بٹوت میں جنگلی پھل کھانے سے کمسن ازجان، تین ہسپتال میں داخل

نیوز ڈیسک
بٹوت//جموں و کشمیر کے رام بن ضلع کے بٹوت علاقے میں زہریلا جنگلی پھل کھانے سے ایک نابالغ لڑکے کی موت ہو گئی اور تین دیگر بیمار ہو گئے ہیں۔

 

ایک پولیس افسر نے گریٹر کشمیر کو بتایا کہ انہیں سی ایچ سی بٹوت سے اطلاع ملی کہ اتوار کی دوپہر قریبی جنگلاتی علاقے میں چار بچوں نے کچھ زہریلا پھل کھا لیا ہے۔

 

انچارج ایس ایچ او تھانہ بٹوت روہت شرما نے بتایا کہ پولیس کی ایک ٹیم بٹوت ہسپتال پہنچی اور چار میں سے تین کو جموں کے ہسپتال منتقل کیا۔

 

پولیس نے مرنے والے لڑکے کی شناخت 12 سالہ محمد باسط ولد محمد شفیع ساکنہ رکھجروک کے طور کی ہے۔ 

 

اس واقع میں دس سال سے کم عمر کی  تین  بچیوں کو مزید علاج و معالجہ کیلئے جموں میڈیکل کالج منتقیل کیا گیا ہے۔ ان کی شناخت 10 سالہ شبنم دختر محمد شفیع، 8 سالہ رضیہ بانو دختر مزار احمد  اور 10 سالہ ثانیہ بانو دختر بشیر احمد تمام ساکنان رکھجروک بٹوت کے طور کی گئی ہے اور ان کی حالت قدرے مستحکم بتائی جاتی ہے۔ 

 

متوفی کی بہن سمیت تین دیگر بچوں کو میڈیکل جموں منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔