بٹہ بس اڈہ کی منتقلی سے 8ہزارافراد کا روزگار متاثر

  سرینگر//بٹہ مالو جنرل بس اسٹینڈ کی پارمپورہ منتقلی سے 8ہزار تاجروں اور چھاپڑی فروشوں کا 80فیصد کاروبار متاثر ہوا ہے جبکہ مسافروں کو بھی آمد ورفت کے دوران شدید مشکلات اور مصائب کا سامنا ہے ۔ تاجروں کا الزام ہے کہ تین ماہ کا عرضہ گزر جانے کے باوجود بھی سرکار نے اُن کی بازآبادکاری کے حوالے سے کوئی سنجیدہ اقدمات نہیںاٹھائے جس کے سبب وہ ذہنی پریشانی میں مبتلا ہیں ۔منظور احمد نامی ایک تاجر نے بتایا کہ اڈہ کی منتقلی سے قبل وہ دن میں 6ہزار سے 7ہزار کی کمائی کرتا تھا وہیں اب صرف 4سو سے 5سو کمائی ہوتی ہے ۔تاجر کا کہنا ہے کہ بٹہ مالو اڈہ کے اندر موجود تاجر وں کا 100فیصد کاروبار متاثر ہوا ہے جبکہ اڈہ کے باہر جو تاجر کاروبار کر رہے ہیں اُن کا کاروبار 80فیصد متاثر ہوا ہے ۔بٹہ مالو کاڈی نیشن کمیٹی کے ترجمان محمد یاسین گورو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ تاجر پچھلے تین ماہ سے احتجاج پر ہیں جبکہ انہوں نے اس سلسلے میں کئی سرکاری عہدیداران سے ملاقات بھی کی اور انہیں اپنی روداد بھی سنائی تاہم بازآباد کاری کے حوالے سے کوئی بھی سنجیدہ اقدمات نہیں اٹھائے گئے ۔تاجروں کا سرکار سے کہنا ہے کہ اگر انہیں دوسری جگہ منتقل کرنا ہے تو اُس سے قبل اُن کی بازآبادی کاری کیلئے اقدمات کئے جائیں ۔محمدیاسین نے کہا کہ پارمپور منتقل ہونے میں انہیں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اُس سے قبل وہاں بنیادی سہولیات کا بندوبست کیا جانا چاہئے تھا ۔ محمد یاسین نے کہا کہ حکومت نے بغیر کسی پلان کے اڈہ کو پارمپورہ منتقل کرنے کے احکامات صادر کئے جس کے سبب8ہزار تاجر اور ریڈے والوں کا روزگار کو خطرے میں ڈالا گیا ۔بٹہ مالو اڈہ میں کام کرنے والے ایک ڈابہ کے مالک شفیق احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اڈہ کی منتقلی سے اُس کا روزگار بھی کافی متاثر ہوا ہے ۔شفیق نے بتایا کہ پہلے جہاں دکان پر کھانا کھانے والوں کیلئے جگہ کم پڑ جاتی تھی وہیں اب اکا دوکا ہی گاہک ڈابہ پر آتے ہیں۔شفیق نے کہا کہ پہلے کمائی دن میں 10ہزار ہوتی تھی اب بڑی مشکل سے ایک سے دو ہزارروپے ہوتی ہے ۔ادھرگاڑیوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ وہاں اُن کیلئے بنیادی سہولیات کا فقدان ہے جبکہ بٹہ مالو کی طرف بھی گاڑیوں کو جانے کی اجازت نہیں ملتی ہے ۔تاجروں اور ٹرانسپوٹروں کے ساتھ ساتھ مسافروں کو بھی کافی دقتوں کا سامنا ہے ۔کئی ایک مسافروں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہیں پارمپورہ سے بٹہ مالو تک ایک اور گاڑی بدلنی پڑ رہی ہے جس سے نہ صرف مسافروں بلکہ مریضوں کو بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔مسافروں نے بتایاکہ بٹہ مالوسے جنرل بس اسٹینڈکوپارمپورہ منتقل کرنے کے بعداب سومواوردوسری ایسی چھوٹی مسافرگاڑیوں کی بٹہ مالو اورجہانگیر چوک آمدپرپابندی عائدکردی گئی ہے اورشمالی کشمیرکے مختلف علاقوں سے سرینگرکارْخ کرنے والی ایسی سبھی گاڑیوں کوٹینگہ پورہ بائی پاس کراسنگ پرپولیس اورٹریفک پولیس اہلکارروک لیتے ہیں۔