بھاجپاحکومت عوامی شکایات کاازالہ کرنے میں ناکام

سری نگر// 5 اگست 2019 کے بعد مجموعی طور پر مرکزی سرکار کی جانب سے تعمیر و ترقی کے بلند بانگ دعوئوں کے باوجود بی جے پی سرکار لوگوں کی شکایات کو دور کرنے میں ناکام رہی ہے جبکہ یو پی اے اوریوپی اے IIکے دور میں جو ترقیاتی عمل جموں و کشمیر میں شروع کیا گیا اس کو بہت بڑا دھچکا لگ گیا ہے۔ان باتوں کا اظہار  جموں و کشمیر کے لئے اے آئی سی انچارج رجنی پاٹل نے پلوامہ دورے کے دوران پارٹی کارکنوں سے خطاب کے دوران کیا۔کے این ایس کے مطابق رجنی پاٹل جموں کشمیر کے پانچ روزہ دورے پر آئی ہیں اور سنییجروارکووہ پلوامہ اور سرینگر اضلاع میں تنظیمی امور اور دیگر سرگرمیوں کے علاوہ موجودہ صورتحال کا جائزہ لے رہی تھیں، تاہم دورے کے دوران انہوں نے جے کے پی سی سی کے صدر جی.اے. میر اور دیگر سینئر رہنماؤں اور پارٹی کارکنوں کے ساتھ بات چیت کی اور دونوں اضلاع میں پارٹی کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا۔ رجنی پاٹل نے ضلع پلوامہ اور سرینگر میں پارٹی ورکروں سے بات چیت کے دوران کارکنوں پر زور دیا کہ وہ مرکزی سرکار کی عوام دشمن اور غلط پالیسیوں کے خلاف متحدہ جدوجہد کریں تاہم انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں معاشی نقصانات کی وجہ سے لوگوں میں بے چینی اور شدید اضطرابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔اے آئی سی سی انچارچ رجنی پاٹل نے کہا کہ جموں و کشمیر میں یو پی اے کے دور میں شروع کئے گئے ترقیاتی عمل کو بی جے پی کی سربراہی والی سرکار میں کافی دھچکا لگ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں مرکزی سرکار کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بے روزگاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور لوگوں کو بہت بڑا معاشی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن بدقسمتی سے لوگوں کی شکایات کے بڑھتے ہوئے رجحان کو کم کرنے میں مرکزی سرکار ناکام ہورہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں مایوسی اور پریشانی بڑھ گئی ہے اور لوگوں کو یہ سمجھ آگیا ہے بی جے پی حکومت ان کی آواز نہیں سن رہی ہے اوربی جے پی حکومت کی طرف سے غلط کاموں کو چھپانے کے لئے لوگوں کی آواز کو دبایا جارہا ہے۔ رجنی پاٹل نے کہا کہ مرکزی سرکار کی جانب سے لمبے لمبے دعوے صرف کاغذوں تک ہی محدود ہوکے رہ گئے ہیں اور اصل میں حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی حکومت لوگوں کے مسائل حل کرنے میں پوری طرح ناکام ہو چکی ہے اور یہ مکمل حقیقت ہے کہ حکومت اس سلسلے میں کوئی پروگرام یا پالیسی سامنے نہیں لارہی ہے۔  اس موقعہ پر جموں کشمیر  کانگریس صدر جی اے میر اور دیگر کئی سینئر لیڈران نے بھی خطاب کیا اور بی جے پی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ کئی ایک سیاسی کارکنوں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔