بنیادی ڈھانچہ موجود،سہولیات ندارد | پہلی پورہ طبی مرکزمیںساز وسامان دھول چاٹ رہا ہے

فیاض بخاری

بارہمولہ //پہلی پورہ بونیار میں محکمہ صحت نے 2007 میں ایک سب سنٹر کا درجہ بڑھاکر اُسے پرائمری ہیلتھ سینٹر کا درجہ دیا بلکہ اس کیلئے باضابطہ لاکھوں روپے کی لاگت سے ایک دو منزلہ نئی عمارت تعمیر کی گئی۔عمارت میں ہر طرح کی جدید مشینری اورسازوسامان کو دستیاب رکھا گیا ۔ 16سال گزرنے کے باوجود بھی اس طبی مرکز میں عملہ کی کمی ہے ۔ہسپتال میں امراض دندان کیلئے جدید طرز کی ایک مشین بھی مہیا کی گئی لیکن ابھی تک اُسے عوام کے نام وقف نہیں کیا گیا۔اسی طرح لاکھوں روپئے کا دیگر سازو سامان بھی دھول چاٹ رہاہے ۔

اگر چہ محکمہ نے اس ہسپتال کوچلانے کیلئے دو ملازمین کو تعینات کیا ہے جو صبح دس بجے ہسپتال میں حاضر ہوتے ہیں اور شام چار بجے بند کرکے چلے جاتے ہیں لیکن ڈاکٹر کی غیر موجود گی سے بیمار اس طبی مرکز کا رخ نہیں کرتے ۔ہسپتال میں موجود ایکسرے مشین اوردیگر سازوسامان ٹھپ پڑا ہے ۔ علاقے کے سرپنچ عبدالخالق کا کہنا ہے کہ بارہمولہ سے اوڑی تک ایسا جدید طبی مرکز کہیں نہیں ہے لیکن محکمہ صحت کی غفلت شعاری کی وجہ سے ہسپتال میں کوئی کام کاج نہیں ہوتا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ پہلی پورہ تحصیل بونیار کا سب سے بڑا علاقہ ہے اور اس میں پہلی پورہ ، ہلن ، ہاکہ پتھری ، ناگہ ناڑی ، منزگام ، اجارا اور پیرنیا دیہات شامل ہیں ۔ ہسپتال میںبیشتر سہولیات میسر ہونے کے باوجود بیماروں کو آج بھی بارہمولہ اور دیگرطبی مراکزکا رخ کرنا پڑتاہے ۔ہسپتال میں سر درد کے سوا کوئی دوائی دستیاب نہیں ہے اورنہ ہی ہسپتال کے باہر کوئی دوائی کی دکان ہے جس سے بیماروں اور تیماداروں کو مشکلات درپیش ہیں ۔ انہوں نے ایل جی انتظامیہ سے اس مسئلہ کو فوری طور حل کرنے کا مطالبہ کیا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس دس بیڈ والے ہسپتال کو چلانے کیلئے کم از کم بیس ملازمین کی ضرورت ہے مگر یہاں صرف ایک ڈاکٹر اور ایک نرس موجود ہے جو نہ ہونے کے برار ہے۔ اس سلسلے میںچیف میڈکل آفیسر بارہمولہ ڈاکٹر بشیر احمدنے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بہت جلد اس طبی مرکز کیلئے ڈاکٹروں اور دیگر عملے کا انتظام کیا جائے گا۔