بچی کھچی اٹانومی بھی چلی گئی

 سرینگر // عوامی اتحاد پارٹی کا مخلوط حکومت کی پالیسیوں اورجی ایس ٹی کے جموں وکشمیر میں اطلاق کیخلاف احتجاجی مارچ پولیس نے ناکام بناتے ہوئے متعدد کارکنان کو حراست میں لیا ۔جبکہ انجینئر رشید آدھے گھنٹے تک لالچوک میں تپتی دھوپ میں سڑک پر لیٹ کر احتجاج کرتے رہے۔بعد میں انہوں نے اکیلے سکریٹریٹ تک مارچ کیا اور گیٹ کے باہر کچھ منٹوں تک دھرنا دیا۔سکریٹر ٹ کے باہر ٹریفک جام مد نظر رکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری نے انہیں وہاں سے اٹھا کر سکریٹریٹ کے گیٹ کے اندر پہنچایا ۔بدھ کی صبح پونے دس بجے ممبر اسمبلی انجینئر رشید اپنے ورکروں کے ساتھ جہانگیر چوک میں نمودار ہوئے اور جی ایس ٹی اطلاق کے خلاف دھر نا دیا۔اس دورا ن کارکنان حق ہمارا رائے شماری ، مخلوط سرکار ہائے ہائے کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ انجینئر رشید کے ساتھ دھرنے پر بیٹھے متعدد کارکنان کو پولیس نے ایک ایک کر کے شہید گنج تھانے پہنچایا ۔اس موقعہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے رشید نے کہا کہ ’جموں کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے ،اسکا بھارت کی طرح ہی اپنا الگ آئین اور اپنے علیٰحدہ قوانین ہیں۔ سرکار کی نیت سے لگتا ہے کہ وہ جی ایس ٹی کی آڑ میں یہاں راست طریقے سے بھارتی قانون نافذ کرنا چاہتی ہے جس سے ریاست کی متنازعہ حیثیت متاثر ہوسکتی ہے۔انہوں نے ریاستی وزیر اعلیٰ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا’’ آپ جی ایس ٹی کا نفاذ کر کے ہماری بچی کھچی اٹانومی کو ختم نہیں کر سکتیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ جو نیشنل کانفرنس نے کیا اس سے بد تریہ سرکار کر رہی ہے اور اس کیلئے لوگ آپ کوکبھی معاف نہیں کریں گے ۔ انہوں نے ریاستی اور مرکزی سرکار پر تاپڑ توڑ حملے کرتے ہوئے کہا ’’ کشمیر ،گلگت بلتستان ،اور آزاد کشمیر متنازعہ علاقے ہیں اور اگر آپ کو واقعی ہماری تجارت کی فکر ہے تو ہمیں مظفرآباد سے وسطی ایشیاء تک تجارت کرنے کی اجازت دیجئے ہم یورپ تک تجارت کر سکتے ہیں لیکن یہاں آپ نے ہمیں غلام بنا کر رکھا ہے ۔‘‘انہوں نے کہا’’ ہم رائے شماری اور آزادی چاہتے ہیں لیکن یہاں سرکار بچی کھچی اٹانومی کو بھی ختم کر رہی ہے ،محبوبہ جی سلف رول کی باتیں کرتی تھیں لیکن جو آج محبوبہ مفتی کر رہیں کہ وہ سراسر غلط ہے ۔‘‘انہوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے تھے کہ بھارت کشمیر کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے اُن کی آواز سچ ثابت ہو رہی ہے اور اس سے لگتا ہے کہ دلی سرکار مسئلہ کشمیر کا صحیح حل نہیں چاہتی ۔انہوں نے کہا کہ کئی حریت لیڈران راجباغ تھانے میں بند ہیں کئی لیڈران کی دلی میں پوچھ تاچھ ہو رہی ہے ۔