بندرو کی آخری رسومات| کثیر تعداد میں لوگوں کی شرکت

 سرینگر//جب خاندان والوںنے رسمی آخری غسل کی تیاری کی توویدک منتروں اور ایک قریبی مسجد سے اذان کی آواز، چند لمحوں کیلئے بندرو کی رہائش گاہ پر سریلی ہم آہنگی کے ساتھ مل گئی جہاں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں سوگوار بدھ کے روز جمع ہوئے ۔منگل کی شام بندرو کو اس کے دواخانہ بندرو میڈیکیٹ میں قتل کر دیا گیا ، اس کی بیوی کرن غم سے چیخ اٹھی۔ "آج اسے ہندئوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی طرف سے بھی شمشان گھاٹ بھیجا جا رہا ہے، وہ انسانیت کے لیے زندہ رہا، اس نے آپ لوگوں کی خدمت کی، اسے کیوں مارا گیا؟ اس کا کیا قصور تھا؟‘‘۔انکے گھر تعزیت پرسی کرنے والوں میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ،سید الطاف بخاری، عبدالرحمان ویری،جی این ہانجورہ ، محمد یوسف تاریگامی اور جنید متو سمیت دیگرسیاسی لیڈر شامل تھے۔ سرینگر میں رہنے والوں کے لیے ایک واقف چہرہ، وادی بھر سے بڑی تعداد میں لوگوں کی خشک آنکھیں اندرا نگر کے بندرو گھر میں جمع تھیں تاکہ ممتاز کشمیری پنڈت کو آخری الوداع کہا جاسکے ، ان میں سے ایک جو وادی میں برسوں کی ہنگامہ آرائی اور کشیدگی کے دوران بھی کہیں نہیں گیا۔تاہم ان کی بیٹی شردھا بندرو کا لہجہ سخت تھا البتہ آنکھیں خشک تھیں۔چندی گڑھ کے ایک ہسپتال میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر کام کرنے والی انکی بیٹی نے کہا ، "میں آنسو نہیں بہائوں گی،وہ ایک کرسی پر کھڑی ہوئی اور قاتلوں کو چیخ کر کہا ، "میں مکھن لال بندرو جی کی بیٹی ہوں، انکاجسم گیا لیکن روح نہیں،اس کا  صرف جسم کشمیر چھوڑ گیا ہے لیکن اس کی بھائی چارے کی روح زندہ رہے گی۔اپنے والد کے قاتلوں کو للکارتے ہوئے ، اس نے کہا ، "اگر تم میں ہمت ہے تو آ مجھ سے بحث کرو ، تم نہیں کرو گے، تم صرف پتھر پھینکنا اور آگ کھولنا جانتے ہو۔"ڈاکٹر شردھا نے کہا کہ اس نے اپنا کاروبار ایک سائیکل پر شروع کیا ۔ ڈاکٹر شاردھا نے بتایا کہ’’میں ایسوسی سیٹ پروفیسر ہوں، میرے بھائی  ایک مشہور ڈاکٹر ہیں اور میری والدہ دکان پر بیٹھتی ہیں یہ ہمیں مکھن لال بندرو نے بنایا ہے‘‘۔ ڈاکٹر شاردھانے کہا کہ انہوں نے ہندو ہونے کے باوجود بھی قرآن پڑھا ہے اور قرآن میں لکھا ہے کہ روح کبھی فنا نہیں ہوتی۔اسکے بیٹے ڈاکٹر سدھارتھ بندرو نے کہا کہ انکا والد مسلح شروش کے 31 سالوں کے دوران امیر یا غریب ہر شخص کے لیے کھڑا رہا اور ضرورت مندوں کو مفت ادویات فراہم کیں۔ ان کی دکانوں کا سلسلہ حقیقی ادویات کا ایک قابل اعتماد نام تھا۔ وہ اپنے بیٹے کو کشمیر کے لوگوں کی خدمت کے لیے گڑھ گائوں کے میدانتا ہسپتال میں اعلی تنخواہ والی نوکری سے واپس لایا ۔ بندرو کی بیوی کرن نے کہا ، "ہمارے عبادت کے کمرے میں ہم تمام مذہب اکٹھے ہیں، میرے شوہر ایک مذہب پر یقین رکھتے تھے اور وہ انسانیت ہے اور کچھ نہیں۔"جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے انکے بیٹے سدھارتھ بندرو سے کشمیر نہ چھوڑنے کی درخواست کی۔عبداللہ ، جو سدھارتھ کو گلے لگاتے ہوئے رو رہے تھے ، نے کہا ، "آپ کے والد ایک بہادر آدمی تھے۔ وہ تمام مشکلات کے خلاف کھڑے تھے اور میں آپ سے درخواست کر رہا ہوں کہ آپ اپنے والد کی طرح کشمیر نہ چھوڑیں۔ خدا انشا اللہ مجرموں کو سزا دے گا۔ یہ بدقسمتی ہے کہ درندوں نے اسے بھی کھا لیا۔ سدھارتھ نے کہا کہ ان کے والد ایک اصولی آدمی تھے، جنہوں نے حقیقی ادویات بیچ کر نام کمایا۔"مددگار اور دوستانہ ہونے کی وجہ سے کشمیر میں سب کی طرف سے قابل احترام ، اس نے مجھے یہاں واپس آنے اور یہاں لوگوں کی خدمت کرنے کی ترغیب دی۔ مجھے نہیں معلوم کہ اسے کوئی خطرہ تھا، مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ وہ 1990 کی دہائی سے اپنی دکان کھلی رکھنے کے لیے بہادر تھا۔  جموں و کشمیر اپنی پارٹی سربراہ الطاف بخاری نے بھی خاندان کے ساتھ تعزیت کے لیے بندرو کے گھر کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا’’بربریت اس واقعے کو بیان کرنے کے لیے بہت چھوٹا لفظ ہے۔ میری بندرو  کے ساتھ ایک طویل رفاقت رہی اور یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ اس نے ہمیں اس طرح چھوڑ دیا"۔ پی ڈی پی کے سینئر نائب صدر عبدالرحمان ویری اور جنرل سکریٹری جی این لون ہانجورہ اندرا نگر سرینگر میں واقع بندرو ہاؤس گئے اور بندرو کے غمزدہ انتقال پر تعزیت کی۔دونوں لیڈروں نے نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں مکھن لال بندرو کے قتل کی شدید مذمت کی۔ ادھرتاریگامی نے  بندرو کے خاندان سے ملاقات کی اور تعزیت پیش کی۔ تاریگامی نے بدھ کے روز  بندرو کی رہائش گاہ کا دورہ کیا۔تاریگامی نے مرحوم بندرو کو ایک سیدھا آدمی کہا جو تمام مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے وقت کے امتحان میں کھڑا رہا اور لوگوں کی خدمت کے لیے اپنے بھائیوں کے ساتھ کشمیر میں رہا۔ اس نے کبھی اس یقین کے ساتھ تحفظ نہیں مانگا کہ وہ اپنے لوگوں کے درمیان محفوظ ہے۔
 
 

بندرو سمیت شہریوں کا بہیمانہ قتل

کشمیری سماج کیلئے بڑا نقصان: حریت کانفرنس

نیوز ڈیسک
 
سرینگر //میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی والی حریت کانفرنس نے مشہور فارماسسٹ ایم ایل بندرو کے بہیمانہ قتل پر صدمے اور دکھ کا اظہار کیا ہے ۔بیان میں ایم ایل بندرو کی وحشیانہ ہلاکت پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ آنجہانی نے ایک لمبی مدت تک عوام کی بے لوث خدمت کی اور ان کی ہلاکت کو کشمیری سماج کا ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے اسکی پر زور مذمت کی گئی ۔بیان میں مزید 2 اور نہتے شہریوں کے ہلاکتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ انسانیت کیخلاف پر تشدد کارروائی اور قتل عام کے مترادف ہے۔حریت کانفرنس نے بندرو اور دیگر دونوںمہلوکین کے عزیز و اقارب اورسوگوار کنبوں کے ساتھ ان سانحات پرتعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے صبر و تحمل کی دعا کی ہے۔حریت کانفرنس نے جموںوکشمیر کی موجودہ سنگین صورتحال اور آئے روز پر تشدد واقعات کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کی ہلاکتوں کے تناظر میں ایک بار پھر عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مداخلت کرکے جموںوکشمیر کے دیرینہ تنازع کا حل نکال کرکشمیریوںکو عدم تحفظ اور غیر یقینیت کے ماحول سے نجات دلائیں۔