بھاجپا کی سخت گیر پالیسی مکمل فلاپ

سرینگر// نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ بھاجپا نے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کیلئے وادی کو آگ کے شعلوں کی نذر کردیا ہے جبکہ جموں میں فرقہ پرستی کے رجحان کو ہوا دی۔ اُن کا کہنا تھا کہ آج یہاں جو کچھ ہورہا ہے اُس کا خاکہ آر ایس ایس نے کھینچا ہے ، یہ لوگ ریاست جموں وکشمیر کو ٹکڑوں میں بانٹنا چاہتے ہیں اور اس کیلئے یہ لوگ ہمیں مذہب، زبان اور علاقائی بنیادوں پر لڑوانے کی مذموم کوششیں کررہے ہیں۔یہ لوگ ریاست کے مسلم کردار کو ہر سطح پر زک پہچانے اور آبادیاتی تناسب بگاڑنے کی سازشیں بھی کر رہے ہیں۔ ان کا یہی ارادہ رہا ہے کہ مسلمانانِ ریاست کو کس طرح اقلیت میں تبدیل کیا جائے ۔انہوں نے ریاستی و مرکزی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ عوام کیخلاف جاری ظلم و تشدد اور مار دھارڈ کا سلسلہ فوری طور پر بند کرکے افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ4سال سے جاری سخت گیر پالیسی نہ صرف ناکام ہوئی ہے بلکہ اس کے تباہ کن نتائج سامنے آئے ہیں۔ حضرت بل میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وادی کے موجودہ حالات کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق پی ڈی پی بھاجپا حکومت نے مرکز کی غلط پالیسیوں کو من و عن ریاست میں عملایا، جس کا نتیجہ ہم آج بخوبی زمینی سطح پر دیکھ سکتے ہیں۔