بلڈ پریشر کی صحیح پیمائش گھر میں ممکن:ڈاک

سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدرڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ گھرمیں بلڈ پریشر کی پیمائش کے دوران مریض  کے بلڈ پریشر کی صحیح تصویرسامنے آتی ہے بہ نسبت اُس پیمائش کے جوطبی ترتیب میں کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹری کلنک پر بلڈ پریشرکی پیمائش اگر کی جائے تووہ زیادہ ہوتاہے بہ نسبت اُس پیمائش کے جو گھر میں کی جائے۔ انہوں نے مزید اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ اس لئے ہوتا ہے کہ آپ بلڈ پریشر کی ڈاکٹر کے ذریعے پیمائش کے متعلق حساس ہوتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ گھر میں لی گئی بلڈ پریشر کی پیمائش سے اس بات کا بہتر طور پتہ چل سکتا ہے کہ آپ جو دوالے رہے ہیں اُس سے بلڈ پریشر کم ہوتا ہے کہ نہیں ۔ڈاکٹرنثار نے کہا کہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ گھر میں روزانہ بلڈ پریشر کی پیمائش سے بلڈ پریشر سے وابستہ نتائج جیسے دل کادورہ،دماغ کی نس کا پھٹ جانا یا گردوں کا بے کار ہونا،سے متعلق صحیح اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ گھر میں آٹومیٹک بلڈ پریشر پیما کی مددسے صحیح بلڈ پریشر ناپ سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ آسان اور درست پیمائش ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے قواعدکے تحت 130/80سے زیادہ جسے بھی بلڈ پریشر ہو،وہ بلندبلڈ پریشرکا مریض تصورکیا جاتا ہے ۔نئے قواعد میں گھر میں بلڈ پریشر کی پیمائش کی سفارش بھی کی گئی ہے ۔