بٹہ مرن شوپیان واقعہ:مہلوک خاتون کے لواحقین انصاف کے منتظر

سرینگر//جنوبی ضلع شوپیاں میں گزشتہ برس19دسمبر کو ایک شیر خوار بچے کی والدہ روبی جان کو قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی طرف سے مبینہ گولی مار کر ہلاک کرنے سے متعلق کیس میں بشری حقوق کے ریاستی کمیشن نے ضلع ترقیاتی کمشنر پلوامہ اور شوپیاں کے نام وجہ بتائو نوٹس جاری کی ہے۔ شوپیاں کے بٹھ مرن علاقے میں19دسمبر کو فوج اور جنگجوئوں کے درمیان جھڑپ میں ایک جواں سال خاتون روبی جان جان بحق ہوئی تھی۔اس سلسلے میں سینٹر فار پیس اینڈ پروٹکشن آف ہیومن رائٹس‘‘ کے چیئرمین ایم ایم شجاع نے بشری حقوق کے ریاستی کمیشن میں عرضی دائر کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی’’ روبی جان اپنے گھر میں شیر خوار بچے کو گود میں لیکر گھر میں بیٹھی تھی،جب قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے اس وقت گولی مار دی،جب وہ علاقے میں جھڑپ کے بعد احتجاجی مظاہرے کو قابو کرنے میں لگی تھی۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ ایسا کوئی بھی الزام یا تجویز سامنے آئی ہے کہ مقتولہ احتجاج کرنے والی بھیڑ کا حصہ تھی،بلکہ وہ اپنے گھر میں اپنے دودھ پیتے بچے کے ساتھ موجود تھی‘‘۔اس دوران کمیشن کے سامنے کیس کی شنوائی کے دوران عرضی دہندہ نے کہا کہ مذکورہ خاتون کے نزدیکی رشتہ داروں کو کوئی بھی ریلیف نہیں دیا گیا۔ اس دوران کمیشن نے کہا کہ ابھی تک انہیں مطلوب تفصیلات فرہم نہیں کی گئی،جبکہ اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ واقعے میں جو خاتون جان بحق ہوئی وہ معصوم تھی۔کمیشن نے کہا کہ اس کیس میں کوئی بھی پیش رفت نہیں ہوئی،کیونکہ دو ضلع ترقیاتی کمشنر آپس میں لڑ رہے ہیں کہ یہ معاملہ کس کے دائرے حدود میں آتا ہے۔کمیشن نے بتایا کہ نہ ہی دونوں ضلع ترقیاتی کمشنر کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور نہ ہی ردعمل پیش کیا۔کمیشن نے کہا اس کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ قانون کے تحت دفعہ17 ضلع ترقیاتی کمشنروں کے نام وجہ بتائو نوٹس جاری کی جائے کہ ’’انکے خلاف معقول سفارشات کیوں نہ کی جائے،کیونکہ ابتدائی طور بشری حقوق کی خلاف ورزی سے نپٹنے کیلئے ان کا طریقہ کار غیر سنجیدہ ہے‘‘۔ اس سے قبل روبی جان کی ہلاکت پر ڈپٹی کمشنر شوپیاں کی طرف سے ریلیف دینے میں انکار کو انکی غفلت شعاری سے تعبیر کرتے ہوئے بشری حقوق کے ریاستی کمیشن کے سربراہ جسٹس(ر) بلال نازکی نے  جولائی میں سماعت کے دوران کہا تھاکہ متعلقہ ضلع ترقیاتی کمشنر کی طرف سے پیش کی گئی کاپی ریاستی چیف سیکریٹری کو روانہ کی جائے گی،تاکہ وہ کراس فائرنگ میں جان بحق ہوئے معصوم لوگوں کے وابستگان کے تئیں متعلقہ افسر کی بے حسی سے با خبر ہو۔جسٹس(ر) بلال نازکی نے ضلع ترقیاتی کمشنر شوپیاں کی طرف سے پیش کئے گئے رپورٹ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا’’ روبی جان کے معصوم ہونے کا اعتراف کیا گیا ہے،اور وہ آپریشن (فورسز اور جنگجوں کے درمیان جھڑپ)کے دوران کراس فائرنگ میں جان بحق ہوئی،تاہم ڈپٹی کمشنر شوپیاں جس کے حدود میں یہ واقعہ پیش آیا،نے روبی جان کے نزدیکی رشتہ داروں کی طرف سے ریلیف کے دعوے کو اس بنیاد پرمسترد کیا کہ خاتون کی شادی ضلع پلوامہ میں ہوئی ہے‘‘۔کیس کی آئندہ شنوائی27نو مبر کو مقرر کی گئی ہے۔