڈوائزری جاری ہونے کے بعد محکمہ مکمل طور پر متحرک ہے اور برف ہٹانے کیلئے 400مشینوں کو کام پر لگایا جائے گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ کی پہلی ترجیح ہسپتالوں ، فائر اینڈ ایمرجینی سروس ،میڈیکل انسٹی چوٹ کی طرف جانے والی سڑکوں کو کھولنے کی ہو گی اور اُس کے بعد رابطہ سڑکوں سے برف ہٹائی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ نے ہر ضلع میں کنٹرول روم قائم کر رکھے ہیں تاکہ لوگوں کو برف باری کے دوران کوئی مشکلات پیش نہ ہوں ۔محکمہ خوراک ورسدات کے صوبائی ڈائریکٹر محمد قاسم وانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وادی کے دور دراز اور بالائی علاقوں میں پہلے سے ہی چاول ، آٹا ، رسوئی گیس اور مٹی کے تیل ذخیرہ کیا گیا ہے جبکہ وادی کے راشن گھاٹوں پر بھی وافر مقدار میں راشن موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ راشن کے حوالے سے لوگوں کو کسی بھی قسم کی کوئی مشکلات نہیں ہو نگی۔ محکمہ پی ایچ ای کے چیف انجینئر عبدالواحد نے کشمیر عظمیٰ کوبتایا کہ برف باری کے دوران پانی کی سپلائی متاثر نہیں ہوتی، البتہ بجلی کے متاثر ہونے سے کچھ ایک جگہوں پر پانی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے اور اس کیلئے محکمہ نے پہلے ہی ڈی جی سیٹ تیاری کی حالت میں رکھے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کے ملازمین مکمل طور پر متحرک ہیں اور ہر ضلع میں کنٹرول روم بھی قائم کئے گئے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ برف باری کے دوران پانی کی سپلائی  اگر کسی جگہ متاثررہی تو محکمہ نے اس کیلئے 107پانی کے ٹینکر رکھے ہیں جس میں سے 98متواتر کام کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں کو کسی جگہ پر کوئی بھی مشکلات ہوں تو وہ اُن کے ذاتی فون نمبر 9419176829پر بھی رابطہ قائم کر سکتے ہیں ۔محکمہ ڈزاسٹر منیجمنٹ کے ڈائریکٹر عامر علیٰ نے بتایا کہ محکمہ تیاری کی حالت میں ہے ۔بھاری برف باری کے پیش نظر صوبائی انتظامیہ نے وارننگ جاری کرتے ہوئے بالائی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کھانے کی چیزیں ذخیرہ کرکے رکھیں اور برفباری کے دوران اْدھر ادھر گھومنے کی کوشش نہ کریں۔انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنروں کو آگاہ کیا ہے کہ امکانی برفباری کے دوران لوگوں کی نقل و حمل کو متاثر نہ ہونے دینے کے لئے عملے کو تیار رکھیں۔ صوبائی انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی ہدایت میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ مال مویشیوں کے ساتھ ساتھ باغات اور کھیت کھلیانوں کو نقصان سے بچانے کا بھی خیال رکھیں جبکہ بالائی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ  برفباری کے دوران چٹانین یا پسیاں گر آنے کے خدشے کے پیش نظرعبورومرور میں احتیاط سے کام لیںتاکہ امکانی صورتحال کے دوران کسی قسم کا جانی نقصان نہ ہو جائے۔ صوبائی کمشنر نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کھانے کی چیزیں ذخیرہ کرکے رکھیں اور برفباری کے دوران اْدھر ادھر گھومنے کی کوشش نہ کریں۔۔