بھاجپا کو جموں و کشمیر کی فلاح و بہبود سے کوئی لینا دینا نہیں: نیشنل کانفرنس

سری نگر// بھاجپا نے جموں وکشمیر کو اپنی ووٹ بینک سیاست کیلئے ایک آزمائش گاہ بنا رکھا ہے جبکہ حقیقی معنوں میں انہیں جموں وکشمیر کے عوام کی فلاح وبہبود کیساتھ کوئی لینا دینا نہیں جس کا برملا ثبوت مرکزی کابینہ میں منظور کئے گئے بجٹ سے بخوبی ملتا ہے۔
 
ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا.
 
انہوں نے م مرکزی بجٹ کو جموں وکشمیر کیلئے مایوس کُن قرار دیتے ہوئے کہا کہ 5اگست 2019کے مرکز کے غیر سنجیدہ اور غیر دانشمندانہ فیصلوں اور مسلسل کورونا لاک ڈاﺅن سے جہاں یہاں کا ہر ایک شعبہ زوال پذیر ہے
 
وہیں اُمید کی جارہی تھی کہ سالانہ بجٹ میں جموں وکشمیر کے کلیدی شعبوں کو فروغ دینے کیلئے کسی پیکیج کا اعلان کیا جائیگا اور ساتھ ہی بے روزگاری کے پر قابو پانے اور تعمیر و ترقی کیلئے بجٹ میں کچھ خاص ہوگا لیکن بجٹ میں ایسا کچھ نہیں ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال بھی مرکزی بجٹ میں جموں وکشمیرکیلئے کچھ بھی نہیں رکھا گیا تھا۔ گذشتہ سال مرکز بجٹ میں جس گیس پائپ لائن کا ڈھنڈورا پیٹا تھا لیکن اُسکا اعلان 2011ہی کیا گیاتھا۔ترجمان نے سوال کیا کہ وزیر اعظم نے جموں و کشمیرکیلئے 80ہزار کروڑ روپے پیکیج کا اعلان کیا تھا وہ کہاں گئے؟ وہ 80ہزار کروڑ کب اور کہاں خرچ کئے گئے؟
 
 
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کیلئے ایمز، آئی آئی ٹی اور سنٹریل یونیورسٹیوں کے اعلانات کئے گئے لیکن ابھی تک ان پر کام شروع کیوں نہیں کیا گیا؟انہوں نے کہا کہ 5اگست کے بعد جموں وکشمیر میں غیر یقینی صورتحال اور کورونا لاک ڈاﺅنوں سے زندگی کا ہر ایک شعبہ بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔
 
تجارت ہو، سیاحت ہویا دوسرے شعبہ جات، نیز ہر ایک شعبہ شدید مالی خسارے سے دوچار ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ اقتصادیات اور مالیات لوگوں کے جذبات اور احساسات کا نعم البدل نہیں ہوسکتے تاہم لوگوں کے احساسات اور جذبات کی قدر کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی کی زندگی معیاری بنانا حکومت کا فرض ہوتا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ مرکزی بجٹ پیوندکاری کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جموں وکشمیر کیلئے جو بجٹ پیش کیا گیا ہے اُس میں جموں وکشمیر کیلئے مختص رکھے گئے رقومات بالکل ناکافی ہیں۔
 
انہوں نے کہاکہ حالات کی خرابی، قبل از وقت برفباری اور ایرانی سیبوں کی درآمد سے یہاں کی میوہ صنعت کو گذشتہ برسوں کے دوران بہت زیادہ نقصان اُٹھانا پڑا ہے ۔
 
یہاں تک کہ قبل از برف باری کو حکومتی سطح پر قدری آفت بھی قرار دیا گیالیکن یہ سب کچھ کاغذوں تک ہی محدود رہا اور زمینی سطح پر مالکانِ باغات کو زخموں پر نمک پاشی کے برابر امداد دی گئی۔
 
توقع کی جارہی تھی کہ مرکزی بجٹ میں جموں وکشمیر کی میوہ صنعت سے جڑے افراد کیلئے کوئی خاص اعلان کیا جائیگا لیکن مرکز نے اس جانب بھی اپنی آنکھیں موندھ لی۔
 
ترجمان نے کہا کہ بجٹ میں دستکاروں، کاریگروں، ہنرمندوں کیلئے کچھ بھی نہیں رکھا گیا حالانکہ یہ طبقہ جی ایس ٹی کے اطلاق سے نان شبینہ کے محتاج بن گئے ہیں جبکہ گذشتہ اڑگائی سال کی گراں بازاری نے اس طبقہ کی کمر مکمل طور پور توڑ کر رکھ دی ہے۔
 
ترجمان نے صدرِ جمہوریہ نے گذشتہ سال کی تقریر دہرائی اور جموں وکشمیرمیں اُن پروجیکٹوں کا ذکر کیا جو سابق حکومتوں کے دوران قائم کئے گئے ہیں۔