بھاجپا کا ’پیسہ پھینکو کھیل دیکھو‘ زیادہ دیر تک نہیں چلے گا

ریاست کی خصوصی پوزیشن کیساتھ کھلواڑ کرنے کی دونوں جماعتیں مرتکب : فاروق 

 
اوڑی// نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کیساتھ کانگریس اور بھاجپا نے جو چھیڑ چھاڑ کی، جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال اسی کی وجہ سے پیدا ہوئی اور یہ دونوں پارٹیاں اس صورتحال کی ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ آجکل بی جے پی جس طرح لوگوں کو خرید نے کیلئے رقوم کا استعمال کررہی ہے بالکل اسی طرح کانگریس بھی کیا کرتی تھی، لیکن جس طرح کانگریس کی پالیسی نہیں چلی اسی طرح بھاجپا کا  یہ کھیل بھی نہیں چلے گا۔انہوں نے کہا’’بی جے پی آج اُسی طرح یہاں پیسے پھینک رہی ہے جیسے ماضی میں کانگریس پھینکتی تھی، یہ لوگ چندافراد کا ایمان پیسوں سے خرید سکتے ہیں لیکن سب کا ایمان بکائو نہیں ہوتا،آج کل نت نئی جماعتیں بھاجپا کے پیسوں کی بنا پر اچھل کود کررہی ہیں لیکن یہ سب زیادہ دیر چلنے والا نہیں، ہم نے ماضی میں بھی اس قسم حالات و واقعات دیکھے ہیں‘‘۔

کانگریس

کانگریس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ ہماری ریاست کی خودمختاری کو جتنا نقصان کانگریس نے پہنچایا اُتنا کسی اور نے نہیں ۔ یہ کانگریس ہی تھی جس نے 9اگست 1953کو شیخ محمد عبداللہ کو غیر آئینی اور غیر جمہوری طوربحیثیت وزیر اعظم فوج کے بل بوتے پر گرفتار کروا کے ریاست کو بے چینی کی نذر کردیا۔ اس کے بعد کانگریس نے یہاں کٹھ پتلی حکومتیں قائم کرکے ریاست کو اندرونی خودمختاری کے تحت حاصل مراعات کو ایک ایک کرکے ختم کردیا۔ کانگریس کی ان غلطیوں کا خمیازہ آج تک یہاں کے لوگ بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزکو اہل ریاست کا اعتماد اور بھروسہ جیتنے کرنے کیلئے جموںوکشمیر کو دفعہ370کے تحت حاصل خصوصی مراعات کو بحال کرنا چاہئے۔

غدار اور بھی نکلیں گے

 اوڑی میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ماضی میں بڑے بڑے طوفانوں کا سامنا کیا ہے اور ہمیشہ سرخرو ہوکر سامنے آئی ہے ، مستقبل میں بھی مشکلات آئیں گے اور عوامی اشتراک سے ہم ان کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ شیر کشمیرکو جن لوگوں نے دھوکہ دیا اُن کا آج کوئی نام لینے والا بھی نہیں، مستقبل میں بھی دھوکے باز اور غدار نکلیں گے لیکن جماعت اپنے مشن کی اور رواں دواں رہے گی۔انہوں نے کہا کہ ظلم و ستم کا یہ دور بھی نہیں رہے گا، اس کا بھی انجام جلد ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو اس وقت جن مشکلات کا سامنا ہے وہ بھی ختم ہوجائیں گی۔مشکلات سے کبھی کبھی مایوسی آجاتی ہے لیکن ہمیں چیلنجوں کا ڈٹ کا مقابلہ کرنا چاہئے۔

ہندو پاک مذاکرات

نئی دلی اور اسلام آباد پر مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈ نکالنے کیلئے زور دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے دونوں ممالک سے اپیل کی کہ اس دیرینہ مسئلہ کو سلجھانے کیلئے ایک با معنی ، ٹھوس اور بے لوث مذاکراتی عمل شروع کیا جانا چاہئے تاکہ آر پار جموں وکشمیر کے عوام کو ہمیشہ کیلئے مصائب اور مشکلات سے نجات مل سکے۔ اس سے قبل ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق ایم ایل سی محمد اسلم بانڈے کے گھر واقع سلام آباد اوڑی جاکر تعزیت کی اورڈھارس بندھائی۔