بٹھنڈی سنجواںمیں انہدامی مہم غیر منصفانہ عمل

جموں//’ اپنی پارٹی‘ صدر سید الطاف بخاری نے ناجائز تجاوزات کے نام پر بٹھنڈی۔ سنجواں روڈ پر چلائی گئی مہم کی مذمت کی ہے۔ بخاری نے سنجوا ںبٹھنڈی سڑک اور ویو مال کے باہر نروال بائی پاس پر منہدم کئے گئے ڈھانچوں کے ارد گرد خاردار تار استعمال کرنے اور ناجائز تجاوزات مخالف مہم کو عوامی جذبات مجروح کرنے کی کوشش قرار دیا ۔ انہوں نے کہا’’حکومت سے اِس طرح کے سخت قدم کی توقع نہیںتھی، مہم اتوار اُس وقت شروع کی گئی جب لوگ گھروں میں تھے ‘‘۔ انہوں نے کہاکہ تیس چالیس برس قبل اِن لوگوں نے اپنے مکانات اور تجارتی مراکز تعمیر کئے تھے، اُس وقت کسی نے سوال نہیں اُٹھایا۔ دہائیوں بعد اچانک بغیر مطلع کئے اِ ن ڈھانچوں کا انہدام غیر منصفانہ عمل ہے۔ انہوں نے کہاکہ اقتدار میں اتنی طاقت کا مظاہرہ اچھی علامت نہیں، حکومت کو چاہئے کہ وہ اُجاڑے گئے کنبوں اور تاجروں کو متبادل جگہ فراہم کرے اور اُن کے لئے بازآبادکاری منصوبہ ہو لیکن بجائے اِس کے زو رزبردستی سے لوگوں کو بغیر بازآبادکاری منصوبہ کے بے گھر کر دیا اور اتوار کو چند گھنٹوں کی مہم نے کئی کنبوں کو بے روزگار کر دیا۔ انہوں نے کہاکہ ایسا لگ رہا ہے کہ انتظامیہ جموں کی چند رہائشی بستیوں خاص کر بٹھنڈی اور سنجواں کو نشانہ بناکر عام لوگوں میں خوف ڈالنا چاہتی ہے۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کو انسانی رویہ اپنانا چاہئے اور لوگوں کو غیر ضروری طور ہراساں اور اُنہیں بے گھر کئے بغیر پر امن طریقہ سے معاملہ کو حل کرنا چاہئے۔ بخاری نے مطالبہ کیاکہ جموں میں مخصوص رویہ اختیار کر کے غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے کے ذمہ دار افسران کے خلاف اعلیٰ سطحی کارروائی کی جانی چاہئے۔ انہوں نے ناجائز تجاوزات مخالف مہم متعلق تبصرہ کرنے پر لال چوک سرینگر کے شہری کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت کی۔
 
 

 سوشل میڈیا پر قابل اعتراض تبصرہ ، لالچوک سرینگر کا شہری گرفتار

بلال فرقانی
 
سرینگر //پولیس نے پیر کی رات  ایک شخص کو سوشل میڈیا پر انٹرویو کے دوران قابل اعتراض تبصرہ کرنے پر گرفتار کیا۔ ایک پولیس ترجمان نے بتایا کہ ملزم کی شناخت محمد یوسف وانی کے طور پر کی گئی ہے جو لال چوک کا رہائشی ہے۔انہوں نے کہا کہ اتوار کو جموں انتظامیہ کی طرف سے چلائی گئی انسداد تجاوزات مہم کے دوران وانی نے سوشل میڈیا پر ایک انٹرویو میں کچھ حساس اور قابل اعتراض تبصرہ کیا۔جموں پولیس نے اس کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 153A (مختلف گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا)، 505 (قابل اعتراض نوعیت کا بیان دینا) اور 295A (کسی بھی طبقے کے مذہب کی توہین کرکے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وانی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔