بفلیاز میں 3شہری ہلاکتیں، تحقیقات میں تعاون دیں گے:فوج قانونی کارروائی شروع :حکومت

 متاثرین کو معاوضہ اور نوکری دینے کا حکومت کا اعلان،پونچھ اور راجوری میں موبائل انٹرنیٹ معطل

سمیت بھارگو

راجوری//دھیرہ کی گلی بفلیاز میں جمعرات کے ملی ٹینٹ حملے کی جگہ کے قریب گائوں سے تعلق رکھنے والے تین مقامی شہریوں کی پراسرار موت کے واقعے کے بعد، فوج نے ہفتے کے روز کہا کہ تحقیقات کے انعقاد میں مکمل تعاون فراہم کرنے کا عہد کیا گیا ہے۔ایکس پر ایک پوسٹ میں، ہندوستانی فوج کے پبلک انفارمیشن کے ایڈیشنل ڈائریکٹوریٹ جنرل (ADGPI) نے کہا’’21 دسمبر کے واقعے کے بعد آپریشن کے علاقے میں سیکورٹی فورسز کی طرف سے تلاشی آپریشن جاری ہے ۔علاقے میں 3 عام شہریوں کی موت کے بارے میں اطلاعات موصول ہوئی ہیں،معاملہ زیر تفتیش ہے۔ ہندوستانی فوج تحقیقات کے انعقاد میں مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے‘‘۔واضح رہے کہ یہ تین افراد مبینہ طور پر ان لوگوں میں شامل تھے جنہیں پہلے فوج نے دہشت گردوں کے گھات لگا کر حملے کے واقعے کے بارے میں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا تھا۔اطلاعات کے مطابق، بفلیاز کے قریب ٹوپا پیر گائوں سے تعلق رکھنے والے تین مقامی افراد پراسرار حالات میں ہلاک ہو گئے جس سے مقامی آبادی بالخصوص ان کے رشتہ داروں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی۔تینوں مرنے والوں کی شناخت محفوظ حسین (43)، محمد شوکت (27) اور محمد شبیر (32) کے طور پر ہوئی ہے۔تین افراد کی پراسرار موت کی خبر علاقے میں پھیلنے کے بعد ان کے لواحقین جمع ہوگئے اور ان کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے گہرائی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ڈپٹی کمشنر پونچھ، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے ساتھ سول انتظامیہ اور پولیس کے دیگر افسران نے بھی کل رات بفلیاز کے علاقے میں ڈیرہ ڈالا اور متوفی کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کروایا۔تینوں مرحومین کو ان کے آبائی گائوں میں سپرد خاک کر دیا گیا جہاں لوگوں کی بڑی تعداد نے آخری رسومات اور نماز جنازہ میں شرکت کی۔دریں اثنا، جموں و کشمیر حکومت کے محکمہ اطلاعات اور تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ پونچھ ضلع کے بفلیاز علاقے میں تین شہریوں کی موت کا واقعہ پیش آیا۔محکمہ نے اپنے سرکاری بیان میں کہا”طبی قانونی رسمی کارروائیاں کی گئیں اور مناسب اتھارٹی کے ذریعہ اس معاملے میں قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے” ۔سرکاری ریلیز میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے ہر مرنے والوں کے لیے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ حکومت نے ہر مرنے والے کے لواحقین کے لیے ہمدردانہ تقرری کا بھی اعلان کیا ہے۔دریں اثنا، راجوری ضلع کے تھانہ منڈی سب ڈویژن علاقے سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کو علاقے میں کچھ نامعلوم افراد کی پٹائی کے بعد اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔یہ پانچ افراد جن کا تعلق بھنگائی کے ساتھ ساتھ پونچھ ضلع کے تھانہ منڈی سب ڈویژن کے ہاسپلوٹ گائوں سے ہے، کو جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کو سی ایچ سی تھانہ منڈی لایا گیا جہاں سے انہیں جی ایم سی اے ایچ راجوری لایا گیا اور وہ سبھی وہاں زیر علاج ہیں۔ سول انتظامیہ اور پولیس کے اعلی افسران نے بھی ان لوگوں سے ملاقات کی۔
موبائل انٹرنیٹ معطل
راجوری، پونچھ علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئی ہیں۔حالیہ دہشت گردانہ حملے اور اس حملے کی جگہ کے قریب گائوں سے تعلق رکھنے والے تین مقامی افراد کی پراسرار موت کے بعد موجودہ سیکورٹی خدشات کے درمیان راجوری اور پونچھ کے علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل کر دیا گیا ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ احتیاطی اقدام کے طور پر حکام نے جڑواں اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔”موبائل انٹرنیٹ سروسز مقامی انتظامیہ کی درخواست پر معطل کی گئی ہیں اور یہ افواہ پھیلانے سے بچنے کے لیے خالصتا ایک احتیاطی اقدام ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ موبائل انٹرنیٹ خدمات جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کو معطل کر دی گئی تھیں اور آخری اطلاعات آنے تک وہ ابھی تک معطل ہیں۔

 

ملی ٹینسی مخالف آپریشن
تیسرے دن گولیوں کی آوازیں سنی گئیں
سمیت بھارگو

راجوری// ہفتہ کی دوپہر دھیرہ کی گلی، بفلیاز کے جنگلات سے گولیوں کی چند آوازیں سنی گئیں، گھنے جنگلوں میں انسداد دہشت گردی آپریشن مسلسل تیسرے دن بھی جاری رہا۔یہ آپریشن جمعرات کی دوپہر اس وقت شروع کیا گیا جب ملی ٹینٹوں نے جنگل کے علاقے سے گزرنے والی مرکزی سڑک تھانہ منڈی – ڈی کے جی – بفلیاز پر دو فوجی گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ کیا۔فوج کے4 اہلکار جان کی بازی ہار گئے جبکہ تین زخمی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ہفتہ کو مسلسل تیسرے دن بھی علاقے میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن جاری رہا جس میں کثیرالجہتی محاصرہ برقرار ہے۔فوج نے ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردی کی شروعات کا واقعہ(ٹی آئی آئی)پونچھ – راجوری سیکٹر کے بفلیاز میں 21-22 دسمبر کی درمیانی رات کو پیش آیا۔فوج کا مزید کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے تلاشی کی کارروائیاں جاری ہیں۔دریں اثنا وائٹ نائٹ کور کمانڈر، انسپکٹر جنرل آف پولیس سمیت اعلی فوجی افسران اور پولیس افسران نے بھی ڈیرہ کی گلی کے علاقے کا دورہ کیا اور سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور جاری آپریشن کی صورتحال کا جائزہ لیا۔عہدیداروں نے بتایا کہ حملے کے فورا بعد گھنے جنگلاتی علاقوں میں ایک بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کی گئی تھی، جس میں راجوری کے قریبی تھانہ منڈی کو بھی شامل کیا گیا تھا لیکن اب تک فرار ہونے والے دہشت گردوں کے ساتھ کوئی تازہ رابطہ نہیں ہوا۔

بین الاقوامی سرحد پر دراندازی کوشش ناکام
ایک مارا گیا
عظمیٰ نیوز سروس

جموں//بین الاقوامی سرحد(آئی بی)کی حفاظت کرنے والے سیکورٹی فورسز نے ہفتہ کی صبح دراندازی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے ایک ملی ٹینٹ کو ہلاک کیا۔حکام نے بتایا کہ آپریشن اس وقت ہوا جب چار بھاری ہتھیاروں سے لیس ملی ٹینٹوں کے ایک گروپ کو صبح سویرے اکھنور کے کھور سیکٹر میں آئی بی کے اس پار سے اس طرف گھسنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ فوجیوں نے دراندازی کرنے والے ملی ٹینٹوں پر موثر گولہ باری کی اور ان میں سے ایک زخمی ہو کر نیچے گر گیا۔تاہم پولیس نے بتایا کہ متوفی کی لاش اس کے ساتھی آئی بی کے پار گھسیٹ کر واپس لے گئے۔