بمنہ سے شا لہ ٹینگ تک بدترین ٹریفک جام

سرینگر//منگل کی شام بمنہ سے شا لٹینگ تک تین گھنٹوں کے بدترین ٹریفک جام کے نتیجے میں سینکڑوں گاڑیاں درماندہ رہیں۔ سرینگر اور مضافاتی شاہراوں پرغیر معمولی ٹریفک جامنگ کے سلسلے نے جہاں ایک جانب عوام کو مصیبتوں کا شکار بنایا ہے وہیں اس صورتحال سے محکمہ ٹریفک کے ان دعوئوں کی پول کھل گئی ہے جن کے مطابق محکمہ ٹریفک نظام میں بہتری کیلئے اقدامات کررہاہے۔ ٹریفک محکمہ کی بے حسی کی مثال منگل کی شام پانچ بجے، بمنہ چوک میں دیکھنے کوملی جہاں ٹریفک جام کا سلسلہ شروع ہوگیا جس میں وقت گذرنے کے ساتھ ہی اضافہ ہوا اور بٹہ مالو، قمرواری، ٹینگہ پورہ، پارم پورہ اور شالٹینگ میں سینکڑوں گاڑیاں درماندہ ہوگئیں۔ پارم پورہ بس اڈے سے بانڈی پورہ ، گلمرگ ، سوپور ، پٹن، ہندواڑہ ، کپواڑہ بارہمولہ اور ماگام ٹنگمرگ جانے والی ہزاروں گاڑیاں رْک گئیں اور اسکے نتیجے میں ڈرائیوروں نے دیگرراستوں سے جاکر صورتحال کر مزید سنگین بنادیا۔ قمرواری، بمنہ ، اور بٹہ مالو میں اگر چہ ٹریفک پولیس کے کچھ اہلکار تعینات رہتے ہیں لیکن گاڑیوں کی بھاری تعداد کے سامنے وہ بے بس ہوکر رہ گئے اور یوںدیکھتے ہی دیکھتے لاوئے پورہ سے ٹینگہ پورہ تک بدترین ٹریفک جام ہوا۔اس صورتحال کی وجہ سے مردوزن بروقت اپنے گھروںتک نہیں پہنچ سکے جبکہ مریضوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جب کئی گھنٹوں تک مسافر گاڑیوں میںدرماندہ رہے تو انہوں نے اپنی منزلوں پر پہنچنے کے لئے گاڑیوں سے اتر کر پیدل مارچ شروع کیا۔ مقامی لوگوں کی مداخلت سے رات آ ٹھ بجے گاڑیوں کی آمدورفت بحال کرنے میں کامیاب ہوگئے لیکن تب تک مسافروں کے گھنٹوں ضائع ہوگئے تھے اوردوردراز جانے والے مسافر اپنے گھروں کونہیں پہنچ سکے اور انہوں نے جی وی سی اسپتال کے ساتھ شہر میں اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے یہاں رات گذاری ۔(سی این ایس)