’بِچولیا ‘۔ دورِ جدید کی پنپتی بُرائیوں کا مجموعہ!

ہم نے روزانہ کے معمول میں غیبت، بغض،کینہ ، حسد، بہتان، الزام ،نفرت جیسی کئی اخلاقی برائیوں کے بارے میں سُنا اور تجربہ کیا ہے۔ دغا ، دھوکہ ،فریب ، عیاری ، مکاری، احسان فراموشی،غداری اور چالبازی بھی اُسی برائیوں کی فہرست میں شمار ہوتی ہے۔ اِن برائیوں کا جب انسان شکار ہوجاتاہے تو شریف انسان بھی انسانیت کے معیار سے اُتر جاتاہے اور پھر چولا بدلنا، گرگٹ کا رنگ دکھانا، انسان کے بھیس میں شیطان صفت انسان کے شکم میں شاطرانی کہاوتوں اور محاوروں کو وجود میں آنے اوراُنہیںبامعنی اعتبارکے لحاظ سے سمجھنے میں دیر نہیں لگتی۔
عصرِ حاضر کے سماج میںبُرائیوں کی بدلتی شکلوں و صورتوں پر غوروفکر کریں تو طرح طرح کی نت نئی خرابیاں اوربرائیاں سر چڑھ کر بولتی نظر آتی ہیں۔ ان سب برائیوں کی بنیا د مذہبی وا خلاقی اقدار کی کمزور ہوتیں جڑیں اور جدیدیت کے پس منظر میں پرورش پاتیں اشکال کی خرافاتیں ہیں، جنھیں آج کل مہذب نما انسانوںنے خوش نما اور دل فریب ناموں کے تحت فروغ دینا شروع کردیا ہے اور گمراہ کن راستوں پر چلنے کے لیے سادہ لوح انسانوں کو مجبور و بے بس کردیا ہے۔
جس طرح دنیا کے تمام آسمانی مذاہب کے مشترکہ بنیادی اصولو ں وعقیدوں کویکجا کرکے کسی نئے مذہب کی تشکیل یا بنیاد ڈال کر عالمِ انسانیت کو داغدار کیا جاسکتا نہ  تباہی کی معراج پر کھڑاکیا جاسکتا، بالکل اُسی طرح تمام برائیوں ،خرابیوں ،شرارتوں اور خرافاتوں کی جدید حرکتوں کو یکجا کرکے اُسے چالاکی کی انتہا نہیں کہا جاسکتا۔ جس طرح بوتل خوش نما ہونے سے اُس میں موجود مائع اشیا کو کسی معتبر شربت یا مشروب کا نام نہیں دیا جاسکتا، اُسی طرح احسان فراموشی، عیاری و مکاری، دغابازی،دھوکہ دہی کی مشترکہ  مجموعے کوکسی اچھائی و معتبر خوشنودی کاوسیلہ نہیں سمجھا جاسکتا ہے بلکہ اس سے کم ظرف انسان میں موجود شیطانی حرکات و سکنات کا ہی پتہ چلتا ہے۔آج سماج کو ایسے انسانوں سے بچنے کی انتہائی ضرورت ہے۔ ایسے انسانوں کے بول میٹھے ،رسیلے اور لچیلے ہوتے ہیں ۔انسانی ہمدردیوں کے ذرائع اور نفسیات کے پیچ و خم سے یہ لوگ اچھی طرح واقف ہوتے ہیں ،ایسے لوگ نہ صرف مذہبی احکامات کے استعمال کے دائوں پیچ سے بھی واقف ہوتے ہیں  بلکہ لوگوں کو اپنا گرویدہ بنانے کے فن میں ماہر ہوتے ہیں۔ پھر ’ جیسا موقع و یساقول‘ یا ’جیسا موقع ویسی حدیث‘ کا استعمال کرتے ہیں۔ایسے لوگ وقت کے نباض اور شاطرانہ فطرت کے تحت موقع ملتے ہی ایک تیر سےکئی شکار کرتے ہیں۔مذہبی لبادہ اوڑھے ایسے لوگوں کے قول و فعل میںتضاد دیکھنا، مشاہدہ کرنا ،عام انسانوں کی عقل و دانائی کا امتحان لینا ہی ثابت ہوتا ہے۔جہاں عام انسان ظاہر کا شکار ہو کر گمر اہ ہوجاتاہے  وہاںاُس سادہ لوح انسان کی آنکھ تب کھلتی ہے جب کافی دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ اُس وقت تک وہ چالاک انسان دھوکہ دہی سے عام انسانوں کو غلام بنا کر اُن کے اندرموجود انسانیت سے بھی کھلواڑ کرچکا ہوتا ہے۔ایسے لوگوں کی شناخت کرنا قبل از وقت ضروری ہے، بعداز وقت عام لوگوں کوغلامی،پسماندگی اور شرمندگی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
اِس بدلتی دُنیا میں ایسی ہی ایک خو ش نما بُرائی کا نام’ بچولیا خان بننا‘ ہے۔ آج عالمی معاشرے کے زیاد ہ تر ساد ہ لوح انسان اس کی زد میں ہیں۔ درندگی اور انسانیت سوز واقعات کو انجام دینے کے لیے شیطان صفت انسان اِس لفظ اور اُس کے پس منظر میں پوشیدہ برائیوں کے تمام پہلوئوں کو خوبصورت جامہ پہناکر انسانوں میں موجود انسانیت کے تمام بنیادی اقدار کو پامال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں۔ ظاہر ی خو ش نمائی وخود ستائی کے من گھڑت تعمیر کردہ پاکیزہ ماحول میں باطن کے پاکیز ہ کردار کو داغدار کرنے کی کوششیں آج کی معاشرتی طرزِ زندگی میں صاف جھلکتی ہیں۔’ بچولیا‘ جیسےبدصورت اور غیر مہذب لفظ کواہل ہندی اُن لوگوں کے لیے اختیارو استعمال کرتے ہیں جو کسی تجارتی سودے میں خریدار اور بیچنے والے کے مابین غیر قانونی طور پر گما شتے کاکام کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اُردو میں میاں جی ( میاں+جی ) اوراُن کے کام کو ’ میاں جی گیری ‘ کہتے ہیں۔ میرؔنے اپنے شعر میں ’ میاں گیری‘ کا خوب استعمال کیا ہے۔؎
پیام اس گل کو  پہنچا پھر نہ آئی 
نہ خوش آئی میاں گیر ی صبا کی
ایسے بُرےصفت انسان کو دلال یا ثالث بھی کہتے ہیںاور اس برائی نے آج سماج میں چمچہ گری کی صورت بھی اختیار کرلی ہے۔ چند برس قبل تک بچولیا خان اُس شخص کو کہتے تھے جو شادی یا منگنی کرانے میں ثالث کا رول ادا کرتاتھا۔اُس سے قبل جب یہ لفظ اپنے اعمال میں برائیوں سے پاک تھا تو اُردو لغات نے اس لفظ کے لیے ایلچی ، سفیر، کارگذار ،تصفیہ کنندہ ، ضامن ،کفیل اور پیغام بر جیسے الفاظ و القاب کا بھی استعمال کیاہے۔مگر آ ج عالمی سماج کا ہر طبقہ ’بچولیا خان‘ کی زد میں کستا نظر آتاہے۔بچولیا لفظ ذومعنی کے مفہو م میں بھی استعمال ہونا آج عام بات ہے۔کیوں کہ یہ لفظ آج برائیوں کی بدلتی شکلوں اور کئی بُرے الفاظ کے معنی و مطالب کا مجموعہ ہے۔جو برائیوں کے پہلوئوں کو سلسلہ وار بیان نہ کرتے ہوئے مجموعی برائی کے معنوں میں خوب استعمال ہوتاہے ۔قوم کے نونہالان و دانشورانِ عالم کو آج اس اصطلاح کے معنی و مطالب کے دوہرے پہلو سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ نونہالانِ چمن و دانشوران ِ عالم اس برائی میں ملوث انسانوں کی زد میں آکر برائی کو ہی اچھائی نہ سمجھ بیٹھیں۔
تعلیمی اداروں وتعلیم یافتہ حلقوں میں بھی یہ برائی تیزی سے پنپ رہی ہے۔خدا ترس مجلسِ انتظامیہ بھی اس کی لپیٹ میں آئی ہیں۔ اتنامہذب ہوتاہے اس برائی میں ملوث افراد کا گروہ ،جہاں اچھائی بھی دھوکہ کھا جاتی ہے۔ سادہ لوح انسانوں کو تسبیج کے دانوں پر ذکر اﷲکا احساس کرایا جاتاہے اور خود پس پردہ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ساری عیاریوں و مکاریوں کا استعمال کرکے مجلس کا کریڈٹ خود اُٹھالے جاتے ہیں۔ جب اسی کردار کا حامل انسان درس وتدریس کا پیشہ اختیار کرتاہے تو نظامِ تعلیم کے سارے ذرائع وو سائل کو نہایت چابکدستی سے اپنے قبضے میں لیتا ہے اور اپنے ماتحتوں کو غلام اور حمال بنا تا ہے۔ انتظامیہ کو بھی خوبصورت حربوںسے اپنے بس میں کرکے اُسے بے بس و مجبور بنالیتا ہے۔ طالب علموں کو محدود تعلیم فراہم کرکے اپنی تنخواہوں کے وسائل کو مضبوط کرلیتاہے ۔جب حکومتی محکموں یا خفیہ محکموں میں ایسے افراد کی ضرورت پڑتی ہے توایسےبچولیے مخبر ی کارول بھی اداکرتے ہیںاور جیسے ہی موقع غنیمت ہاتھ آتاہے تو دو طرفہ منافع حاصل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ یعنی بطو ر ثالث ذاتی مفاد پرستی اور خود غرضی کے تقاضے کوہوادے کر اپنا اُلو سیدھا کرتے ہیں ۔’جدھر دَم اُدھر ہم‘ کے مصداق عمل پیرا ہوکر انسانی اصولوں کو بالائے طا ق رکھ کر بُرائی کی پناہ لے کر خود کو پارسا اور سیانا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
دراصل اس بُرائی میں شامل انسان اپنی شاطر فطرت اور بدکرداری کو اعلیٰ کردار کا لبادہ اوڑ ھاکر سماج میں سب سے پہلے خود کے مہذب بننے کا ناٹک رچتے ہیں اور جب سماج کی کمزوریوں کو بھانپ کراس میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پھر اپنے بُرےقول و فعل کا اثر دکھاکر سماج کو اپنے اشاروں پر نچاتے ہیں۔ بعض دفعہ تو یہ جمہوری نظام کا بھی خوب فائدہ اُٹھاتے ہیں ۔اپنے اطراف واکناف میں اپنے ہم خیال لوگوں کی ایک جماعت ہمیشہ ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ جہاں موقع ملا تو یہی افرا د اپنی ذاتی مفادات کی خاطر ایک دوسرے کی حامی بھرتے رہتے ہیں۔جس کی وجہ سے حقدار کا حق سلب کرنے کار استہ ہموار ہوجاتاہے اور سماج میں موجود فلاحی و تعلیمی ادارے بھی اُن کی پشت پناہی میں آجاتے ہیں۔ پھر اُن بچولیوں کی جماعت کی موجودگی میں بُرائیاں اپنا اثر دکھانے لگتی ہیں۔ ایسے لوگ اپنے ہم خیال لوگوں کی جماعت کو اپنے ہمراہ رکھ کر دوسروں کے منھ سے اپنی تعریفوں کے پُل باندھتے میں بھی نہیں ہچکچاتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے محنت کش ، خود دار اور خود مختار طبقہ اپنی جفاکشی اور وفاداری کے باوجود بے وفائی و بے اعتنائی کا شکار ہوکر رہ جاتے ہیں۔ کیوں کہ بچولیے بڑی ہی چابکدستی و موقع پرستی سے حالات کی نبض کو پکڑ کر عین موقع پر ساراکریڈٹ اپنے سر لینے کے فن سے واقف ہوتے ہیں۔
بچولیا نما انسان جس معاملے میں بھی دخل دیتاہے، وہ معاملہ سازش کا یا پھر خود غرضی کا شکار ہوکر اپنے اختتام پر فتنہ پروری کا بیج چھوڑ جاتاہے اور بعد میں یہی فتنے کا تناور درخت بن کر کئی شاخوں کے دم خم پر معاشرے کوپوری طرح اپنی گرفت میںلے لیتاہے۔چوں کہ موجودہ دور میں ایسے بچولیے خود اَن گنت برائیوں کا مجموعہ ہوتا ہیں، اس لیے جب وہ اپنا جال پھینکتے ہیں تو بَروقت اُس کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ مگر جب اُس کے اثرات رونما ہونا شروع ہوتے ہیں تو معلوم ہوتاہے کہ ہمیں کسی ایک برائی کا سامنا نہیں کرنا ہے بلکہ اس فتنے سے جنم لینے والی اَن گنت برائیوں کے مجموعے کے گھناونے سایے سے ہوکر گزرنا ہوتاہے، یہی وہ مقام ہوتاہے جہاں ایسے لوگوں کی بدولت انسانیت شرمسار ہوجاتی ہے۔
موجودہ دور کا ہر انسان اوراُس کا ہرمیدان، ہر شعبہ ،ہر ادارہ اور ہر محکمہ اس وبانما بُرائی کی زد میں ہے ۔بلکہ یوں کہہ لیں تو مبالغہ آرائی نہ ہوگی کہ عالمی سطح پر اس کے اثرات کئی شعبوں میں اب عیاںنظر آرہے ہیں۔ابتدائی دور میں انسان کسی ایک برائی میں مبتلا ہوتا، تو اُس کا ضمیر اُسے ملامت کرتا تھا اور یہ احساس دلاتاتھاکہ جہالت کے باوجود اُس میں غیر ت و حمیت باقی ہے۔مگر آج اُس نے برائیوں کے دائرے کو اس قدر وسیع و عریض کرلیاہے کہ تعلیم و ترقی کے ہرشعبے میں قابل ِقدر اور قابل گراں اضافے و عبوریت کے باوجود اب اُس میں انسانی اقدار کی خصلتیں وصفتیں خود بخود اپنی حرکات وسکنات سے محروم ہوتی نظر آتی ہیں۔کیا معیار ِ زندگی کو حاصل کرنے کا یہی تقاضہ و طریقہ ہے کہ انسان برائیوں کی دہلیز کو ہر اعتبار و لحاظ سے پار کرے اور من مانی نفسِ زندگی کی بقا کے لیے انسانیت کے ہر اُس پہلو سے خود کو آزاد کرلے جو اُسے حیوان سے انسان بناتا ہے ۔ یہاں ایسےبُرائی صفت انسان میں خداترستی کو فراموش کرکے خود پرستی کے مقاصد کو فروغ دینے کا جذبہ کار فرمادکھائی دیتاہے۔یعنی خدائے بالا و برتر کے بنائے قوانین کو فراموش کرتا ہےاور اُسی کے سامنے اپنے ناقص اصولوں کو معتبروبرتر ثابت کرکے انسانیت کی بقا کے اُصولوں کے ساتھ غداری اور بے وفائی کاراستہ ہموار کراکے ساری انسانیت کا بیڑا غرق کرنے کا کھیل کھیلتا رہتا ہے۔آج ہر لحاظ سے ایسی دوہری ،دوغلی اور غیر فطری اصولوں پر چلنے والے انسانوں کی شناخت کرکے اکائی معاشرہ توکیا سارے عالم کواس فتنہ  پروری سے حفاظت کرنا وقت کا اہم فریضہ ہے۔
دراصل ثالثی کردار میں ہوتے ہوئے ایسے بندے وقت کے خوش نمابھیڑے بن کر موقع کو وقت کے ترازو میں تولتے ہیں ۔جب جماعتوں کے مابین ثالث کی کوئی صورت بنتی نظر نہیں آتی تو ایسے بندے خود اُن پر غالب ہوکر اپنی خواہش نفسانی کو پائے تکمیل تک پہنچاتے ہیں ۔تاریخ کے حوالے سے بات کریںتو اُس کی سب سے عمدہ مثالیں میر جعفر،میر قاسم اوراُن کے آقائوں کے درمیان ثالثی کردار ادا کرنے والے انگریزوں کی ہے ،جو تاجر کی حیثیت سے آئے اور حکمران بن بیٹھے۔اس لیے آج اپنے معاملات کا فیصلہ خود کرنے کا دور ہے ۔دوسروں کے ہاتھوں یا بچولیوں کے سرپرستی میں فیصلہ کبھی منصفانہ نہیں ہوسکتا۔بعض عوامی تعلیمی اداروں و محکموں میں بھی ہمیں ایسے افسران، نمک حرام ملازمین دیکھنے کو ملیں گے جو کہ ملازم کی حیثیت سے داخل ہوئے اور موقع ملتے ہی اپنی بچولیاتی خصلت کا استعما ل کرکے خود پرستی کی خاطر عہدوں پر قابض ہونے کا جرم کرنے لگےہیں۔لہٰذا آج ضرورت ہے ہمارے اندر، ہمارے سماج کے اندراورعالمی معاشرے میںموجود ایسی دورُ خی پالیسی اختیار کرنے والے موقع پرست ،عیار ،غدار اور بے وفا صفات سے لبریز بچولیاتی کردار والے انسانوں سے خود کو محفوظ رکھنا ہے ۔اگر ایسا ممکن ہوتاہے تو ہمارے ایمان و عقائد سلامت رہیں گے ۔ہمارا اتحاد اور سالمیت کے تحفظ کا تیقن ممکن ہوسکے گا۔ معاشرہ اور اُس کا ادارہ و محکمہ بُرائیوں کی اَن گنت تعداد سے خود کو بچاسکے گا۔ امن و امان کا ہر طرف بول بالا ہوگا۔ بے چینی و اضطرابی کیفیات کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔خود غرضی اور مفاد پرستی کے ساتھ ہی عیش پرستی اوردغا پرستی کو لگام لگے گی۔
رابطہ:۔7798274366
������