بچوں کیلئے جنسی ہراسانی سے تحفظ کا قانون،تمام ہائی کورٹ تین رکنی کمیٹی قائم کریں

   نئی دہلی //پاکسو معاملات میں سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق اب معاملات کی سماعت خصوصی عدالت کیا کرے گی۔ سپریم کورٹ نے بچوں کے لئے جنسی ہراسانی سے تحفظ (پاکسو) قانون کے تحت دائر مقدمات کی سماعت کی نگرانی کے لئے تمام ہائی کورٹوں کو تین رکنی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔عدالت نے تمام ریاستوں کے پولیس ڈائرکٹر جنرلوں کو پاکسو کی جانچ کے لئے خصوصی ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) قائم کرنے کی بھی ہدایت جاری کی ہے۔چیف جسٹس دیپک مشرا، جج اے ایم خانولکر اور جج ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے الکھ آلوک کی عرضی سماعت کے دوران یہ ہدایات جاری کیں۔بنچ نے کہاکہ ہائی کورٹ یہ یقینی بنائے گا کہ پاکسو قانون کے تحت رجسٹرڈ معاملات کی سماعت خصوصی عدالت کرے اور معاملات کے نپٹارے سے متعلق قانون کے التزامات کے تحت کیا جائے۔عدالت عظمی نے کہاکہ ہائی کورٹ یہ کوشش کرے گا کہ پاکسو قانون کے جذبہ کے تحت بچوں کے موافق عدالتیں قائم ہوں۔ بنچ نے یہ بھی کہاکہ ایسے معاملات کی سماعت کررہی خصوصی عدالتیں بے وجہ سماعت ملتوی نہیں کریں گی اور 2012کے پاکسو قانون کے تحت معاملات کا جلد نپٹارہ کریں گی۔اس سے پہلے مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سولیسٹر جنرل (اے ایس جی) پنکی آنند نے بنچ کو واقف کرایا کہ 12برس سے کم عمر کے بچوں کی عصمت دری معاملات میں پھانسی کی سزا کے تعلق سے آرڈی ننس لایا گیا ہے۔چیف جسٹس نے اے ایس جی پنکی آنند سے پوچھا کہ کیا اس آرڈی ننس میں مقدمہ کے نپٹارے کے لئے بھی کوئی مدت طے کی گئی ہے۔ اس پر اے ایس جی نے کہاکہ آرڈی ننس میں سزا کے بارے میں ہی ترمیم کی گئی ہے جبکہ سماعت مکمل کرنے کے سلسلہ میں ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی ) میں پہلے ہی التزامات کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپیل کے لئے یہ مدت چھ مہینہ ہے اور تفتیش پوری کرنے کے لئے یہ مدت دو مہینہ ہے۔