بلدیاتی انتخابات: راجوری میں 80.19فیصد ،پونچھ میں 72.02 فیصد ووٹ پڑے

راجوری //راجوری میں ووٹنگ کی شرح 80.19فیصد رہی جہاں سب سے زیادہ شرح تھنہ منڈی میں 90.23جبکہ سب سے کم راجوری میں74.71رہی ۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق راجوری میونسپل کمیٹی کے سترہ وارڈوں میں 14555رائے دہندگان میں سے10848نے ووٹ ڈالااوراس طرح سے مجموعی طور پر راجوری میں ووٹنگ کی شرح 74.71فیصد رہی ۔راجوری میں 5501مردوں جبکہ 5347خواتین نے ووٹ ڈالے ۔وہیں تھنہ منڈی میں ووٹنگ کی شرح 90.23فیصد ریکارڈ کی گئی جہاں 864مرد وںاور853خواتین نے حصہ لیا ۔سندر بنی میں یہ شرح 89.63فیصد رہی جہاں1246خواتین اور1268مرد ووٹروں نے حصہ لیا ۔اسی طرح سے کالاکوٹ میں یہ شرح 86.25فیصد رہی جہاں 953خواتین اور 1035مرد ووٹنگ کے عمل میں شریک ہوئے ۔نوشہرہ میں 1504مرد ووٹروں اور1444خواتین ووٹروں کے ساتھ شرح فیصد 86.1فیصد رہی ۔اس دوران راجوری پولیس نے جواہر نگر میں تین افراد کو حراست میں لیا جو اس کے مطابق الیکشن میں رخنہ ڈالنا چاہتے تھے ۔ایس ایس پی راجوری یوگل منہاس نے بتایاکہ انتخابات پرامن طور پر اختتام کو پہنچے اور کسی طرح کا کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیںہوا۔
پونچھ اور سرنکوٹ کی میونسپل کمیٹیوں میں ووٹنگ کی شرح بالترتیب 70.94فیصد اور73.14فیصد رہی ۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پونچھ میونسپل کونسل میں کل 9148ووٹ پڑے جن میں سے 4538مرد ووٹ جبکہ 4510خواتین ووٹ تھے ۔پونچھ کے سترہ وارڈوں میں سب سے زیادہ ووٹ وارڈ نمبر بارہ میں پڑے جہاںشرح 83.51فیصد ریکارڈ کی گئی ۔سرنکوٹ میں 10749رائے دہندگان نے حق رائے دہی کا استعمال کیا جن میں 5417مرد جبکہ 5232خواتین تھیں ۔سرنکوٹ میں سب سے زیادہ ووٹ وارڈ نمبر نو میں پڑے جہاں شرح 93.55فیصد رہی ۔
 

کئی جگہوں پر دکانیں بند رہیں 

سمت بھارگو
راجوری //راجوری میں بلدیاتی انتخابات کے چلتے کئی علاقوں میں دکانیں بند رہیں اور لوگوں نے بڑی تعداد میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ۔راجوری کے تمام ستر وارڈوں میں بہت کم تعداد میں دکانوں کو کھلے ہوئے دیکھاگیا اور زیادہ تر کاروباری مراکز بند رہے کیونکہ لوگ چنائو میں حصہ لینے میں مشغول رہے ۔ایک دکاندار کمل کانت نے بتایاکہ یہ انتخابات تیرہ سال کے بعد ہوئے ہیں اور انہوں نے ان میں شرکت کیلئے اپنی دکان کو بند کرنے کا فیصلہ لیا ۔
 

پولنگ مراکز کے باہر بھاری رش

سمت بھارگو
راجوری //راجوری اور پونچھ میں لگ بھگ تمام پولنگ مراکز کے باہر بھاری رش دیکھاگیا اور لوگ قطاروں میں لگ کر اپنی اپنی باری کا انتظار کرتے رہے ۔راجوری پونچھ کی تمام سات میونسپل کمیٹیوں میں قائم کئے گئے پولنگ مراکز کے باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے اور انہوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ۔رائے دہندگان کے علاوہ بھی کئی لوگ انتخابی عمل کو دیکھنے پہنچے ۔راجوری کے ایک پولنگ مرکز کے باہر کھڑے رشی شرما نے بتایاکہ وہ پنچایتی الیکشن کے ووٹر ہیں تاہم یہاں چنائو دیکھنے آئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ یہاں ایسا ماحو ل ہے جیسے کوئی تہوار ہو ۔اسی طرح سے وارڈ نمبر پانچ جواہر نگر کے پولنگ مرکز کے باہرکھڑے چندر شرما نے بھی بتایاکہ وہ بھی یہاں رائے دہندگان کا رجحان دیکھنے آئے ہیں ۔
 
 
 

عمر رسیدہ افراد نے بھی ووٹ دیئے 

سمت بھارگو
راجوری //دونوں اضلاع میںاپنے طبی مسائل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کئی عمر رسیدہ افراد نے بھی حق رائے دہی کا استعمال کیا ۔تمام پولنگ مراکز کے باہر عورتوں اور جوانوں کے ساتھ ساتھ بزرگ افراد کو بھی دیکھاگیا۔گورنمنٹ گرلز ہائی سکول جواہر نگر میں قائم کئے گئے پولنگ بوتھ پر 83سالہ سمرتی دیوی ووٹ دینے آئیں جنہیں ان کے بیٹے نے سہارا دیاہواتھا۔سمرتی کاکہناتھاکہ ووٹ دینا اس کا حق ہے اور وہ مرنے تک اس کا استعمال کرے گی۔پونچھ میں بہترسالہ محمد رفیق نے بھی حق رائے دہی کا استعمال کیا ۔انہوں نے کہاکہ عمر ان کیلئے کوئی رکاوٹ نہیں اور وہ اپنے ووٹ کا استعمال کرنے آئے ہیں ۔راجوری کے وارڈ نمبر تین میں 85سالہ محی الدین نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا جنہیں ان کے اہل خانہ پولنگ اسٹیشن تک لائے تھے۔وار ڈ نمبر چھ جواہر نگر راجوری کی اسی سالہ کرشنا دیوی طبی مسائل کی وجہ سے مریضہ ہیں تاہم وہ بھی اپنے گھر کے افراد کے ساتھ بیساکھیوں کے سہارے ووٹ دینے پہنچیں ۔کرشنا دیوی کاکہناہے کہ انہیں ہڈیویں کی پریشانی ہے اوروہ چلنے کے قابل نہیں مگر ووٹ دینا ان کا حق ہے جس کیلئے انہیں یہاں آناپڑا۔
 

۔90سالہ کانگریسی امیدوار نے بھی ووٹ ڈالا

طارق شال 
تھنہ منڈی //تھنہ منڈی میں کانگریس کی طرف سے نامزدکردہ 90سالہ امیدوار نے بھی حق رائے دہی کا استعمال کیا ۔کانگریس کی طرف سے میونسپل کمیٹی تھنہ منڈی کے وارڈ نمبر چھ سے خواجہ عبدالحمید شال کو امیدوار نامزد کیاگیاتھا جن کی عمر لگ بھگ نوے سال ہے ۔ وہ پونے گیارہ بجے پولنگ بوتھ پر پہنچے اور انہوں نے اپنا ووٹ دیا۔ اس دوران انہوں نے بات کرتے ہوئے کہاکہ وہ اپنے وارڈ کی ترقی میں رول ادا کرناچاہتے ہیں اور اسی لئے الیکشن میں حصے لے رہے ہیں۔