’بلی بائی ایپ‘ معاملہ :خواتین کمیشن نے کیا دہلی پولیس کو طلب

نئی دہلی// دہلی کمیشن برائے خواتین نے پیر کو 'بلی بائی ایپ معاملے میں راجدھانی پولیس کے سائبر کرائم سیل کو سمن جاری کیا۔دہلی کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن سواتی مالیوال نے کہاکہ میرا ماننا ہے کہ سائبر کرائم سے متعلق معاملات میں دہلی پولیس کے سست رویے اور عدم کارروائی کی وجہ سے ایسے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ میں نے پولیس سے جواب طلب کیا ہے کہ اتنا وقت گزرنے کے باوجود سلی ڈیل معاملے میںاب تک کوئی گرفتاری کیوں نہیں ہوئی۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے دہلی پولس کی کارروائی میں لاپروائی بالکل قابل قبول نہیں ہے ۔ میں نے دہلی پولیس کو طلب کیا ہے اور 'سلی ڈیل اور 'بلی بائی ایپ دونوں معاملوں میں مجرموں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے اور سائبر کرائم سے متعلق بقیہ معاملات میں بھی جلد از جلد کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ہم ایسے معاملات میں پولیس کے احتساب کو یقینی بنائیں گے ۔کمیشن نے انٹرنیٹ پلیٹ فارم 'گٹ ہب پر مسلم لڑکیوں کی تصاویر ان کی مرضی کے بغیر اپ لوڈ کرنے اور ان کی نیلامی سے متعلق میڈیا رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے سائبر سیل کو طلب کیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ایک نامعلوم گروپ کی جانب سے انٹرنیٹ پلیٹ فارم 'گٹ ہب کا استعمال کرتے ہوئے سیکڑوں مسلم خواتین اور لڑکیوں کی فحش تصاویر ایک ایپ پر اپ لوڈ کی جا رہی تھیں جنہیں‘ 'بلی ڈیل آف دی ڈے ’ کے نام سے ایپ پر شیئر کیا جا رہا تھا۔ گزشتہ سال 2021 میں بھی اسی طرح کا ایک معاملہ اجاگر ہوا تھا جس میں '‘سلی ڈیل’کے نام سے ایپ پر نیلامی کے لیے کئی مسلم خواتین اور لڑکیوں کی تصاویر اپ لوڈ کی گئی تھیں۔ ڈی سی ڈبلیو کی مداخلت کے بعد دہلی پولیس نے گزشتہ سال جولائی میں اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی تھی لیکن معاملے کی سنگینی کے باوجودآج تک پولیس نے کوئی گرفتاری نہیں کی ہے ۔ دہلی خواتین کمیشن نے اتنے سنگین معاملے میں مجرموں کی عدم گرفتاری پر اپنی تشویش اور حیرت کا اظہار کیا۔ معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کمیشن نے کہا کہ 'سلی ڈیل معاملے میں پولیس کی جانب سے فوری کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے آج پھر سے مسلم لڑکیوں اور خواتین کی آن لائن نیلامی کا شرمناک معاملہ 'بلی بائی کی شکل میں سامنے آیا ہے ۔کمیشن نے دہلی پولیس سے اس طرح کے معاملات میں اپنے ایکشن پلان کی تفصیلات دینے کو کہا ہے ۔ خواتین کمیشن نے دہلی پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ 6 جنوری کو کمیشن کے سامنے دونوں معاملات کی مکمل تفصیلات اور دونوں میں کی گئی کارروائی کی تفصیلی ‘ایکشن ٹیکن رپورٹ’ کے ساتھ حاضر ہو۔