بھارت پاک سلامتی مشیر بات کریں: عمر

 جموں // سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کارگذار صدر عمر عبداللہ نے ہندو پاک قومی سلامتی مشیروں کے در میان مذاکرات کی پر زور وکالت کر تے ہو ئے کہا کہ کنٹرول لائن اور بین الاقوامی سرحد پر گولہ باری بندہو نی چاہئے ۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اجیت دوول اپنے پاکستانی ہم منصب نا صر جنجوا کو فون کر کے گولہ باری کے نہ تھمنے والے سلسلے کو دونوں اطراف سے بند کر نے پر بات کریں گے۔ عمر عبداللہ نے جموں میں صحافیوں سے بات کر تے ہو ئے کہا کہ اب بس ہو گیا ،لائن آ ف کنٹرول پر شدید گولہ باری کے تبادلے میں قیمتی جانوں کا زیاں ہو رہا ہے ۔عمر عبداللہ نے کہا کہ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سر حدپر گولہ باری کا سلسلہ بند ہو نا چاہئے اور اس سلسلے میں دو نوں ملکوں کو اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے تھائی لینڈ میں ہندو پاک سیکورٹی ایڈوائزروں کے در میان در پر دہ مزاکرات پر بات کر تے ہو ئے کہا کہ وہاں پر کیا بات چیت ہوگی اور کن مسائل پر بات ہو رہی ہے ،ابھی دو نوں ملک سیز فائر معاہدے کی پاسداری کر نے میں ناکام ہیں اور ہمیں امید ہے یہ سلسلہ تھم جانا چاہئے ۔انہوں نے دو نوں ملکوں کے در میان مذاکرات پر زور دیتے ہو ئے کہا کہ تشدد میں کسی مسئلے کا حل مضمر نہیں ہے لہٰذا آج نہیں تو کل ہمیں مذاکرات کے ذریعے سے ہی مسائل کا حل نکالنا ہو گا ۔ادھر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور ممبر اسمبلی کنگن میاں الطاف احمد نے سرحدی گولہ باری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سرکار پرالزام عائد کیا کہ وہ سرحدی علاقوں میں مقیم آبادی کی جان ومال کی حفاظت کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے ۔ اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے میاں الطاف احمد نے کہا کہ گولہ باری کی وجہ سے پونچھ سے لیکر کٹھوعہ تک لوگ پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام لوگ اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی بے گناہ مر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سرکار کو یہ دیکھنا چاہئے کہ سرحدی آبادی کس مشکلات سے دوچار ہے ۔میاں الطاف نے کہا کہ سرکار پچھلے تین برسوں سے یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ سرکار لوگوں کو سرحدی علاقوں میں مورچے تعمیر کرے گئی پانچ پانچ مرلے زمین فراہم کئے جائیںلیکن یہ سارے دعویٰ ناکام ہوئے ہیں۔