بڈگام اور بارہمولہ میں تین سرگرم جنگجو اور ایک اعانت کار گرفتار: پولیس

سری نگر//جموں وکشمیر پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے بڈگام اور بارہ مولہ میں تین سرگرم جنگجو اور ایک معاون کو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے اسلحہ وگولہ بارود برآمد کرکے ضبط کیا ۔
 
پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وسطی ضلع بڈگام کے آرتھ گاوں میں ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد 2آر آر اور پولیس نے تلاشی آپریشن شروع کیا جس دوران لشکر طیبہ سے وابستہ ایک سرگرم جنگجو اور اُس کے ساتھی کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔
 
انہوں نے بتایا کہ سرگرم جنگجو کی شناخت یاسر مشتاق ولد مشتاق احمد اور اُس کے مدد گار کی پہچان عرفان بشیر ولد بشیر احمد ڈار ساکن آلہ پورہ بڈگام کے بطور ہوئی ہے۔
 
اُن کے مطابق گرفتا رشدگان کے قبضے سے ایک چینی گرنیڈ ، ایک اے کے میگزین ، 30 گولیوں کے راونڈ اور دوسرا قابل اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔
 
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ سرگرم جنگجو نے حال ہی میں ملی ٹینٹ تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی جبکہ عرفان بشیر اُس کی مدد و اعانت کے کام پر مامور تھا۔
 
ترجمان کے مطابق اس ضمن میں ایف آئی آر زیر نمبر 44/2022 کے تحت ایک کیس درج کے مزید تحقیقات شروع کی گئی ہے۔
 
علاوہ ازیں بارہ مولہ پولیس اور 32آر آر نے مشترکہ آپریشن کے دوران دو ہابئیرڈ ملی ٹینٹوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
 
پولیس ترجمان نے گرفتار ملی ٹینٹوں کی شناخت مزمل احمد ولد محمد رمضان شیخ اور محمد یاسین ولد غلام نبی ساکنان چاکلو بارہ مولہ کے بطور کی ہے۔
 
پولیس ریکارڈ کے مطابق دونوں 16 فروری 2022 کو لاپتہ ہوگئے تھے ۔
 
انہوں نے بتایا کہ اُن کی نشاندہی پر دو چینی پستول، دو میگزین، اور بارہ پستول گولیوں کے راونڈ برآمد کئے گئے ہیں۔
 
اُن کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران پتہ چلا ہے کہ دونوں پاکستان میں بیٹھے لشکر طیبہ کے کمانڈروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور یہ کہ جنگجو کمانڈروں کے کہنے پر ہی دونوں نے 16 فروری 2022 کو ملی ٹینٹ تنظیم میں شمولیت اختیار کی ۔
 
پولیس ذرائع کے مطابق پوچھ تاچھ کے دوران یہ بھی منکشف ہوا ہے کہ آنے والے دنوں کے دوران گرفتار ہابیئرڈ ملی ٹینٹ سیکورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
 
پولیس نے اس حوالے سے ایک کیس زیر نمبر 31/2022کے تحت کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کی ہے۔