بوفورس سے رافیل تک!

رافیل  لڑاکا طیاروں کے انکشافات کے علاوہ اس وقت قوم کے پاس بحث کے لئے کوئی اور موضوع نہیں رہ گیا۔ ہے۔۔ لگتا تو ایسا ہی ہے کیوں کہ میڈیا ہو یا کوئی اور پلیٹ فارم بس ’’رافیل‘‘ کی ہی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ ویسے یہ ہے بھی زبردست اسکام۔۔۔ ’’56انچ کے سینے کی طرح‘ ‘آج کا حکمران طبقہ کل آنے والی نسلوں سے فخر سے کہہ کتا ہے کہ ’ہم نے اگر اپنے دور میں کوئی اسکام کیا بھی ہے تو ایسا ویسا نہیں کیا‘‘۔ تمام گھپلوں سے بڑا تھا ہمارا گھپلا۔ یہ سچ ہے کہ پنڈت نہرو کے دور حکومت سے لے کر آج تک‘ ہر دور میں دفاعی معاملات میں کوئی نہ کوئی گھپلا ہوتارہا ہے، پہلے کا دور سستا دورتھا۔ اس لئے اگر 1948ء میں برطانیہ سے دو سو JEEPS کی خریدی کا معاہدہ ہوا تھا تو یہ صرف 80لاکھ کا تھا۔۔۔ اور 45جیپوں کے پیسے ہڑپ لئے گئے تو یہ تعجب کی بات نہیں تھی اور اس وقت کے ہندوستانی ہائی کمشنر کے کرشنا مینن‘ تمام تنازعات کے باوجود اگر پنڈت نہرو کے قابل اعتماد رفیق اور مشیر برائے دفاعی امور بن گئے تھے تو یہ بھی کوئی تعجب کی بات نہیں تھی۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ ہر منتازعہ شخصیت جو دھاندلیوں کی ذمہ دار ہوتی یا تو اہم عہدوں پر فائز رہتی ہے یا فائز کی جاتی ہے۔
70برس کے دوران جانے کتنے اسکامس ہوئے‘ دفاعی معاملات میں کتنا نقصان پہنچا گیا‘ہر بار تحقیقات ہوتی ہیں۔ کچھ عرصہ بعد خاموشی طاری ہوجاتی ہے اور پھر ایک نیا اسکام خبروں میں جگہ پانے لگتا ہے۔ جہاں تک ’’رافیل‘‘ معاملت کا تعلق ہے نہ صرف اپوزیشن بلکہ خود بی جے پی کے سینئر قائدین جو واجپائی حکومت کا حصہ رہے‘ جیسے یشونت سنہا اور ارون شوری نے بھی این ڈی اے حکومت پر 58ہزار کروڑ کی ’’رافیل‘‘ معاملت پر سوال اٹھائے ہیں۔ یو پی اے حکومت نے 2007ء میں 126رافیل جیٹ طیاروں کی تیاری کے لئے جو معاہدہ کیا تھا وہ فی طیارہ 526کروڑ کا تھا‘ اس کے برعکس این ڈی اے حکومت نے فی طیارہ 1670 کروڑ کا معاہدہ طئے کیا ہے جس سے سرکاری خزانہ پر 35ہزار کروڑ کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔
روس کے سابق صدر اولند کے اس انکشاف نے جلتے پر تیل چھڑک دی کہ مودی حکومت نے انیل امبانی کی ریلائنس ڈیفنس کو ٹھیکہ دینے کی حمایت کی تھی۔ اپوزیشن کا الزام واجبی بھی ہے کہ اس سے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹیڈ HAL کے وقار کو متاثر کیا گیا ہے۔ بقول راہول گاندھی ایچ اے ایل کو طیارہ سازی کا 70سالہ تجربہ ہے۔ اور امبانی کو دس دن کا بھی تجربہ نہیں ہے۔ ایچ اے ایل 1948ء میں ہندوستان ایرواسپیس کے نام سے قائم کیا گیا تھا۔ 1964ء میں اُسے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹیڈ کا نام دیا گیا تھا۔ یہ ہندوستان کا سب سے باوقار طیارہ ساز ادارہ ہے۔’’رافیل‘‘ طیاروں کے لئے ایچ اے ایل کو شامل نہ کرنے سے یقینا ملک کے اہم ادارے کے وقار کو ٹھیس پہنچی ہے اور اس پر کانگریس کے صدر کا احتجاج اور ان کی بلبلاہٹ معقول بات ہے۔ اب راہول گاندھی کو یہ کیسے سمجھایا جائے کہ بعض اوقات ’’دوستی‘‘ ملکی مفادات سے زیادہ اہم ہوجاتی ہے۔ ورنہ مودی جی کو یہ یاد ضرور رہتا ہے کہ امبانی کی ریلائنس ڈیفنس آٹھ ہزار کروڑ کی مقروض ہے اور وہ ’’رافیل‘‘ طیارہ سازی کی اہل کیسے ہوسکتی ہے؟ ہوسکتا ہے کہ قرض کے دلدل سے نکالنے کے لئے مودی حکومت کاجذبہ خیر سگالی ہو، کیوں کہ حالیہ عرصہ کے دوران جتنے بھی ملک کے لٹیرے تھے جنہوں نے بینکوں کو لوٹا، ہزاروں کروڑ کا قرض باقی رکھا ان سے ہمارے سیاسی قائدین نے ہمدردی دکھائی جیسے وجئے مالیہ کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ جب وہ لندن فرار ہونے والے تھے تو انہوں نے اس کی طلاع پارلیمنٹ احاطہ میں ارون جیٹلی کو دی تھی‘ اور جانے کتنے ایسے مجرمین ہیں جو فرار ہوچکے ہیں۔ اور اس کے لئے حکومت وقت ساتھ دیتی رہی جیسا کہ بھوپال گیاس المیہ1985 کے ایک ذمہ دار یونین کاربائیڈ کے سی ای او وارن اینڈرسن کواس وقت کے کانگریس کے وزیر ارجن سنگھ نے ہندوستان سے فرار ہونے میں مدد دی۔ سینکڑوں افراد کا قاتل بڑی آسانی سے ہندوستان سے نکل گیا اور ہندوستان میں وہ مطلوب مجرم تھا یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ اُسے امریکی حکام کی درخواست پر ہندوستان سے خصوصی طیارے کے ذریعہ باہر نکالنے کے لئے خود حکومت وقت نے مدد کی تھی۔آج ویسی ہی حالات ہیں۔ امبانی برادرس ہزاروں کروڑ کے خسارے میں ہیں‘ ایک بھائی ممبئی میں اوقاف کی جائیداد پر ایک سو کروڑ کا محل بنالیتا ہے۔ حکومت کے اہم ترین ٹھیکے حاصل کرلیتا ہے۔ دوسرا بھائی جو خود بھی ہزاروں کروڑ کا مقروض ہے، اُسے راہول گاندھی کے الفاظ میں مودی حکومت تیس ہزار کروڑ کا تحفہ دے دیا ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یو پی اے حکومت نے 126’’رافیل‘‘ طیاروں کی تیاری کا معاہدہ کیا تھا۔ یہ تعداد گھٹ کر 36ہوگئی ہے۔ رافیل معاملت مبینہ طور پر مودی کے دورہ ٔ فرانس کے موقع پر کی گئی۔ وزیر اعظم نے ’’میک اِن انڈیا‘‘ کا نعرہ لگایا۔ اس کی تشہیر کی‘ مگر رافیل طیاروں کے لئے اس نعرہ پر عمل نہیں ہوا۔ اپوزیشن کا یہ سوال اپنی جگہ درست ہے کہ اگر ریلائنس ڈیفنس رافیل کے اجزاء تیار نہیں کرتی ہے تو پھر اسے 21ہزار کروڑ روپئے کا ٹھیکہ کیوں دیا گیا؟کانگریس‘ مودی حکومت پر رافیل معاملت کا ا لزام عائد کررہی ہے تو مودی اینڈ کمپنی نے راہول اینڈ کمپنی کو کانگریس دور حکومت کے گھپلوں کی یاد دلائی۔ راجیو گاندھی کے دور کے بوفورس اسکام کو یاد دلایا۔ اپوزیشن نے فوری جواب دیا کہ رافیل معاملت ۔ بوفورس معاملت سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔ 
آپ کو یاد ہوگا کہ 1987ء میں راجیو گاندھی بوفورس توپوں کی معاملت میں گھر گئے تھے۔ الزام تھا کہ سویڈن کی کمپنی بوفورس سے ایک ارب تیس کروڑ ڈالرس کی مالیت کے Howitzers 155mm کی خریدی کے لئے درمیانی شخص یا ’’دلال‘‘ اوٹاویو قطروچی کو 64کروڑ کمیشن کے طور پر ادا کئے گئے تھے۔ قطروچی راجیو گاندھی کے قریبی حلقہ میں شامل بتائے جاتے تھے۔ بڑے ہنگامے ہوئے‘ کیا ہوا۔۔۔ فیرفیکس کے جاسوسوں نے تحقیقات کیں‘ راجیو حکومت پر دبائو ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا۔
بوفورس کے بعد ایک اور اسکام منظر عام پر آیا تھا۔ ہندوستان نے اسرائیل سے بارک میزائلس کی خریداری کا معاہدہ کیا۔ اس نے 1150 کروڑ کی لاگت سے بارک میزائلس سسٹم خریدے۔ اس وقت اے پی جے عبدالکلام دفاعی امور میں وزیر اعظم کے مشیر تھے‘ انہوں نے اس کی مخالفت کی۔ سی بی آئی نے 2006ء ایک مقدمہ درج کرکے سمتا پارٹی کے جنرل سکریٹری آر کے جین کو گرفتار کیا تھا۔ ویسے 2009ء میں آرڈیننس فیکٹری کے سابق بورڈ ڈائرکٹر سدپیتاگھوش بھی دو ہندوستانی اور چار غیر ملکی کمپنیوں سے دفاعی معاملت میں کمیشن خوری کے لئے گرفتار کئے گئے تھے اور ان کمپنیوں کو بلیک لسٹ کردیا گیا تھا۔دفاعی معاملات کا ذکر ہے تو کفن چور بھی تاریخ کا جز ہے۔ کفن تو چوری نہیں ہوئے البتہ مردوں کے لئے استعمال کئے جانے والے تابوت ضرور چرا لئے گئے۔ 1999ء میں کارگل جنگ کے شہیدوں کے لئے خریدے گئے تابوتوں میں بھی کمیشن خوری ہوئی تھی۔
ہر بار ایسے اسکامس منظر عام پر آتے ہیں‘ سیاسی قائدین کے پاس سوائے الزامات اور جوابی الزامات کے اور کوئی کام تو ہے نہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ خاموش ہوجاتے ہیں مگر ہمیں تو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ جو دھاندلیاں ہوئی ہیں اس سے متاثر یہ ہندوستانی شہری ہوتا ہے کیوں کہ جو پیسہ کمیشن خوری میں جاتے ہیں وہ تمام شہری کا ٹیکس کا ادا کیا ہوا ہوسکتا ہے۔ایک سروے کے مطابق ایرو اسپیس اور ڈیفنس میں رشوت خوری کا تناسب 64ہے۔
دفاعی معاملات میں کمیشن خوری ہو یا دفاعی راز دشمن کے ہاتھ فروخت کرنے کا معاملہ‘ اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔ خاطی ہر دو معاملات میں ناجائز طریقہ سے دولت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایک میں معیار سے سمجھوتہ کرتے ہوئے اپنے ملک اور ملک کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں اور دفاعی راز چرانے کے معاملے میں بھی وہ اپنے ضمیر کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے مفادات کو دشمن کے ہاتھ میں فروخت کردیتے ہیں۔ چوں کہ ذمہ داروں کے خلاف الزام عائد کرنے والے زیادہ تر اپوزیشن والے ہوتے ہیں اس لئے یا تو اسے مذاق میں ٹال دیا جاتا ہے یا پھر محض الزام قرار دے کر مسترد کردیا جاتا ہے۔ ارباب اقتدار ہوں یا حزب مخالف سب ہی ایک تھیلی کے چٹے بٹے نظر آتے ہیں اور صرف عام آدمی بے وقوف بنتا ہے۔۔۔ بہرحال رافیل معاملہ پر چاہے کتنی بھی آہ و بکا یا شور و غل ہو، الیکشن 2019ء پر اس کا کوئی اثر ہونے والا نہیں ہے کیوں کہ عام آدمی کو ملک کے لئے دفاعی نظام سے زیادہ اپنی خود کی سلامتی کی فکر ہے جو ہر گزرنے والے دن کے ساتھ خطرے میں گھرتی جارہی ہے۔
رابطہ :‘ ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی‘ حیدرآباد۔ فون:9395381226