بھارت میں فرقہ بندی کا طوفان بپا

سرینگر//نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا  ہے کہ  ہندوستان میں ایک طوفان بپا ہے جہاں فرقوں کو تقسیم کیا جارہا ہے، اگر اسے فوری طور پر روکا نہیں جاتا تو ملک قائم نہیں رہ سکتا۔ باغات گرودوارہ  میںگزشتہ دنوں قتل ہونے والی سکول پرنسپل سپندر کور کی انتم ارداس کے موقعہ پر ڈاکٹرعبداللہ نے کہا’’ یہ ایک طوفان ہے جس نے پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے،مسلمانوں ،سکھوں، اور ہندئوں کو پورے ملک میں تقسیم کیا جارہا ہے،اگر یہ تقسیم کی سیاست بند نہیں ہوئی تو ملک قائم نہیں رہے گا‘‘۔انہوں نے کہا’’کشمیر کبھی بھی پاکستان کا حصہ نہیں بنے گا اور ہمیشہ بھارت کے ساتھ ہی رہے گا ،چاہے میں رہوں یا نہ رہوں‘‘۔   انہوں نے کہا ، "وہ (عسکریت پسند) مجھے تبدیل نہیں کر سکتے چاہے وہ مجھے گولی مار دیں،ہم سب کو مل کر ہمت کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنا ہے اور خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ایک اساتذہ جو نوجوان طالب علموں کو تعلیم کے نور سے منور کرتی تھی، اسے قتل کرنا اسلام کی خدمت نہیں ہے‘‘ ۔کشمیر میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا: ’ہمیں ان کا مقابلہ کرنا ہے، ہمت نہیں ہارنی ہے ان سے ڈرنا نہیں ہے، یہ لوگ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے‘۔دویندر سنگھ رانا اور سرجیت سنگھ سلاتھیہ کے پارٹی سے مستعفی ہونے کے بارے میں پوچھے جانے پر ڈاکٹر فاروق نے کہا: ’جماعت میں لوگ آتے جاتے رہتے ہیں یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے‘۔