بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا عدلیہ کا فرض

نئی دہلی//ہندوستان کے چیف جسٹس ( سی جے آئی) دیپک مشرا نے آج یہاں کہا کہ آئین میں فراہم کردہ بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا عدلیہ کے فرائض منصبی میں شامل ہے ۔جسٹس مشرا نے 'قومی یوم قانون' کے موقعہ پر منعقد دو روزہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو آئین کے ذریعے بنیادی حقوق دیئے گئے ہیں اور حکومت سے اس سے تجاوز کرنے کی توقع قطعی نہیں کی جاتی ہے ۔اگر ان حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے ، یا اس کاتھوڑاسابھی خدشہ ہوتا ہے تو اس کی حفاظت کرنا عدلیہ کا فرض ہے ۔عدلیہ کی بڑھتی ہوئی 'عدالتی سرگرمی' کے حالیہ الزامات کے سلسلے میں چیف جسٹس نے کہا کہ آئین نے عدلیہ کے حقوق کا واضح ذکر کیا ہے ، لیکن اس کے عمل کو آج عدلیہ کی 'عدالتی سرگرمی' قرار دیا جانے لگا ہے ۔انہوں نے واضح کیا کہ عدلیہ کی یہ سرگرمی کچھ اور نہیں، بلکہ شہریوں کے حقوق کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے . انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت بنیادی حقوق کی توسیع کی گئی ہے . یہ بنیادی حقوق تشریح کے موضوعات ضرور ہیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جو چیز آج متعلقہ نہیں نظر آتی، کل وہ متعلقہ ہو سکتی ہے ۔جسٹس مشرا نے کہا کہ عدلیہ کسی کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی. انہوں نے کہا''ہم پالیسی سازی کے معاملے میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے . ہم پالیسیاں بھی نہیں بناتے ، لیکن ہم پالیسیوں کی تشریح ضرور کرتے ہیں، کیونکہ یہ ہمارا فرض ہے ''۔اس موقع پر لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے کہا کہ آئین سازوں نے ہمیں آئین کے طور پر ایک انمول ثقافتی ورثہ فراہم کیا ہے ۔