بغیرِ تحقیقات سرکاری ملازمین کی برخواستگی افسوسناک:نیشنل کانفرنس

سرینگر//نیشنل کانفرنس نے حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمین کی مسلسل جبری برخواستگی پر زبردست تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بے قاعدہ اور مشکوک عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے کشمیریوں کو محتاج بنانے کی ایک مذموم سازش کا حصہ قرار دیا ہے۔ پارٹی کے معاون صوبائی ترجمان مدثر شاہمیری نے اپنے ایک بیان میں حکومت کی طرف سے بدھوار کو 6سرکاری ملازمین کی بغیر تحقیقات برخاستگی کو تاناشاہی، ہٹ دھرمی اور انتقام گیری پر مبنی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ مہینوں کے دوران جس طرح بغیر تحقیقات اور مشکوک انداز میں ملازمین کی برطرفی عمل میں لائی جارہی ہے وہ انتہائی تشویشناک رجحان ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ان اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اسے جموں وکشمیر کے عوام کو اندھیروں میں دھکیلنے کا ایک اور حربہ مانتی ہے۔  انہوں نے کہا کہ ملازمین کی برطرفی ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے، اس سے قبل گذشتہ سال ایک اور حکمنامے کے ذریعہ حکومت کو اس بات کا مجاز بنایا گیا کہ وہ ملازمین کو 48 سال کی عمر میں سبکدوش کرسکتی ہے۔ اسی منصوبے کے تحت 4500کے قریب سیلف ہیلپ گروپ انجینئروں اور درجنوں سرکاری ملازمین کو برطرف کیا گیا اور گذشتہ دنوں 912آئی سی ڈی ایس ہیلپروں سے بھی نوکریاں چھین لی گئیں۔ ترجمان نے کہاکہ اس طرز عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نئی دلی جموں و کشمیر کے عوام کو اندھیروں میں دھکیل کر محتاج بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ مدثر شاہمیری نے کہا کہ ایک جمہوری نظام میں کسی بھی قصوروار کیخلاف پہلے تحقیقات ہوتی ہے اور پھر اس کے بعد اُسے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا موقع فراہم ہوتا ہے لیکن یہاں تمام جمہوری اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر بغیر تحقیقات ملازمین کو برطرف کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا ایک طرف کشمیری نوجوانوں کیلئے سرکاری نوکریوں کے دروازے غیر اعلانیہ طور پر بند کردیئے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب ملازمین کو نکالنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت کو خبردار کیا گیا جموں وکشمیر میں روا رکھی گئی ناانصافیوں، امتیازی سلوک اور انتقام گیری کی پالیسی کو ترک کیا جائے ۔