بھارت اگلے سال جی 20کی صدارت سنبھالے گا | جے شنکر کی انڈونیشیا ئی ہم منصب کیساتھ بات چیت

نئی دہلی//وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بدھ کو انڈونیشیا کے وزیر خارجہ آر مرسودی کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے علاوہ میانمار اور افغانستان کی صورتحال پر بات چیت کی۔انڈونیشیا اس وقت جی-20 گروپ کی سربراہی کر رہا ہے جبکہ بھارت اگلے سال یہ ذمہ داری سنبھالنے جا رہا ہے ۔مسٹر جے شنکر نے ایک ٹویٹ کرکے کہا،‘انڈونیشیا کے وزیر خارجہ کے ساتھ نئے سال کے آغاز پر اچھی بات چیت ہوئی۔ دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ میانمار اور افغانستان پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ جی 20 ممالک کے گروپ میں مل کر کام کریں گے ’۔ادھر وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بدھ کو مالدیپ کے وزیر خارجہ عبداللہ شاہد سے ٹیلی فون پر بات کی اور کہا کہ دونوں فریق دو طرفہ تعاون میں پیشرفت کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اوراس کے باہمی فائدے نظر آرہے ہیں۔انہوں نے نئے سال کے موقع پر مالدیپ کی حکومت اور اس کے عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔  جے شنکر نے ٹویٹ کیاکہ وزیر خارجہ عبداللہ شاہد کے ساتھ بات چیت کے دوران دو طرفہ تعاون میں ہونے والی پیش رفت کی اہمیت کا ذکر کیا گیا۔ اس کے باہمی فائدے بخوبی نظر آتے ہیں۔ مالدیپ کی حکومت اور عوام کو نیا سال مبارک ہو۔ہندوستان مالدیپ میں متعدد ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہا ہے ، جس میں50کروڑ کا ایک بڑا بنیادی ڈھانچہ منصوبہ بھی شامل ہے ۔ اس پر پچھلے سال دستخط ہوئے تھے ۔ اس کے تحت مالدیپ میں 6.74 کلومیٹر طویل پل بنایا جائے گا جو مالدیپ کے دارالحکومت مالے کو کئی جزیروں سے جوڑے گا۔ یہ پروجیکٹ ممبئی کی کمپنی ‘افکونس’کے ذریعے شروع کیا جا رہا ہے ۔دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مالدیپ میں حکمران اتحاد میں شامل عدالت پارٹی نے سابق صدر عبداللہ یامین کی طرف سے بھارت کی مخالفت کے خلاف آواز اٹھائی ہے ۔ پارٹی نے کہا ہے کہ چین کی حمایت میں پیش پیش رہنے والے سابق صدر کی طرف سے چلائی جانے والی ہندستان مخالف مہم سے مالدیپ بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ پڑ جائے گا۔ اس سے ملک کے لوگوں کو بہت نقصان پہنچے گا۔