بھارت میں سولہ کروڑ لوگ شراب پیتے ہیں

نئی دہلی//بھارت میں تقریبا 16 کروڑ لوگ، تقریبا 6ئ14 فیصد آبادی شراب پیتے ہیں اور ان میں سے پانچ کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ لوگ اس کے عادی ہوچکے ہیں اور سنگین مسائل سے دوچار ہیں ۔ اس کے علاوہ شراب پینے والے مردوں کی تعداد خواتین کے مقابلے 17 گنا زیادہ ہے ۔نیشنل ڈرگ انحصار تشخیصی مرکز اور نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کی ایک رپورٹ ‘میگنی ٹیوڈ آف سبسٹینس یوز ان انڈیا’ میں یہ باتیں سامنے آئیں ہیں۔ یہ رپورٹ پیر کے دن یہاں مرکزی سماجی انصاف وزیر تھاور چند گہلوت کو سونپی گئیں۔ اس موقع پر مرکزی وزیر مملکت برائے سماجی انصاف وجے سانپلا اور وزارت کے سینئر افسران موجود تھے ۔ قومی سطح پر کرائے گئے اس سروے میں 10 برس سے 75 برس کی عمر کے لوگوں کو شامل کیا گیا ہے ۔سروے کے مطابق شراب پینے والے میں سے 30 فیصد دیسی شراب اور 30 فیصد انگریزی شراب پیتے ہیں۔ تقریبا 2ئ5 فیصد لوگ شراب پینے کے عادی ہوچکے ہیں اور سنگین مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔ ان لوگوں کو اپنے مسائل سے نمٹنے کے لئے فوری امداد کی ضرورت ہے ۔سروے کے مطابق چھتیس گڑھ، تریپورہ، پنجاب، اروناچل پردیش اور گو ا میں سب سے زیادہ لوگ شراب پیتے ہیں۔ان ریاستوں میں 10 فیصد سے زیادہ آبادی شراب پیتی ہے ۔ سروے میں پورے ملک کے 186 ضلعوں کے دو لاکھ 111 گھر شامل کئے گئے ہیں اور چار لاکھ 73 ہزار 569 لوگوں کو شامل کیا گیا۔سروے میں پایا گیا ہے کہ لوگ نشے کے لئے شراب، بھنگ، گانجا، افیم، کوکین، ہیروئین اور مختلف کیمیائی اشیا کا استعمال کرتے ہیں۔ تقریبا 8ئ2 فیصد یا 1ئ3 کروڑ لوگوں نے گزشتہ 12 مہینوں کے دوران بھنگ، گانجا اور چرس کا استعمال کیا ہے ۔ تقریبا 72 لاکھ لوگ نشیلی اشیا کا استعمال کرنا ترک کرنا چاہتے ہیں اور ان کو مدد کی ضرورت ہے ۔زیادہ لوگ چرس اور گانجا کے بجائے بھنگ کا استعمال کرتے ہیں۔ اس قسم کے نشیلی اشیا کے استعمال اترپردیش ، پنجاب ، سکم، چھتیس گڑھ اور دہلی میں زیادہ ہوتا ہے ۔قومی سطح پر تقریبا 60 لاکھ لوگ افیم کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کا استعمال ہیروئین کے طور پر ہوتا ہے ۔ نشیلی اشیا کا استعمال کرنے والوں میں سے 14ئ1 فیصد لوگ اس کا استعمال کرتے ہیں۔ اترپردیش، پنجاب، ہریانہ، دہلی، مہاراشٹر، راجستھان، آندھرا پردیش اور گجرات میں افیم کا استعمال زیادہ ہوتا ہے ۔ آبادی کے حساب سے میزروم، ناگالینڈ، اروناچل پردیش، سکم، منی پور، پنجاب، ہریانہ اور دہلی میں زیادہ لوگ افیم کا استعمال کرتے ہیں۔کیمیائی اشیا کا استعمال 18ئ1 لوگ کرتے ہیں۔ ان میں کچھ طبی استعمال بھی شامل ہے ۔ ان میں سے تقریبا چار لاکھ 60 ہزار بچوں اور 18 لاکھ بالغوں کو فوری امداد کی ضرورت ہے ۔ اترپردیش، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، دہلی اور ہریانہ میں اس کے اثرات زیادہ ہیں۔قومی سطح پر تقریبا ساڑھے آٹھ لاکھ لوگ انجکشن کے ذریعہ کیمیائی اشیا کا استعمال کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تعداد اترپردیش، پنجاب، دہلی، آندھرا پردیش، تلنگانہ، ہریانہ، کرناٹک، مہاراشٹر، منی پیور اور ناگالینڈ میں زیادہ ہے ۔یو این آئی