بلاک ڈیولپمنٹ اور ضلع ترقیاتی انتخابات | ڈی سی سرینگر کی امیدواروںکے ساتھ میٹنگ | مختلف امور پر غورو خوض، ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے پر زور

سرینگر //ڈسٹرک الیکشن آفیسر( ڈپٹی کمشنر) سرینگر ڈاکٹر شاہر اقبال چودھری نے منگل کو مختلف سیاسی جماعتوں اور ڈی ڈی سی انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواروں کے ساتھ ایک میٹنگ کا انعقاد کیا ۔ میٹنگ میں ڈی ڈی سی انتخابات کے سے متعلق مختلف امور پر غور وخوض کیا گیا ۔ میٹنگ میں نیشنل کانفرنس کے شوکت احمد میر، انڈین نیشنل کانفرنس کے قدفین چودھری، اپنی پارٹی کے نور محمد شیخ، بھارتہ جنتا پارٹی کے عاصف معسود، پیپلز مومنٹ کے شوکت احمد بٹ، پینتھرس پارٹی کے عارف احمد اور آزاد اُمید وار مجید گلکار شامل ہیں۔ میٹنگ کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور انتخابات میں حصہ لینے والے افراد کو ضلع سرینگر میں ڈی ڈی سی کونسل، پنچایت اور اربن لوکل باڈیز انتخابات کو صاف و شفاف کرنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی جانکاری دی۔ مختلف پارٹی کے نمائندوں کو کورونا وائرس کے پیش نظرکئے گئے اقدامات اور قوائد و ضوابط پر سختی سے عمل آوری پر زور دیا ۔مختلف پارٹی کے نمائندوں کو ان علاقوں کی جانکاری دی گئی ہے جہاں ان کی تعداد کی ضرورت ہے۔ میٹنگ میں مختلف اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔میٹنگ میںای آر او ، پولنگ اسٹیشنوں کی منتقلی، پہاڑی ووٹروں ، دور افتادہ علاقوں میں قائم پولنگ اسٹیشنوں، ووٹر لسٹ، ووٹر سلپ اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈی ای او نے تمام اُمیدواروں کو انتخابات کے صاف و شفاف طریقے سے انعقاد پر جانکاری دی۔ ڈاکٹر شاہد چودھری نے تمام اُمیدواروں اور نمائندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ضابطہ اخلاق ( ماڈل کوڈ آف کنڈنٹ) اور دیگر قواعد و ضوابط کی سختی سے عمل آوری کریں۔ میٹنگ میں بتایا گیا ہے دوسری مرحلے کے لئے پولنگ عملہ کی منتقلی اور تبدیلی مکمل کرلی گئی ہے۔ میٹنگ میں انتخابات سے جڑا دیگر عملہ بھی موجود تھا۔ 
 
 

چنائو غیر جانبدارانہ ہوں: حکیم یاسین

سرینگر// پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم یاسین نے جموں وکشمیر میں ہونے والے DDC اور پنچایت ضمنی انتخابات کو صاف وشفاف طریقے پر منعقد کرانے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ انتخابی اور جمہوری عمل پر لوگوں کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کی موجودہ سیاسی وسماجی غیر یقینی صورت حال ماضی وحال میں لوگوں کے منڈیٹ کے ساتھ مسلسل کھلواڈ کا براہ راست نتیجہ ہے۔ منگل کو خانصاحب بڈگام میں DDC  اور پنچایت ضمنی انتخابات کیلئے پی ڈی ایف کے نامزد امیدواروں کے حق میں منعقد کی گئی ایک چناوْ  ریلی سے خطاب کرتے ہوئے حکیم یاسین نے مرکزی حکومت خاص کر ریاستی چناوْ کمشنر سے تلقین کی کہ وہ مزکورہ انتخابات کو غیر جانبدارانہ اور شفاف طریقے پر منعقد کرانے کیلئے معقول بندوبست کریں اور اس سلسلے میں چناوْ میدان میں اترے امیدواروں اور متعلقہ سیاسی جماعتوں کی توقعات پر کھرا اتنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سابقہ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے اپنے دور حکومت میں جموں وکشمیر میں شفاف طریقے پر انتخابات منعقد کرائے تھے بالکل اسی انداز پر موجودہ انتخابات کو عمل میں لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مزکورہ انتخابات کی عمل آوری میں ایسی کوئی خامی سرزد نہ ہونی چاہئے جس سے ان کی اہمیت اور افافیت پر کوئی آنچ آجائے 
 
 

کیا انتظامیہ بند سڑکوں کو کھول کر انتخاب تک بحال کرنے میں کامیاب ہو گی؟ | سینکڑوں رائے دہندگان کپوارہ میں درماندہ، الیکشن عملہ بھی مقامات تک نہیں پہنچ سکا 

سرینگر //اشفاق سعید //پہلے مرحلے کے تحت 28نومبر کو وادی کے سرحدی علاقوں میں ووٹنگ ہو رہی ہے اور اس سلسلے میں انتخابی گہما گہمی بھی زوروں پر ہے، تاہم حالیہ برف باری کے نتیجے میں ان علاقوں کے سینکڑوں رائے دہندگان وادی کے مختلف علاقوں میں درماندہ ہیں، جبکہ وہ ملازمین بھی اپنے اپنے مقامات تک نہیں پہنچ سکے ہیں، جنہیں ان علاقوں میں الیکشن ڈیوٹی کیلئے تعینات کیا گیا ہے ۔تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بند پڑی سرحدی علاقوں کی سڑکوں کو کھولنے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ ضلع کپوارہ کے سرحدی علاقوں جن میں کرناہ ، مژھل اور کیرن شامل ہیں ،وہاں پر انتخابات 28نومبر کو ہو رہے ہیں اور پہلے مرحلے کے تحت ہونے والے ان انتخابات کے بیچ ہی محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ آنے26نومبر کی دوپہر تک وادی میں موسم خوشگوار ہو جائے گا،تاہم سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کیا ایک دن میں انتظامیہ ان سڑکوں کو رائے دہندگان اور عملہ کی منتقلی کیلئے بحال رکھ پائے گی ۔ معلوم رہے کہ ان علاقوں میں جب بھی کبھی انتخابات ہوتے ہیں، تو یہاں پر ملازمین کو کپوارہ سے کرناہ، کیرن اور مژھل میں الیکشن ڈیوٹیوں کیلئے تیار کیا جاتا ہے، جبکہ کرناہ ، کیرن اور مژھل کے ملازمین کو ضلع کے مختلف علاقوں میں ڈیوٹیوں پر تعینات کرنے کیلئے تعینات کر دیا جاتا ہے ۔انتظامیہ نے اس بار ان ملازمین کی فہرستیں مرتب کی ہیں لیکن موسمی حالات کے پیش نظر یہ ملازمین ان علاقوں تک نہیں پہنچ سکے ہیں ،جبکہ کچھ ایک امیدوار جو انتخابی مہم کیلئے مژھل ، کیرن اور کرناہ گئے تھے، وہ بھی وہاں ہی درماندہ ہیں،اسی طرح ان علاقوں کے سینکڑوں رائے دہندگان بھی کپوارہ اور وادی کے مختلف علاقوں میں درماندہ ہیں ،ان لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں واپس اپنے اپنے علاقوں تک پہنچایا جائے ،تاکہ وہ اپنے لئے انتخابات میں حصہ لے سکیں اور اپنے ووٹ کا استعمال کر سکیں ۔ان علاقوں میں دن بھر وقفے وقفے سے بارشوں کے ساتھ برف باری ہوتی رہی ہے اور اب تک کرناہ کی نستہ چھن گلی پر اس وقت 3فٹ تازہ برف جمع ہوئی ہے اور ایسی ہی صورتحال کیرن اور مژھل کی رابطہ سڑکوں کی بھی ہے ۔ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ الیکشن کیلئے تمام تر تیاریاں مکمل ہیں اور انتظامیہ نے سڑکوں سے برف ہٹانے کیلئے بیکن آر اینڈ بی اور دیگر متعلقہ محکمہ کو آگاہ کر دیا ہے اور جیسے ہی موسم میں بہتری آئے گئی ان علاقوں تک ساز سامان پہنچایا جائے گا جبکہ عملے کیلئے بھی ان علاقوں میں مکمل انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں ۔
 
 

پیپلز الائس امیدواروں کو ووٹ دیں: پردیسی

سرینگر// نیشنل کانفرنس کے سنیئر یوتھ لیڈر احسان پردیسی نے کہا ہے کہ لوگ ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات میں عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کو مکمل حمائت و تعاون دینے کیلئے مکمل تیار ہیں کیونکہ یہی اتحاد جموں کشمیر کے عوام کے جذبات اور احساست کے علاوہ عوامی امنگوںکی حقیقی نمائندگی کرتا ہے۔ حلقہ سونہ وار کے کھنموہ اور ہارون بلاکوں میں عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کے امیدواروں کیلئے انتخابی مہم چلانے کے دوران احسان پردیسی نے کہا کہ تمام تر سہولیات کے باوجود بھی بھاجپا اور انکی ٹیم بی ،ان حلقوں میں لوگوں کا تعاون حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کیلئے گپکار اتحاد کی طرف سے ہارون اور کھنموہ میں امیدوار میدان میں اتارے گئے ہیں۔ احسان پردیسی نے کہا کہ سماجی خدمات اور جمہوریت کی مظبوطی کیلئے ان امیدواروں کو جانا جاتا ہے۔جس کی وجہ سے زمینی سبح پر ان امیدواروں کو لوگوں کا بھر پور اشتراک مل رہا ہے۔ انہوں نے کیا کہ عوامی امنگوں اور ترقی کے مابین کوئی بھی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا اور الائنس دونوں محازوں  پر کھرا اتر رہا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے سنیئر یوتھ لیڈر نے کہا کہ الائنس کے امیدوار عوامی کی حقیقی امنگوں،احساسات اور جزبات کی نمائندگی کرتے ہیں اور کسی بھی علاقے کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کیلئے عوام میں زبردست نیک ارادے بھی رکھتے ہیں۔  احسان پردیسی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی سطح پر کسی بھی طرح کے تعاون کے باوجود انہیں لوگوں کی طرف سے زبردست پزیر آرائی حاصل ہو رہی ہے۔
 
 

کپوارہ میںتمام تیاریا ں مکمل :ضلع الیکشن آفیسر 

کپوارہ//اشرف چراغ //ضلع الیکشن آفیسر کپوارہ انشل گرگ نے کہا کہ کپوارہ ضلع میں پہلے مرحلہ کے تحت ضلع ترقیاتی کونسل اور پنچائت کے ضمنی انتخابات کیلئے سیکورٹی اور موسمی اعتبار سے تما م تیاری مکمل کر لی گئیں ہیں ۔انہو ں نے کہا کہ پہلے مرحلہ کے تحت28نومبر کو ووٹ ڈالے جارہے ہیں اور اس کیلئے71پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں ۔ضلع الیکشن آفیسر نے کہا کہ ضلع میں آزادانہ ،منصفانہ اور محفوظ انتخابات پہلی ترجیحی ہے ،جبکہ ہر شکایت کا ازالہ ہو گا ۔انہو ں نے کہا کہ موسمی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ضلع کے سر حدی علا قوں میں انتخابات منعقد کرنے کیلئے انتظامیہ کو کا م پر لگایا گیا ہے اور ان علاقوں کی تما م سڑکوں سے برف صاف کرنے کیلئے بارڈر رو ڈ آرگنازیشن ،آر اینڈ بی اور پی ایم جی ایس وائی کو ہدایت دی گئی کہ وہ ان سڑکو ں کو مشینو ں کے ذریعے سے صاف کر کے آمد ورفت کا سلسلہ بحال کردیں، تاکہ انتخابی مواد کو ان سرحدی علاقوں تک روانہ کیا جا سکے ۔انہو ں نے کہا کہ اگر ووٹنگ کے دوران سرحدی علاقوں میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی، تو انتظامیہ رائے دہندگان کیلئے محفوظ مقامات پر پولنگ بوتھ قائم کرے گی تاکہ پر امن طور ووٹ ڈالے جاسکیں ۔
 
 

جبڑی بجلدار گاؤں کے لوگوں کااحتجاج | ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ

کرناہ // نمائندہ عظمیٰ //کرناہ کے حد متارکہ پر آباد گاؤں جبڑی بچلدار کے لوگوں نے حکام کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ٹنگڈار حلقے میں  28 نومبر سے ہونے والے ضلع ترقیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔احتجاج کرتے ہوئے مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد اس گاؤں کے لوگوں کو حکام نے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے جس سے آبادی کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔جبڑی کا یہ گاؤں ٹنگڈار تحصیل ہیڈ کوارٹر سے 30 کلو میٹر دور حدمتارکہ پر واقع ہے اور گاؤں کے لوگوں کو مقامی فوج کی اجازت کے بعد ہی گاؤں سے باہر یا گاؤں میں داخل ہونے دیا جاتا ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گائوں میں کوئی بھی موصلاتی نظام نہیں ہے اور لوگوں کو معمولی فون کال بھی کرنے کیلئے گھر سے کوسوں دور ٹولی پر آنا پڑتا ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ گاؤں میں نہ ہی بجلی کی سہولیات ہے اور نہ ہی پینے کے پانی کی جبکہ اس گائوں کے لوگ ہر طرح کی سہولیات سے محروم ہیں ۔ انہوں نے احتجاجی طور پر آئندہ 28 نومبر کو حلقے میں ہونے والے ضلع ترقیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سب ڈویڑنل مجسٹریٹ کرناہ ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ کے مطابق یہ علاقہ انتہائی حساس ہے اور حدمتارکہ پر آباد ہے۔ لہٰذا لوگوں کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ایس ڈی ایم کا کہنا تھا کہ ایک انتہائی حساس علاقہ ہونے کی وجہ سے مقامی لوگوں کو سیکورٹی وجوہات کیلئے تعاون کرنا چاہئے ،کیونکہ یہ علاقہ لائن آف کنٹرول سے صرف چند میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر گائوں میں بنیادی سہولیات کی کوئی کمی ہے تو وہ معاملے کا نوٹس لیں گے اور لوگوں کے مسائل کو  ترجہی بنیادوں پر حل کیا جائے گا ۔
 
 

لوگ دیہی علاقوں کی ترقی کیلئے ووٹ دیں:پسوال

ترال //سید اعجاز //بلاک ترال سے ڈی ڈی سی انتخابات میں بطور آزاد امیدوار محمد یاسین پسوال نے منگل کے روز ایک دور افتاد ہ علاقے میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بتایا آنے والے انتخابات میں دیہی علاقوں کی تعمیر و ترقی کیلئے اپنا ووٹ دیں ۔پسوال گوجر بستی ترال میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے لوگوں کو بتایا علاقے میں متعدد افراد میدان میں آئے ہیں آپ اپنا ووٹ ضائع نہ کر یں ۔انہوں نے لوگوں سے تاکید کی ہے کہ انتخابات میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد میدان میں ہے آپ کار کردگی کو دیکھ ہی اپنا ووٹ دیں جس کو بھی آپ دینا چاہیں گے ۔ یاسین پوسوال ترال کے دودھ مرگ علاقے میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کر رہے تھے، جس میں گوجر بکروال آبادی کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ۔