بھارت چین سرحدی مذاکرات

نئی دہلی//ہندوستان اور چین کی فوجوں کے درمیان بات چیت کے 14 ویں دور میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور دونوں فریقین نے قریبی رابطے میں رہنے اور بات چیت کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا تاکہ بقیہ مسائل کا باہمی طور پر قابل قبول حل نکالا جا سکے۔ مشترکہ بیان کے مطابق ہندوستانی فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نروانے نے بدھ کے روز کہا تھا کہ ہندوستان مشرقی لداخ میں پیٹرولنگ پوائنٹ 15 ہاٹ اسپرنگس کے 14 ویں دور کی بات چیت میں علیحدگی سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے پر امید ہے۔14ویں دور کی ہندوستان-چین کور کمانڈر سطح کی میٹنگ بدھ کو چشول-مولڈو سرحدی میٹنگ پوائنٹ پر چین کی طرف ہوئی۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں دونوں اطراف کے دفاعی اور خارجہ امور کے اداروں کے نمائندے موجود تھے۔"دونوں فریقوں نے مغربی سیکٹر (لداخ بارڈر) میں ایل اے سی کے ساتھ متعلقہ مسائل کے حل کے لیے کھل کر اور گہرائی سے خیالات کا تبادلہ کیا۔انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں فریقوں کو "ریاستی رہنماں کی طرف سے فراہم کردہ رہنمائی" پر عمل کرنا چاہیے اور بقیہ مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔"یہ نوٹ کیا گیا کہ اس سے مغربی سیکٹر میں ایل اے سی کے ساتھ ساتھ امن و سکون کی بحالی میں مدد ملے گی اور دو طرفہ تعلقات میں پیشرفت کو ممکن بنایا جائے گا"۔اس میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقوں نے پچھلے نتائج کو مستحکم کرنے اور مغربی سیکٹر میں بشمول موسم سرما کے دوران زمین پر سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے موثر کوششیں کرنے پر بھی اتفاق کیا۔"دونوں فریقوں نے قریبی رابطے میں رہنے اور فوجی اور سفارتی چینلز کے ذریعے بات چیت کو برقرار رکھنے اور بقیہ مسائل کے جلد از جلد ایک باہمی طور پر قابل قبول حل پر کام کرنے پر اتفاق کیا۔"بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کمانڈروں کی بات چیت کا اگلا دور جلد از جلد ہونا چاہیے۔مذاکرات کا 13 واں دور گزشتہ سال 10 اکتوبر کو ہوا تھا اور یہ تعطل کا شکار ہو کر ختم ہو گیا تھا۔