بڑھتی آبادی کے ساتھ ساتھ آب نکاس کی پریشانیاں | گول میں سڑکیں زیر آب، لوگ شدیدپریشانیوں میں مبتلا

گول// گول میں بڑھتی آبادی کے ساتھ ساتھ آبِ نکاس کی پریشانیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ گول کی سڑکیں ، پکڈنڈیاںتمام بارشوں کے دوران زیر آب ہو جاتی ہیں جس وجہ سے پیدل چلنے والے لوگوں کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ وہیں مقامی آبادی بھی کافی پریشان ہے کیونکہ پانی رہائشی مکانو ں کے ساتھ ساتھ زرعی اراضی میںچلا جاتاہے جس سے نقصان ہوتا ہے ۔ گول بازار کے ملحقہ جات میں نئی تعمیر کے دوران آب نکاس کاکوئی خیال نہیں رکھا گیا ہے جس وجہ سے بارشوں کے دوران سارا پانی کھیتوں اورآبادی والے علاقوں میں چلا جاتا ہے ، وہیں سڑکوں کی تعمیر کے دوران بھی آب نکاس پر ٹھیکیدار حضرات اور محکمہ جات کوئی توجہ نہیں دیتے اور سالہا سال سے انتظامیہ سے التجاء کے با وجود کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا ہے ۔ گول تتا پانی سڑک ، گول بائی پاس سڑک، گول جابہ سڑک ، گول جمن سڑک کے علاوہ دیگر سڑکوں پر آبِ نکاس کا کوئی بندوبست نہیں ہے ۔ اگر چہ کئی سڑکوں کی نالیاں بنائی ہیں ،لیکن ٹھیکیداروں نے کا م کے دوران جو ملبہ ڈالا ہے اُسے اُٹھایا نہیں گیا جس وجہ یہ ملبہ نالیوں میں پڑا ہوا ہے ۔ وہیں عام لوگ بھی برابر کے قصور وار ہیںکیوں کہ جو تعمیراتی میٹریل سڑک کے کنارے ذخیرہ کیا جاتا ہے اُسے مہینوں اور سال بھر نہیں اُٹھایا جاتا ہے جس وجہ سے پانی سڑکوں پر آ جاتا ہے ۔ اگر چہ کئی ہفتے پہلے گول انتظامیہ نے وٹس ایپ پر ہی حکم نامہ جاری کیا تھا اور لوگوں کو ہفتے کے اندر اندر سڑک کے کنارے میٹریل اُٹھانے کو کہا تھا لیکن نہ ہی لوگوں نے اس وٹس ایپ حکم نامے پر کوئی عمل کیا اور نہ ہی انتظامیہ نے بعد میں اپنے حکم نامے کے تحت کوئی کارروائی عمل میں لائی جس کی وجہ سے آج بھی سڑ ک کے کنارے کئی جگہوں پر میٹریل پڑا ہوا ہے اور بارش کا پانی سڑکوں کے بیچوں بیچ چلتا ہے ۔ سنجیدہ فکر افراد کا کہنا ہے کہ  ضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ وٹس ایپ کے بجائے زمینی سطح پر کارروائی کر کے قصورواروں کے خلاف کارروائی کرے اور عام لوگوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے دوسروں کو اس سے مشکلات کا سامنا ہو ۔