! بڑھتی فضائی آلودگی اور کشمیر  | آنے والی نسلوںکیلئے کچھ اچھا چھوڑ کر تو جائیں

بڑے پیمانے پر پھیپھڑوں کے کینسر اور پھیپھڑوں کی دیگر دائمی بیماریوں کا باعث بننے والی فضائی آلودگی صحت کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔کسی زمانے میں فضائی آلودگی سے محفوظ سمجھا جانے والا کشمیر اب وہ کشمیر نہیں رہا ہے جہاں کی ہوائیں روح کو تازہ کردیتی تھیں۔ اگر ڈاکٹروں اور دیگر ماہرین کے انکشافات کو دیکھا جائے تو ماحولیاتی محاذ پر معاملات درست سمت میں نہیں بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر میں سالانہ دس ہزار اموات صرف فضائی آلودگی کی وجہ سے ہورہی ہیں۔اس کا براہ راست اثر لوگوں کی صحت اور تندرستی پر پڑ رہا ہے۔ یہ بہت واضح ہے کہ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر وہ توجہ نہیں دی جا رہی جس طرح انفرادی اور اجتماعی سطح پر ہونی چاہیے تھی۔ اس کے مضر اثرات بہت زیادہ نظر آتے ہیں۔ڈاکٹروں کے مطابق، سری نگر شہر میں پھیپھڑوں کے کینسر کے ملک میں سب سے زیادہ واقعات ہیں اور جموں و کشمیر میں پھیپھڑوں کی دائمی بیماریوں کا بہت زیادہ بوجھ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فضائی آلودگی ایسی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ یہ صحت کے محاذ پر ایک سنگین منظر کی نمائندگی کرتا ہے۔اگر اس وقت آلودگی کی وجہ سے لوگوں کی صحت اس حد تک متاثر ہو رہی ہے تو مستقبل میں کیا صورتحال ہو سکتی ہے؟ فضائی آلودگی کو کم کرنے کیلئے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صحت کے محاذ پر صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ لیکن اس مقصد کے لیے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا جا رہا۔ایسا لگتا ہے کہ انفرادی، برادری اور حکومتی سطح پر مختلف ترجیحات ہیں۔ اس سنگین مسئلے کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسے نظر انداز کرنا سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ فضائی آلودگی کے بارے میں بڑے پیمانے پر لوگوں میں بیداری پیدا کی جانی چاہئے۔پھر ضروری اقدامات پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بائیو ماس کو جلانا کشمیر میں فضائی آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ آلودگی کے دیگر ذرائع میں سیمنٹ فیکٹریوں اور اینٹوں کے بھٹوں کا غیر منظم قیام اور سری نگر و دیگر قصبوںکی سڑکوں پر گاڑیوں کا بڑھتا ہوا ٹریفک شامل ہیں ۔ڈاکٹروں کا یہ انکشاف کہ سری نگر شہر میں پھیپھڑوں کے کینسر کے واقعات ملک میں سب سے زیادہ ہیں۔ اس وقت کشمیر میں باہر کی طرح بڑے پیمانے پر صنعتیں نہیں ہیں۔ یہاں صنعت کاری کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اگر ایسا ہوتا ہے تو، مناسب خیال رکھنا چاہئے تاکہ ہوا مزید آلودہ نہ ہو۔ اس سمت میں تمام حفاظتی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام ذرائع سے آلودگی کو کم کرنے کیلئے حکمت عملی مرتب کرناہوگی۔ ان حکمت عملیوں کو زمینی سطح پر بھی نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔بعض اوقات بہترین منصوبے بھی کاغذوں پر ہی رہ جاتے ہیں اور ان پر موثر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ فضائی آلودگی کو کم کرنا ہر گزرتے دن کے ساتھ بہت ضروری ہوتا جا رہا ہے۔اگریہ سنگین مسئلہ مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا تو سری نگر اور کشمیر کے دیگر قصبے بھی فضائی آلودگی کے اعلیٰ درجے کی جگہوں کے زمرے میں آ سکتے ہیںجو کسی بھی طور کوئی خوش کن صورتحال نہیں ہوگی ۔اس سے پہلے کہ وہ صورتحال درپیش ہو،ہمیں چاہئے کہ ہم آج ہی جاگ جائیں اور فضائی آلودگی کم کرنے کے اقدامات کریں۔سالانہ دس ہزار اموات کوئی مذاق نہیں ہے اور یہ کشمیر میں بدلتے ماحولیاتی منظر نامہ کی عکاسی کرتا ہے ۔ہمیں غور کرلینا چاہئے کہ آخر اتنا کیا ہوا کہ ہمارے یہاں فضائی آلودگی اس حد تک بڑھ گئی ہے ورنہ ہم ماحولیاتی آلودگی سے بالکل نامانوس تھے اور کشمیر تازہ اور صاف ہوائوں کے لئے پوری دنیا میںجانا جاتا تھا ۔اگر یہاں فضائی آلودگی یونہی بڑھتی رہی تو نہ صرف اس کے نتیجہ میں ہونے والی اموات میں اضافہ ہوتا رہے گا بلکہ یہ ہماری معیشت پر بھی مارکرے گا کیونکہ جب دہلی کی طرح کشمیر میں بھی فضائی آلودگی کی وجہ سے دم گھٹنے لگے گا تو شاید ہی کوئی سیاح کشمیر کا رخ کرنا پسند کرے گا اورجب ہمارے کرتوت کی وجہ سے فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھتی چلے جائے گی تو کشمیر وہ کشمیر ہی نہیں رہے گا جس کیلئے یہ جانا جاتا ہے ۔سیاحت نہ رہے گی تو معیشت کا پہیہ جام ہوجائے گا جو بالآخرغربت پر منتج ہوگی۔اس طرح اپنی غلطیوںکا خمیازہ ہمیں جانی و مالی نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔اگر ہم یہی چاہتے ہیں تو شوق سے فضائی آلودگی بڑھاتے چلے جائیں لیکن اگر ہم اس کے روادار نہیں ہیں تو ہمیں بھی بدلناہوگا ۔سرکار اقدامات کرے گی اور کرنے ہی ہونگے لیکن جب تک عوام خود باشعور نہیں ہوگی ،سرکاری اقدامات کارگر ثابت نہیں ہونگے ۔امید کی جانی چاہئے کہ ہم اپنی غلطیوںپر نادم ہوکر اپنی آنے والی نسلوں کو بدصورت نہیں بلکہ خوبصورت کشمیر وراثت میں منتقل کریں گے۔