بچوں میںکووِڈ کی طویل المعیاد علامات

کووڈ 19 کی طویل المعیاد علامات کا سامنا بالغ افراد کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی ہوسکتا ہے۔یہ بات جرمنی میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔اس تحقیق میں بالغ افراد اور بچوں میں لانگ کووڈ کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔اب تک بالغ افراد پر لانگ کووڈ کے حوالے سے کافی تحقیقی کام ہوا ہے مگر بچوں میں زیادہ توجہ مرکوز نہیں کی گئی۔
اس تحقیق میں ہیلتھ انشورنس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا۔
تحقیق میں ایک لاکھ 57 ہزار سے زیادہ افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا اور دیکھا گیا کہ بیماری کو شکست دینے کے 3 ماہ بعد کتنے افراد کو تاحال علامات کا سامنا تھا۔نتائج سے عندیہ ملا کہ کووڈ 19 کے 30 فیصد مریضوں کو لانگ کووڈ کا سامنا ہوسکتا ہے، جن سے جسمانی، ذہنی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔
تحقیق میں شامل 6 فیصد بالغ جبکہ ایک فیصد بچے کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں داخل ہوئے تھے جبکہ 2 فیصد بالغ افراد اور 0.4 فیصد بچوں کو آئی سی یو نگہداشت یا وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑی۔تحقیق کے مطابق بچوں اور نوجوانوں میں خسرہ، مسلسل تھکاوٹ، کھانسی، گلے یا سینے میں تکلیف جیسی علامات نمایاں تھیں جبکہ سردرد، بخار، انزائٹی/ ڈپریشن امراض اور پیٹ درد کی شرح میں 50 سے 100 فیصد اضافہ ہوا۔اسی طرح بالغ افراد کھانسی، بخار، سینے میں تکلیف، بال گرنا، سانس لینے میں مشکلات، سردرد اور خسرہ جیسی علامات کی شرح میں کئی گنا اضافہ ہوا۔
تحقیق کے مطابق چونکہ بچوں کے مقابلے میں کووڈ 19 کیسز کی شرح بالغ افراد میں 162 فیصد زیادہ ہے تو تو علامات میں فرق کی بڑی وجہ پھیپھڑوں سے جڑی علامات کا ہے اور بالغ افراد میں ہی لانگ کووڈ کی شرح 41 فیصد زیادہ ہے۔جن افراد کو ہسپتال یا آئی سی یو میں رہنا پڑا ان میں لانگ کووڈ کا خطرہ دیگر سے زیادہ ہوتا ہے چاہے عمر جو بھی ہو۔
محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ بچوں میں کووڈ کی طویل المعیاد علامات کا خطرہ ہوتا ہے مگر اب تک اس عمر کے گروپ کے حوالے سے شواہد کافی نہیں تھے۔
اس تحقیق کے نتائج کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ پری پرنٹ سرور medRxiv پر جاری کیے گئے۔دریں اثناکووڈ 19 کا شکار ہونے والی خواتین اپنے دودھ کے ذریعے وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز بچوں تک منتقل کرتی ہیں۔یہ بات اٹلی میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔یہ بات پہلے ہی ثابت شدہ ہے کہ ماں کے دودھ میں ایسی مخصوص اینٹی باڈیز ہوتی ہیں جو شیر خوار بچوں کو بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔
حالیہ تحقیقی رپورٹس میں یہ عندیہ سامنے آیا تھا کہ کووڈ کا سامنا کرنے والی یا ویکسینیشن کرانے والی خواتین دودھ کے ذریعے بچوں میں بیماری سے تحفظ فراہم کرنے والی اینٹی باڈیز منتقل کرتی ہیں۔بامبینو گیسو چلڈرنز ہاسپٹل کی اس تحقیق میں عندیہ دیا گیا کہ بیماری کو شکست دینے والی خواتین بریسٹ فیڈنگ کے ذریعے بچوں میں زیادہ متحرک مدافعتی ردعمل متحرک کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ 2 ماہ کی عمر میں ماں کا دودھ پینے والے شیر خوار بچوں کے لعاب دہن میں ایسی اینٹی باڈیز ہوتی ہیں جو کورونا وائرس کے خلاف مزاحمت کرتی ہیں۔محققین کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلی بار ثابت کی ہے کہ ماں بھی اپنے نومولود بچوں کا مدافعتی نظام دودھ سے منتقل ہونے والی اینٹی باڈیز سے متحرک کرتی ہیں۔
مگر نتائج سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ لعاب دہن میں موجود اینٹی باڈیز کورونا وائرس کا سامنا ہونے پر بیمار ہونے سے تحفظ ملتا ہے یا نہیں۔نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں بچوں کے امراض کی ماہر ڈاکٹر ٹینا ٹان نے اس بارے میں بتایا کہ ایسا ممکن ہے کہ اس سے ناک یا آنکھوں کے راستے داخل ہونے پر وائرس سے تحفظ میں مدد ملتی ہے۔مگر انہوں نے مزید کہا کہ بچوں میں وائرس سے تحفظ دینے والی اینٹی باڈیز کی منتقلی کا بہترین ذریعہ حمل کے دوران ویکسینیشن کرانا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جاما نیٹ ورک میں شائع ہوئے جس میں ایسے 22 نومولود بچوں کا جائزہ لیا گیا تھا جن کی مائیں زچگی کے وقت کورونا وائرس سے متاثر تھیں۔
ان میں سے صرف ایک بچے میں پیدائش کے بعد کووڈ کی تصدیق ہوئی جبکہ ایک چند دن بعد اس سے متاثر ہوا۔محققین نے دریافت کیا کہ جب ان بچوں کی عمر 2 ماہ ہوئی تو جن کو ماں کا دودھ مل رہا تھا، ان کے لعاب دہن میں کورونا کے اسپائیک پروٹین کو جکڑنے والی نٹی باڈیز موجود تھیں۔مگر جن بچوں کو ڈبے کا دودھ پلایا جارہا تھا ان میں ایسا دریافت نہیں ہوا۔
������