‘بچوں کا مستقبل داؤ پر ، تعلیمی ادارے کھولئے’

ڈوڈہ //یوٹی انتظامیہ کی جانب سے تعلیمی ادارے بدستور بند رکھنے کے فیصلے کے خلاف اپنی پارٹی نے احتجاج بلند کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کا مستقبل دن بدن تاریکی کی طرف جارہا ہے اور کسی کو اس کی فکر نہیں ہے۔ ڈوڈہ کے قصبہ ٹھاٹھری میں اپنی پارٹی کے ضلع نائب صدر اصغر کھانڈے کی قیادت میں مظاہرین نے کہا کہ انتظامیہ نے سبھی کاروباری ادارے کھولنے کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ ہفتہ وار کورونا کرفیو بھی ہٹایا ہے لیکن عرصہ ڈیڑھ سال سے متواتر اسکول بند ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔احتجاجی مظاہرین میں شامل بلدیا و پنچائتی نمائندگان و سیول سوسائٹی نے 'تعلیمی اداروں کو، کھول دو کھول دو' و 'بچوں کے مستقبل کو، بچا لو' کے نعرے بلند کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں کورونا وائرس ختم ہو رہا ہے اور انتظامیہ نے جم، بازار و سیاحتی مقامات بھی لوگوں کی آمدورفت کے لئے کھول دیئے ہیں جس کے بعد معمولات زندگی بحال ہوئی ہے لیکن بدقسمتی سے ابھی حکومت نے تعلیمی ادارے کھولنے کے لئے کوئی واضح پالیسی نہیں بنائی ہے۔اپنی پارٹی کے ضلع نائب صدر اصغر کھانڈے نے اس موقع پر بولتے ہوئے کہا لداخ انتظامیہ نے اعلی تعلیمی مراکز کھولنے کی اجازت دی ہے لیکن یہاں نامعلوم وجوہات کی بناء پر جموں و کشمیر میں تاحال سبھی تعلیمی ادارے بند ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو بچے کالجوں، یونیورسٹیوں و دیگر اداروں میں زیر تعلیم ہیں وہی بچے شادیوں کی تقریبات، سیاحتی مقامات و کھیل کود کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور وہاں پر ان کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن اسکولوں میں خطرہ لاحق ہے۔انہوں نے کہا کہ آن لائن کلاسز کا طریقہ کار ٹھیک نہیں ہے اور نہ ہی غریب بچوں کے پاس انڈرائڈ فون دستیاب ہیں۔کھانڈے نے کہا کہ پچھلے ڈیڑھ برسوں سے متواتر تعلیمی ادارے بند رہنے سے جہاں بچوں کی پڑھائی برے طریقے سے متاثر ہوئی ہے وہیں سینکڑوں بچے ذہنی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں جس کے باعث ان کے والدین بھی اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں اور آئے روز خودکشی کی وارداتیں پیش آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کا مستقبل تاریکی کی طرف جارہا ہے۔مظاہرین نے سیاسی جماعتوں کی خاموشی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی اقتدار کی لالچ میں اسمبلیوں کی حد بندی میں مشعول ہیں اور بچوں کی مستقبل کی انہیں کوئی فکر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگ یہی چاہتے ہیں کہ لوگوں کے بچے ان پڑھ رہیں تاکہ ہم سے نوکری اور نہ ہی کوئی سوال کرے۔مظاہرین نے یوٹی کی عوام و باالخصوص سیول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو لے کر اپنے گھروں سے باہر آئیں اور انتظامیہ پر تعلیمی ادارے کھولنے کے لئے دباؤ بنائیں تاکہ بچوں کا مستقبل روشن بن سکے۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے تعلیمی ادارے کھولنے کے لئے باقاعدہ طور پر پالیسی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم ڈیجیٹل انڈیا کی بات کرتے ہیں اور ہمارے بچے اندھیرے کی طرف جارہے ہیں۔