بھاجپا تاریخ کے دوراہے پر

ستیہ   پال ملک کو این این ووہرا کی جگہ ریاست جموں و کشمیر کا گورنر مقرر کیا جانا موجودہ حالات کے تناظر میں ایک اہم واقعہ ہے جونئی دہلی کی سوچ اور پالیسی سے متعلق کئی اشارے دے رہا ہے ۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ سابق گورنر این این ووہرا کئی باتوں میں مرکز ی قیادت کے ساتھ اختلاف بھی کرتے تھے اور اپنے نقطہ نظر پر قائم بھی رہتے تھے جس میں دفعہ 35اے بھی شامل ہے اور انہیں اس اہم اور نازک موڑ پر تبدیل کرنے سے یہ تاثر عام ہوا کہ نئی دہلی روایتی سخت گیری کی ضد پر قائم ہے، اسی لئے انہیں گورنر کے عہدے سے ہٹادیا گیا حالانکہ ان کی ٹرم پوری ہوچکی تھی اور وہ عمر کے اس پڑائو پر تھے جہاں وہ خود ذمہ داریوں سے چھٹکارا چاہتے تھے ۔پھر بھی اگر یہ تاثر واقعی درست ہوتا تو ان کی جگہ کسی ایسی شخصیت کو لایا جاتا جو خود سخت گیرانہ مزاج کا ہی حامل ہوتا اور نئی دہلی کی ہاں میں ہاں ملانے سے اسے کوئی قباحت نہ ہوتی۔
 ستیہ پال ملک ایک وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ چالیس سالہ سیاسی تجربہ بھی رکھتے ہیں، اس لئے یہ بات بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ گزشتہ آدھی صدی سے زیادہ عرصہ گزرا جب ریاست کے گورنر کے عہدے کیلئے کسی سیاسی شخصیت کا انتخاب نہیں کیا گیا ۔ اس عرصے میں خفیہ اداروں کی اہم اور تجربہ کار شخصیات کو زیادہ ترجیح دی گئی جس کے پیچھے یہ سوچ کار فرما تھی کہ وہ ریاست کے حالات کو قابو کرنے میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔چنانچہ غالب خیال یہ تھا کہ دفعہ 35اے کیخلاف عرضیوں سے پیدا شدہ بحران کے بیچ خفیہ اداروں کے ہی کسی رکن یا فوج کی کسی ریٹائرڈ شخصیت یا بی جے پی کے کسی اہم لیڈر کو اس عہدے پر تعینات کیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا ۔
بہار میں گورنر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ستیہ پال ملک کا انتخاب کیا گیا جنہوں نے کانگریس میں شمولیت سے اپنے سیاسی کیریر کا آغار کیا تھااور بعد میں جنتاپارٹی میں بھی شامل ہوئے ۔ وہ ممبر پارلیمنٹ بھی رہے اور وی پی سنگھ کی حکومت میں پارلیمانی امور اور سیاحت کے وزیر بھی رہے اور پھر وہ بی جے پی میں بھی شامل ہوئے ان کے طویل کیریر میں کہیںبھی انتہا پسندانہ سوچ یا سخت گیری کی جھلک موجود نہیں ۔اس سے یہ عندیہ ضرور ملتا ہے کہ نئی دہلی ملی ٹنسی کیخلاف سخت گیرانہ اپروچ کی اپنی پالیسی پر کاربند ہونے کے ساتھ سیاسی عمل پر بھی آمادہ ہے جیسا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری رام مادھو نے بھی کہا ہے کہ ستیہ پال ملک ریاست میں سیاسی عمل شروع کرنے کیلئے موزون شخصیت ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی جڑا ہوا ہے کہ کیا دفعہ 35اے سے متعلق بی جے پی کا عقیدہ تبدیل ہوچکا ہے ۔یہ بات اب بی جے پی کی اعلیٰ قیادت بھی سمجھ سکتی ہے کہ اگر اس دفعہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہوئی تو کشمیر میں ایسی آگ لگ سکتی ہے جس میں کسی سیاسی عمل کا ذرا بھی امکان باقی بچنا ممکن نہیں لیکن اس دفعہ کیخلاف جو نئی عرضیاں خود بی جے پی کے ارکان کی طرف سے داخل ہورہی ہیں وہ یہ ظاہر کرنے کیلئے کافی ہیں کہ یہ عقیدہ اپنی جگہ قائم ہے ۔
 اس جماعت کی رگوں میں یہ عقیدہ رچا ہوا ہے کہ مسلم اکثریتی ریاست کا خصوصی درجہ ہندو راشٹر کے سینے میں ایک چھید سے کم نہیں اس لئے اسے باقی نہیں رکھا جاسکتا اور پھر انتخابات بھی سرپر آرہے ہیں اور بھاجپا کے پاس لے دے کے چند مدعے ہی ہاتھ میں رہ گئے ہیں جن میں ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور رام جنم بھومی سب سے اہم مدعے ہیں جن پر ہندو ووٹ کو یکجا کیا جاسکتا ہے تاہم یہ کوئی آساں کام بھی نہیں۔ بی جے پی حالیہ ایام میں اچھی طرح سے سمجھ چکی ہے کہ اس دفعہ کو ہٹانے کے اندرونی اور بیرونی سطح پر تباہ کن اثرات خود اس پارٹی کے وجود کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں ،ساتھ ہی اسے یہ احساس بھی ہوچکا ہے کہ 35اے کیخلاف فوری طور پر فیصلہ آنے کے امکانات بہت محدود ہیں ۔ جیسا کہ سرکردہ تجزیہ نگار کرشن دیو سیٹھی ،جو آئین ساز کمیٹی کے ممبر بھی رہے ہیں، نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے دوبار دفعہ 35اے کیخلاف عرضیاں مسترد کردی ہیں اور اب کیسے اس کے خلاف فیصلہ دیا جاسکتا ہے ۔
اس صورتحال میں یہ رائے اپنی جگہ بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ بھاجپا اس قانونی جنگ میں شدت پیدا کرکے ہی ہندو ووٹ بینک کو متاثر کرنا چاہتی ہے ۔انتخابات تک یہ مدعا زندہ رہے اور شورشرابے کا موقع باقی رہے، یہی کافی ہے کیونکہ اس دفعہ کے ختم ہونے یا اس کے خلاف جارحانہ عمل کے بغیر اس کے باقی رہنے دونوں میں بی جے پی کو اس موقعے پر نقصان نظر آرہا ہے ۔دفعہ 35اے کے ساتھ آنے والے انتخابات کیلئے بھاجپا کے کئی منصوبے دھرے رہ گئے ہیں اوروہ اس وقت بڑی بے چارگی کے عالم میں نئی حکمت عملیاں تیار کررہی ہے۔
بھاجپا قیادت کے سامنے پاکستان میں موجودہ سیاسی تبدیلی بھی اس موقعے پر اگلے سال ہونے والے انتخابات کے پیش نظر بے چینی کا باعث ہے ۔ تحریک انصاف کی کامیابی اور عمران خان کے وزیر اعظم بن جانے کے بعد پاکستان کی طرف سے کوئی ایسی بات نہیں ہوئی جو بھارت کو ایسا مخالفانہ ردعمل ظاہر کرنے کا موقع دے سکتی جو اسے اپنے ووٹ بینک کو منظم اور متحدہ کرنے میں مددگار ثابت ہوتی۔بنی گالہ میں عمران خان کا پہلا بیان حکومت ہند کو مسائل حل کرنے کیلئے مذاکرات کی دعوت تھی ۔حکومت ہند کے پاس اس کا خیر مقدم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا لیکن اس نے ایسا بھی نہیں کیا ۔ عمران خان کے حکومت سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کی پہلی تقریر میں نہ مسئلہ کشمیر کا کوئی ذکر تھااور نہ ہند وستان کا ۔وزیر اعظم ہند نریندر مودی کی طرف سے پاکستان کے وزیر اعظم کو مبارک بادی کے خط میں دونوں ملکوں کے درمیان رابطے کی محتاطط بات تھی جس پر پاکستان کے نئے وزیر خارجہ نے اپنی پہلی پریس بریفنگ میں کہا کہ بھارت کی طرف سے مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے ۔ بھارت نے اس کی فوری طور پر تردید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی دعوت نہیں دی گئی، بامعنی رابطوں کا ذکر کیا گیا تھا حالانکہ مذاکرات اور رابطوں میں کتنا بڑا فرق ہے یہ آج تک کوئی نہیں سمجھ سکا ہے ۔درحقیقت اس موقعے پربھارت کی قیادت یہ تاثر دینا ہی نہیں چاہتی کہ وہ پاکستان کے ساتھ ٹکرائوکی صورتحال سے باہر نکل رہی ہے جبکہ پاکستان اسے ٹکرائو کی صورتحال کو برقرار رکھنے کا کوئی جواز فراہم نہیں کررہا ہے ۔ نوجوت سنگھ سدھو کے پاکستان کے فوجی سربراہ سے گلے ملنا ایک واحد موقعہ ہاتھ آیا جسے بی جے پی لیڈران اچھال کر اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔اس سے پہلے پاکستان کی طرف سے متواتر طور پر جو بیانات آرہے تھے ،وہ بی جے پی قیادت کو بڑے مواقع فراہم کررہے تھے کہ وہ ہندوتوا کے جذبات بھڑکاسکیں لیکن اب ایسا بالکل بھی نہیں ہورہا ہے ۔پاکستان کی موجودہ قیادت سیاسی دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے بہت محتاط ہے اور غالباً وہ انتخابی عمل مکمل ہونے تک احتیاط برقرار رکھے گی تاکہ انتخابات پر کوئی اثر نہ پڑسکے ۔
اس صورتحال نے بھاچپا قیادت کو بڑے مخمصے میں گرفتار کیا ہے اور وہ جو بھی فیصلے کررہی ہے آدھے ادھورے من کے ساتھ کررہی ہے۔ریاست کیلئے نئے گورنر کا انتخاب بھی اسی آدھے ادھورے من کا فیصلہ ہے جس کے پیچھے نہ سیاسی عمل شروع کرنے کا قطعی فیصلہ ہے اور نہ ہی سیاسی عمل شروع نہ کرنے کا وچار ہے ۔پاکستان کی نئی قیادت کے ساتھ بھی ڈیل کرنے کی بھی کوئی ٹھوس پالیسی کہیں نظر نہیں آرہی ہے۔ایک طرف ملک کے اندر ملی ٹینسی کی صورتحال، کرنسی کی گرتی ہوئی ویلیو اور بیرونی سطح پر کشمیر کی صورتحال کا دبائو ،پاکستان کی طرف سے مذاکرات کی دعوت اور تعلقات کی بہتری کا موقعے کا فایدہ اٹھانے پر مجبور کررہا ہے تو دوسری طرف انتخابی مہم میں اس کے نقصانات کا حساب بھی لگایا جارہا ہے ۔بی جے پی نے پہلے بھی پاکستان مخالف جذبات اور ریاست جموں و کشمیر کے خصوصی درجے کیخلاف جارحانہ سوچ کے ساتھ مسلم مخالف جذبات کو سہارا بنا کر ہندو ووٹ اپنے حق میں کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے اور آج اسی لئے وہ مجبور ہوچکی ہے کہ ایسی کوئی بات نہ کرے جس سے سابق حکمت عملی کی نفی ہو ۔ یہ اس کی مجبوری بن چکی ہے اس لئے وہ تاریخ کے ایسے دوراہے پر پہنچ چکی ہے جہاں دونوں طرف اسے اپنے لئے کھائی دکھائی دے رہی ہے ۔اسی لئے وہ ہیجان میں مبتلا ہے اوراہم ترین معاملات پر بھی کوئی ٹھوس قومی پالیسی نہیں بنا پارہی ہے ۔اس کے سامنے عالمی حالات ہیں ، کشمیر کا دہکتا ہوا لاوا ہے ، پاکستان کی نئی قیادت کا نرم رویہ ہے ، قومی مفاد ہے ، پارٹی کا وجود ہے اور 2019کا انتخاب ہے۔وہ کس کو اہمیت دے اور کس کو نظر انداز کرے ،یہ فیصلہ وہ ابھی نہیں کرپارہی ہے اس لئے جو بھی کررہی ہے آدھی ادھوری سوچ اور آدھے ادھورے من کے ساتھ کررہی ہے ۔  
( بشکریہ ہفت روزہ نوائے جہلم سرینگر)
