بھاجپا اور آر ایس ایس جمہوریت پر حملہ کر رہے ہیں:راہل گاندھی

سرینگر//راہل گاندھی نے کہا کہ ”جب ہم پارلیمنٹ میں بولتے ہیں تو ہمارا مائک بند کر دیا جاتا ہے، یہ ہم سے ڈرتے ہیں، کیونکہ ہم پارلیمنٹ میں سوال پوچھتے ہیں۔”کرناٹک اسمبلی انتخاب جیسے جیسے قریب آ رہا ہے، سیاسی لیڈروں کا کرناٹک دورہ بھی تیز ہوتا جا رہا ہے۔ بی جے پی اور کانگریس دونوں ہی قومی پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران ریاست میں انتخابی مہم کا حصہ بن رہے ہیں۔ انتخابی تشہیر میں اب کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی بھی پیش پیش نظر آرہے ہیں۔ آج انھوں نے کرناٹک کے بیدر ضلع میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی پر خوب حملے کیے۔ انھوں نے کہا کہ ”آج پورے ہندوستان میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ جمہوریت پر حملہ کر رہے ہیں۔ بی جے پی اور آر ایس ایس ہندوستان میں نفرت اور تشدد کو فروغ دے رہے ہیں۔”راہل گاندھی نے کرناٹک انتخاب کے پیش نظر لوگوں سے وعدہ کیا کہ ریاست میں جو بھی وزیر اعلیٰ بنے گا، وہ پہلے دن ہی کیے گئے وعدوں کو پورا کرے گا۔ حالانکہ اس دوران انھوں نے یہ انکشاف نہیں کیا کہ وزیر اعلیٰ کون ہوگا۔ اپنی تقریر کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ ”ہندوستان کے وزیر اعظم او بی سی کا بھلا نہیں چاہتے۔ 2011 میں یو پی اے حکومت کے دوران ذات پر مبنی مردم شماری ہوئی تھی، لیکن مودی حکومت نے اس مردم شماری کی رپورٹ کو جاری نہیں کیا۔ مردم شماری کی یہ رپورٹ سب کے سامنے ا?نی چاہیے۔” انھوں نے ریزرویشن میں 50 فیصد کیپ کو ہٹا دیئے جانے کا مطالبہ بھی کیا۔