بمنہ میں زچہ و بچہ ہسپتال کی تعمیر میں تاخیر، حکومت کا اعتراف

 جموں//سرکار نے بمنہ سرینگر میں زچہ وبچہ اسپتال میں تاخیر کا اعتراف کرتے ہوئے نامسائد حالات اور سیلاب کو ذمہ دار قرار دیا ہے،جبکہ اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ اسپتال کی تعمیر میں تاخیر کے بعد مالی سال2018-19میں مکمل ہوگا۔ بمنہ میں گزشتہ کئی برسوں سے زیر تعمیر امراض خواتین و اطفال کا اسپتال ابھی تشنہ تکمیل ہے ۔ممبر اسمبلی بٹہ مالو نور محمد شیخ کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں طبی تعلیم کے وزیر نے تحریری طور پر بتایا کہ سال2012-13 اور 2015-16 کے دوران مرکزی معاونت والی اسکیم سے50کروڈ اور25کروڑروپے بالترتیب،سے شروع کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اسپتال کی تعمیر کیلئے حکومت ہند،مرکزی وزارت صحت نے رقومات واگزار کیں۔ سرکار نے بتایا کہ تاہم کچھ وجوہات کی وجہ سے اس پروجیکٹ کے مکمل ہونے میں تاخیر ہوئی۔ وزیر صحت نے بتایا کہ وادی میں2014میں آئے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے اسپتال کی تعمیر کا کام رک گیا اور قریب ایک برس بعد شروع ہوا۔انہوں نے تحریری جواب میں کہا کہ سال2016میں ایک مرتبہ پھر وادی میں امن و قانون کی صورتحال پیدا ہوئی،جس کی وجہ سے مزدور وادی سے نکل گئے اور اس کی وجہ سے تعمیراتی کام بھی رک گیا۔انہوں نے کہا کہ اس سال2016-17کے دوران اس پروجیکٹ کیلئے جو رقومات واگزار کیں گئے تھے، کا استعمال نہ ہوسکا،جس کی وجہ سے سال2017-18میں محکمہ خزانہ کی جانب سے ان کا ایک بار پھر احاطہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان وجوہات کی وجہ سے مرکزی حکومت سے رقومات کا ایک چھوٹا حصہ ہی واگزار ہوا،تاہم مرکزی حکومت کی طرف سے امسال2017-18کے دوران امراض زنانہ و اطفال اسپتال کے پروجیکٹ کیلئے مکمل فنڈس کو وزیر اعظم ترقیاتی پروگرام کے تحت منظور ہوئے ہیں،اور انہیں متعلقہ محکموں کے سربرہاں کو واگزار کیا جائے گا۔وزیر صحت نے کہا کہ امکانی طور پر امراض زنانہ اسپتال سال2018-19میں مکمل ہوگا،جبکہ بچہ اسپتال سال2019-20میں مکمل ہوگا۔