بچیوں کیساتھ جنسی زیادتی: پھانسی کی سزا کا قانون لاگو

 سرینگر//  12سال سے کم عمر کی بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کو پھانسی کی سزا دئے جانے کے آرڈیننس پر ریاستی گورنر این این ووہرا نے جمعرات کو اپنے دستخط ثبت کرکے مسودے کو قانونی شکل فراہم کی۔اس سلسلے میں ریاستی گورنر نے محکمہ داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ قانون کو زمینی سطح پر عملانے کے لئے سخت اقدامات اُٹھائیں اور کیس کی روزانہ بنیادوں پر نگرانی انجام دیں۔جمعرات کو ریاستی گورنر این این ووہر نے کرمنل لا آرڈیننس 2018اور جموں اینڈ کشمیر پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکشول وائیولنس آرڈیننس 2018پر اپنے دستخط ثبت کرکے مسودے کو قانونی شکل دے دی۔ اس سے قبل 24اپریل کو ریاستی کابینہ نے موجودہ قانون میں تغیر و تبدیل کرکے بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے افراد کے ساتھ سختی سے نمٹنے کے لیے قانون کو متفقہ طور پر پاس کیا تھا۔ ریاستی اور بیرون ریاست خواتین اور بچیوں کے ساتھ ہورہی جنسی زیادتیوں کے حوالے سے سماج کے مختلف طبقات نے اپنی گہری تشویش کا اظہار کرنے کے تناظر میںکرمنل لا آرڈیننس 2018کی کئی شقوں میں تبدیلی لائی گئی جن میں رنبیر پینل کوڈ سموٹ 1989، کوڈ آف کرمنل پروسیجر سموٹ1989 اور ایویڈنس ایکٹ سموٹ 1977شامل ہیں۔ نئے قانون کے مطابق16سال سے کم عمر کی بچیوں کے ساتھ عصمت ریزی میں ملوث افراد کو 20سال کی قید یا سزائے موت دی جائے گی جبکہ12سال سے کم عمر لڑکیوں کے ساتھ عصمت دری میں ملوث افراد کو سزائے موت دی جائے گی۔ نئے قانون کے مطابق 16سال کی بچیوں کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کرنے والوں کو عمر قید کی سزا دی جائے گی جس کا اطلاق مجرم کی پوری زندگی پر ہوگا۔ اسی طرح 12سال تک کی لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی عصمت ریزی کے مرتکب افراد کو سزائے موت دی جائے گی۔قانون میں صاف بتایا گیاہے کہ ایسے کیسوں کی تحقیقات دو مہینوں کے اندر اندر ہوگی جبکہ کیس کی شنوانی کے لیے چھ ماہ مقرر کئے گئے ہیں ۔ نئے قانون کے مطابق اگر کیس کو کسی تکنیکی بنیاد پر چھ مہینوں میں مکمل نہ کیا گیا تو ایسے حالات میں متعلقہ ایجنسی ہائی کورٹ کو آگاہ کرے گی۔قانون کے مطابق ایسے کیسوں میں سرکاری وکیل کی جرح کو سنے بغیر مجرم کو ضمانت فراہم نہیں ہوگی۔ قانون کے مطابق ایسے کیسوں کی شنوائی تیز تر بنیادی پر مکمل کی جائے گی تاکہ متاثرین کو جلد از جلد انصاف مل سکے۔ نئے قانون میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ کیس کے دوران جو بھی معاوضہ مجرمین سے وصول کیا جائے گا وہ سرکاری خزانہ آمرہ میں جمع ہونے کے بجائے متاثرہ بچیوں کی بازآبادکاری پر خرچ کیا جائے گا۔ اس دوران کیس کو کسی آزادانہ اور شفاف بنیادوں پر اپنے انجام تک پہنچانے کے لیے کیمرہ بند کیا جائے گا۔اس سلسلے میں ریاستی گورنر این این ووہر نے محکمہ داخلہ کو مذکورہ قانون کو زمینی سطح پر عملانے کے لیے سخت اقدامات اُٹھانے پر بھی زور دیا ہے۔ گورنر نے محکمہ داخلہ کو کیس کی روزانہ بنیادوں پر نگرانی انجام دینے کی ہدایت بھی جاری کی ہیں۔ واضح رہے کٹھوعہ کے رسانہ علاقہ میںپیش آئے واقعہ کے تناظر میںریاست اور بیرون ریاست ہوئے احتجاج کے دوران لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واقعہ میں ملوث مجرموں کو سزائے موت دے جس کے بعد ریاستی کابینہ کا ایک ہنگامی اجلاس 24اپریل کو منعقد ہوا جس میں قانون کو منظور دی گئی۔واضح رہے ریاستی کابینہ سے قبل صدر ہند رام ناتھ کووند نے بھی مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کردہ آرڈیننس پر اپنی مہر ثبت کرکے عصمت دری کے مرتکب افراد کو سزائے موت دینے کا قانون تشکیل دیا۔