بچھوارہ کا11برس کا لڑکا

عاقب سلام
سرینگر//اغواکاری کے ایک بڑے واقعے کو ٹالتے ہوئے بچھوارہ ڈلگیٹ کے ایک 11برس کے لڑکے نے اغواء کار کے چنگل سے خود کوچھڑایا۔11سالہ لڑکے  موسی بن ارشدکے کنبے والوں نے بتایا کہ وہ گھر سے باہر گھوم رہاتھا جب یہ واقعہ پیش آیا۔موسی کے گھروالوں نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ یہ واقعہ سنیچرصبح ساڑھے نوبجے کے قریب پیش آیااورانہوں نے اچانک اپنے بیٹے کوگھر کے گیٹ کے باہر گم ہوتے پایااور اُس کی تلاش میں نکلے۔ کنبے کے ایک فرد افتخاراحمد نے بتایا کہ ہمارے بچے کو اسکول والدین اور اساتذہ کی میٹنگ کیلئے والد کے ساتھ جاناتھا اور وہ اچانک غائب ہوا۔ہم نے اُسے آس پاس ڈھونڈا اور اُسے ڈل گیٹ کی مین سڑک پر روتے ہوئے پایا۔انہوں نے کہا کہ بچے نے استفسار پر بتایا کہ وہ کہیں نہیں گیاتھا بلکہ گھر کے باہر ہی تھا کہ اس دوران ایک آدمی نے پیچھے سے آکر اُس کامنہ ڈھانپا اور اپنے ساتھ لے گیا۔بچے کے مزاحمت کرنے اُس نے اُسے مارا اور اپنے ساتھ کھینچ کر لے گیا۔تاہم بچے کے مطابق اُس نے اُسے کہنی سے پیٹ پر مارا،اوراس طرح ڈل گیٹ کی مرکزی سڑک پروہ خود کوچھڑانے میں کامیاب ہوا۔لڑکے والد نے بتایا کہ انہوں نے فوری طور پولیس سے رابطہ کیا اورانہوں نے انہیں یقین دلایا کہ وہ اس معاملے کی پوچھ تاچھ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ان کے بچہ بال بال بچ گیا اور وہ ذرائع ابلاغ پراس لئے آگئے تاکہ باقی والدین بھی چوکنا ہوجائیں اور ہرکوئی اپنے بچوں کی نگرانی کرے تاکہ انہیں کوئی اٹھا کر نہ لے جائے۔پولیس ایک آفیسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ موقعہ پر پہنچ گئے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کریں گے ،ہم نے پہلے ہی کچھ فوٹیج دیکھی ہے اور کل پھر اور فوٹیج دیکھیں گے۔