بھارت اور پاکستان کے درمیان عملی تبادلہ خیال

بیجنگ//چین نے سوموار کوکہا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ ’’عملی تبادلہ خیال‘‘پر’’خوش‘‘ہے جواس بات کا عکاس ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ علاقائی امن،استحکام اور ترقی کیلئے ’’مزیدمثبت توانائی‘‘کے ساتھ کام کرناچاہے گا۔25فروری کو بھارت اور پاکستان کی فوج نے اعلان کیا کہ انہوں نے جموں کشمیر میں حدمتارکہ اور دیگر سیکٹروں میں جنگ بندی معاہدے پرسختی سے عمل کرنے پراتفاق کیا ہے ۔اس کے ہفتوں بعد پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور فوج کے سربراہ جنرل قمر جوادباجوہ نے نئی دہلی کے ساتھ دوستانہ تعلقات بنانے کی خواہش کااظہار کیااورکہا یہ وقت ہے کہ دوہمسایہ ملک ’’ماضی کو دفن کرکے آگے بڑھ جائیں‘‘۔  چینی وزارت خارجہ کے ترجمان زیائو لیجیان نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ،’’ہم بھارت اور پاکستان کے درمیان عملی تبادلہ خیال پرخوش ہیں‘‘۔انہوں نے کہا ،’’ہم پاکستان کے ساتھ علاقائی امن اوراستحکام کو بنائے رکھنے کیلئے مزید مثبت توانائی کے ساتھ کام کرنا چاہیں گے۔زیائو پاکستانی صدر عارف علوی کے اس بیان کہ چین پاکستان کا سب سے قریبی دوست ہے،پر اپنے ردعمل کااظہار کررہے تھے۔انہوں نے علوی کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے تنائو دور کرے کیلئے ہندپاک کے درمیان حالیہ بات چیت کاذکر کیا۔ انہوں نے کہا ،’’چین پاکستان کو82ویں یوم پاکستان پردل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہے ۔ ہمارایقین ہے کہ پاکستانی حکومت اور لوگ ملک کی تعمیر وترقی کیلئے مزید کام کریں گے اور چین پاکستان کے صدر عارف علوی کے بیان کا تہہ دل سے خیرمقدم کرتا ہے۔زیائو نے کہاچین دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری کی بھی قدر کرتا ہے ۔ترجمان نے کہا کہ چین پاک سفارتی تعلقات کے70 سال مکمل ہونے پر پاکستان کے ساتھ کروناوائرس کا مقابلہ کرنے کیلئے تعاون میں مزید توسیع کا خواہاں ہے۔