بُت ِانا نیت سے اجتناب

خود پر یقین ہونا قابل تحسین بات ہیں لیکن جب کسی انسان کی نظر صرف’’خود ہی خود‘‘تک محدود ہو کر رہ جائے تو یہ ایک نفسیاتی اور روحانی بیماری کی نشاندہی کر تی ہے۔اس کا علاج خود احتسابی ہے اوراصلاحِ ذات ا س کے لئے ناگزیر دوا ہے ۔ انہی سے روگی کو پتہ چلے گا ’’خود‘‘ تک تو معاملہ ٹھیک تھا ، اب ’’میں ہی میں‘‘ہو چلا ہوں تو سب کچھ بگڑ گیا ۔یہی انانیت کا بُت کہلاتا ہے جو خودی کی شان نہیں۔ یہ ایک منحوس نشہ ہے جو کسی کے وجود میں اُترتا چلا جاتا ہے کہ اس کے ہوش وحواس بگڑجاتے ہیں۔ظاہر ہے جب انسان کی عقل میں یہ فتور آجائے تو وہ وگویا مختلف قسم کی نفسیاتی بیماریاں کو خود بخود دعوت دیتا ہے۔ان بیماریوں میں سر فہرست غرور و تکبر ہے ۔یہ ایک بد ترین کیفیت کانام ہے جو مغرور انسان کو کہیں کا نہیں رکھ چھوڑتا۔ہر شخص کا ایک نظریۂ زندگی ہوتا ہے، اپنی زبان ،اپنے بول اور اپنا لب ولہجہ ہوتا۔ جو نظریہ، زبان اور لہجہ ’’میں کوشش کر سکتا ہوں‘‘کے بجائے’’صرف میں ہی کر سکتا ہوں‘‘ بولے، جو ’ میں بھی ہوں‘‘کے بجائے’’صرف میں ہی ایک ہوں‘‘ بکتا رہے ،وہ اناپرست ہوتا ہے اگرچہ وہ زبان سے نہ بھی مانے۔ ان چھوٹے جملوں سے انسانی شخصیت کی بڑی باتیں جھلکتی ہیں جو انسان کی پہچان بن جاتی ہیں۔ ’’صرف میں ہی ہوں‘‘ سے انسان کی پرواز محدودہو کر رہ جاتی ہے ، وہ اوروں سے کٹ کر رہ جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ خود پسند انسان کی زندگی اکثر وبیش تر اوروں پر گراں گزرتی ہے ، ا س کی ذات نا قابل ِبرداشت بوجھ بن کر رشتوں اور تعلقات میں تلخیاں پیدا کر دیتی ہے کہ محبتیں ختم ہو جاتی ہے،شفقتوں کا دم گھٹ جاتا ہے یقین وہم بن جاتا ہے،نفرتیں بڑھتی چلی جاتی ہیں، خلوص بھاگ کھڑاہوتا ہے اور ایسے انانیت پسند انسان کا دکھ درد بانٹنے والا کوئی رہتا ہی نہیں کہ اس کی زندگی پھر تنہا  ئیوں اورویرانیوں کا نام بن کر رہ جاتی ہے۔نہ جانے لوگ خواہ مخواہ انا پسندی کا بار کیسے اپنے شانوں پراُٹھا تے ہیں؟نہ جانے خلوص ومحبت سے بغاوت کر کے لوگ تکبر وغرور کی بانہوں میں موت کو کیونکر پسند کرتے ہیں ؟ سچ میں انا پسندی کا منتہائے مقصود سوائے نفرت و غرور کے کچھ بھی نہیں۔ متکبر شخص کے لبوں کی مسکراہٹ ہمیشہ سلبہوجاتی  ہے۔ ہاں ، اگر خوش بختی سے کسی انسان کو اچھی صحبت اور اچھی تربیت مل جائے تو انسانی تعلقات کی گرمجوشی اور نرم دلی وندامت سے ا س کی زندگی آسان اور خوشگوار بن کر رہ جاتی ہے، اسے ایسی راہیں خود بخود مل جاتی ہیں جن سے وہ مسرتوں کی منزل پاتا ہے،لیکن اگر اسی انسان کے حصے میں غرور وتکبر والے اناکے پجاری آ جائیں تو وہ صرف خارزار وں میں اُلجھ کر رہ جاتا ہے ۔ انسان جب زندگی کا سفر فہم و شعور کے ساتھ شروع کرے تو اُسے چاہیے کہ اپنے آگے پیچھے ایسے لوگوں کو دیکھنا پسند کرے جو نرم مزاج ہوں، وسیع القلب ہوں، مدھر زبان  ہوں ، نیک فطرتی کمالات کا ہنر رکھتے ہوں۔ ہمیں چاہیے کہ غرور کو عزتِ نفس نہ سمجھیں ،اوروں کو کم تر نہ جانیں ،زبان کی کڑواہٹ سے بچیں،دل چھلنی کرنے والی باتیں تر ک کریں ،تلخ نوئی اور ترش کلامی سے پر ہیز برتیں ، حرکات و سکنات سے اوروں پر چھاجانے کا گھمنڈ چھوڑ دیں،غیروں کے ساتھ ساتھ اپنوں کو رسوا کرنے سے مجتنب رہیں ، خود پسندی کے عیب کو اپنی زندگی میں جگہ نہ دیں ۔ اور سب سے بڑھ کر اللہ کا یہ فرمان اپنا حزرجان بنائیں کہ انسان ’’ایک گندے پانی کے قطرے سے جو عورت کے رحم میں ٹپکا یا گیا، وجود پاگیا ، مدت گزر جانے کے بعد پھر وہ خون کی شکل ہو گیا، اس کے بعد گوشت کا ٹکڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس میں ہڑیاں پیدا کر دیں ،پھر اس کے اعضاء دُرست کئے ،پھر اس کی شکل و صورت بنا دی اور دو قسموں میں کر دیا :مرد اور عورت۔‘‘ یہی انسان مغرور ہو کر پھر کہتا پھرتا ہے :’’ میں ہوںمیںہوں‘‘۔ یہ ا نا کا بُت ہے جسے پاش پاش کر نے کی اشد ضرورت ہے ۔
