بکروال۔زندگی کی متحرک قوت اعتماد ہے

بکروال بھارت،پاکستان کے علاوہ یورپ،افریقہ، منگولیا اور افغانستان کے مختلف علاقوں میں بستے ہیں۔ یہ لوگ پانچویں صدی میں نقل مکانی کر کے ہندستان آئے اور کئی علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ بکروال ہر سال ایک دفعہ پہاڑوں کا سفر کرتے ہیں اور سردی کے آغاز سے ہی گرم علاقوں کا رخکرنا شروع کردیتے ہیں۔ہر شخص انہیں تجسُس بری نظروں سے دیکھتا ہے اور انکی تصاویر بناتا ہوا نظر آتا ہے۔
موسم سرما کا آغاز ہوتے ہی وادی کشمیر کے مختلف پہاڑی سلسلوں بشمول سونمرگ، پہلگام، بنگُس وادی جیسے ٹھنڈے علاقوں سے خانہ بدوشوں کے قافلے ہزاروں بھیڑ، بکریوں اور گھوڑوں کے کارواں لیکر پیر پنجال کی طرف رواں دواں ہو جاتےہیں۔ مسلسل گردش میں رہنے کے باوجود بکروالوں کا ایک مضبوط خاندانی نظام ہے۔ نومبر سے لے کر مارچ تک انکے لئے فراغت اور سکون کے دن ہوتے ہیں۔ شادی شدہ بیٹیاں گھر آکر ماں باپ سے دکھ درد بانٹتی ہیں، سارا خاندان اکھٹا ہو جاتا ہے۔ منفرد لباس اور حیثیت کو دہائیوں سے قائم رکھنے والے خانہ بدوش قدوکا ٹ کے لمبے اورتندرست شکل وصورت کے مالک ہوتے ہیں ۔
مارچ کی صبح بہار کی دستک دے کر آتی ہے، موسم بدلا تو جیون بدلا تو بدلی دکھ اورسکھ کی دارا۔ جتھے میں لوگ آئے تھے ضروری نہیں وہ سب واپس بھی جائے۔ کچھ لوگ زندگی کا یہ سفر تمام کرکے رخصت ہوئے، کچھ نئے مہمان اس ڈگر کا حصہ بنے، یہ وقت کا بہاؤ ہے۔ روز کتنا سفر کرنا ہے ،کس طرح جانا ہے، کہاں پڑاؤ ڈالنا ہے، کہا رات بسر کرنی ہے، نئے دور سے طے شدہ نظام خانہ بدوش کو اپنی راہوں سے ہٹنے نہیں دیتا۔ کارواں دو جتھوں میں چلتےہیں ۔ایک جتھا اندرونی راستوں سے ہوتاہوا آگے چلتا ہے۔ عورتیں ، بزرگوں اور بچوں پر مشتمل دوسرا جتھا اپنے مال اور اسباب ِ زندگی سمیت محوِ سفر ہوتا ہے۔ پانی کے کنارے خیمے لگاکر کھانے پینے کا انتظام کیا جاتا ہے۔
گرمیوں میں پیر پنجال کے مختلف علاقوں سے آنے والے خانہ بدوشوں کی بڑی تعداد وادی کشمیر کے ٹھنڈے علاقوں میں اپنے مال مویشی لے کر آتے ہیں اور سردی کے آغاز میں واپس گرم علاقوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ خانہ بدوش زندگی کے اس سفر سے مطمئن ہے۔ خدا کی زمین لامحدود ہےاور انکی ضرورتیں محدود۔ رات بھر کے آرام کے بعد اگلی صبح قافلہ اپنی منزل کی راہ لیتا ہے۔ یہ طویل ہجرت روزانہ دس سے پندرہ کلو میٹر کی مسافت سے طے ہوتی ہے۔
نئی زندگی نئی امنگ کے ساتھ انکا رخ وادی کشمیر کی طرف ہے، کہیں کشمیر کے پہاڑوں پر انکو ٹھنڈا موسم پریشان کرتا ہے تو کہیں طوفانی بارشیں۔ یہ لوگ اپنی اس زندگی سے تنگ نہیں آتے بلکہ یہ لوگ اس سفر بھری زندگی کو اپنے باپ دادا کی وراثت سمجھ کے آگے بڑھائے جا رہے ہیں اور اپنی اس میراثِ زندگی پر فخر کرتےہیں۔ خانہ بدوش سینکڑوں کی جنڈ میں نہ صرف ہر جانور کو پہچانتا ہے، اُسے خصوصی نام سے پکارتا ہے بلکہ ہر جانور بھی اپنےمالک کے ہر اشارے کو سمجھتا ہے۔
خانہ بدوشوں کا اصل تہذیب و تمدن اور رہن سہن انکے پڑاؤ کے دوران ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ ان لوگوں نے اپنے قدیم رسم ورواج کو زمانے کی تیز رفتاری میں کھونے نہیں دیا۔ ان کی شادیاں باقی لوگوں سے مختلف ہوا کرتی ہے۔ یہ لوگ رشتہ آپس میں ہی کرتے ہیں۔ شادی کی تقریبات بڑی سادگی سے کی جاتی ہے اور دو سے تین پکوان تیار کئے جاتے ہیں۔ خانہ بدوشوں کی شادیوں میں پتھر اُٹھانے کی روایت صدیوں سے چلی آرہی ہیں، جسے ان کی زبان میں’’ بدھ کر‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس دوران’’ بدھ کر‘‘ اٹھانے والے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ 
بچے پڑھ لکھ کر کیا کریں گے، پڑھ لکھ کر اپنے باپ دادا کا کام چھوڑ تو نہیں دینگے؟ یہی سوالات خانہ بدوشوں کی تعلیم سے محرومی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ جدید ٹیکنولوجی کی یلغار اور معاشی دباؤ نے خانہ بدوشوں کی قدیم تہذیب بلکہ انکے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انکی نئی نسل خانہ بدوشی ترک کرکے مستقل آبادکاری اور دوسرے پیشیوں کی طرف مائل نظر آتی ہے۔
  زندگی کے ہر ذائقہ کو چک کر اور ہر رنگ میں ڈھل کر زمانے سے گزر نا ہی اصل زندگی ہے۔ ہر انسان پیدائشی خانہ بدوش ہوتا ہے اور یہ دنیا محض وقتی پڑاؤہے۔