بھاجپا طرز عمل پر وزیر اعلیٰ کی مجرمانہ خاموشی :گیلانی

سرینگر//حریت (گ)چیئر مین سید علی گیلانی نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی طرف سے کٹھوعہ کی معصوم آصفہ کی اغوا کاری اور جنسی زیادتی کی شکار ہونے کے بعد اس کے سفاکانہ قتل پر کی گئی مجرمانہ خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی عوام کو اس ٹھوس حقیقت کے حوالے سے کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہوسکتا کہ یہاں کی حکومت کنٹرول ناگپور سے ہی چلائی جارہی ہے۔ گیلانی نے کہا کہ ایک ایسی حکومت ریاست میں امن وامان کو بحال کرنے کی دہائی کیسے دے سکتی ہے، جس کے کابینہ درجہ کے وزراء خود اپنے قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہوں۔ حریت رہنما نے کہا کہ کٹھوعہ کے رسنا علاقے میں دفعہ 144کے نفاذ کے باوجود بی جے پی کی طرف سے ایک عوامی جلسہ کا انعقاد سرکاری غنڈہ گردی کی بدترین مثال ہے۔حریت رہنما نے اس امر پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس حکام کی موجودگی میں دفعہ 144کی خلاف ورزی کے مرتکب ریاستی حکومت سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے وزراء اپنی اشتعال انگیز زبان میں معصوم آصفہ کے قبیلے کو خوف وہراس میں مبتلا کرکے قتل کے مقدمے سے دستبرداری دینے کے لیے سرکاری غنڈہ گردی کا کھلم کھلا استعمال کررہے ہیں۔ حریت رہنما نے اس امر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب جب بھی یہاںپر آصفہ کے قتل جیسے شرمناک جرائم کا ارتکاب ہوا تو ان پر پردہ ڈالنے کے لیے CBIکو درمیان میں لاکر ایسے معاملات ان کے حوالے کردئے گئے ہیں، جن کا حشر دیکھتے ہوئے عوام کو مزید فریب نہیں دیا جاسکتا ہے۔ حریت رہنما نے عوام سے دردمندانہ اپیل کی کہ حریت پسند عوام کے لیے ایسی حکومتوں سے قطع تعلق کرنا ناگزیر بن گیا ہے جو بجلی، پانی، سڑک کے لیے حاصل کئے گئے ووٹ کا استحصال کرنے میں کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔