بعداز عید

گزشتہ دنوں مسلمانان عالم عید الاضحی اس بے چارگی کے عالم منارہے ہیں کہ چاردانگ عالم میںان پر ظلم کے پہاڑ توڑ ے جارہے ہیںاوران کاخون بے دریغ بہایاجارہاہے۔ کشمیرمیں افسپا کے حمایت یافتہ وردی پوش ، فلسطین میںصیہونی فوجیں اوربرماکی سفاک فوج روہنگیائی مسلمانوں کوذبح کررہی ہیں۔یہ بات الم نشرح ہے کہ امریکہ اوراس کاابلیسی اتحاد اوراس کی پرودہ جنونی حکومتوں کی قاتل اورسفاک فوجیںمقبوضہ مسلمان ریاستوں میںعرصہ سے قتل عام جاری رکھی ہوئی ہیں ۔اسی کا شاخسانہ ہے کہ کشمیرمیں ننگی بربریت، فلسطین میںیہودیوں کے ظلم و ستم اوربرمامیںبرمائی حکومت کی کھلی سفاکیت پر دنیائے کفران کادرپردہ ساتھ دے رہاہے ۔ کشمیر میں ظلم کی انتہا کر دی گئی ہے۔ برما میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ہندوستان بھر میں آج پہلے سے زیادہ مسلمان زیرعتاب ہیں ۔ عراق کے اندر امریکا کی لگائی آگ ٹھنڈاہونے کانام نہیں لے رہی اوراقتداروالاگروپ دوسرے گروہ اوردوسری جماعت کی گردنیں اڑا رہا ہے ۔ غرض دنیا کے کونے کونے میں مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹا جا رہا ہے عوام تو اس ظلم وبربریت کے خلاف خاموش ہیں اورمسلما ن ممالک پرمسلط امریکی پٹھو مسلم حکمران اس سلسلے میں امریکہ کے آلہ قتل کادستہ بنے ہوئے ہیں۔محض اغیارکی خوشنودی بجالانے کے لئے مسلمان ممالک کے حکمرانوں کے جارحانہ اقدام کی وجہ سے مسلمان ممالک میں مسلمانوں پرانکی زمین اتنی تنگ ہوچکی ہے کہ امان نہ سکون۔شام ، مصراوربنگلہ دیش اس کی تازہ تریں مثالیں ہیں ۔شام میں بشار کی حکومت نے اب تک پانچ لاکھ مسلمان شہید کردئے ہیں ،تیس لاکھ سے زائد مہاجر بنا دیے گئے ہیں۔ کشمیر میںہندواڑہ سانحہ جو ماورائے عدالت قتل کی تازہ ترین مثال ہے، سے بھی اسی فتنہ سا مانی کی بو آتی ہے ۔ دنیا میں یہودی کنٹرولڈ میڈیا الٹا مقتول و مظلوم مسلمانوں کو ہی دہشت گرد مشہور کر تا پھر رہا ہے ، جب کہ اسلام بیزاری اور مسلمان دشمنی اسلام دشمن قوتوں کا مشترکہ ایجنڈابن کرمیڈیائی اندھے اوربہرے پن کو بڑھاوا دے رہا ہے۔ افسوس!وہ امتِ مسلمہ جسے اللہ نے خیر امت بنایا ہے جو درمیانے راستے پر چلنے والی ہے، اس امت کو فریضہ شہادتِ حق کے لیے اٹھایا گیا تاکہ یہ دنیا کی دوسری قوموں پر شہادت کا فریضہ ادا کرے۔،یہ امت امر با المعروف و نہی المنکر پر عمل کرے ، نیکی کے کاموں میں تعاون اور برائی کے کاموں سے منع کرے مگراسلام پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے امت خود پریشانیوں میں غرقآب ہے اور مسلمانوں کی تکا بوٹی کی جارہی ہے۔
شکوہ مومنین توبڑی چیزہے ،پوری امہ آہ شکوہ مومنین کیاشکوہ ملک ہی سے محروم ہیں۔شکوہ ملک جس چیزکانام ہے وہ ہرقسم کے خارجی وداخلی اثرات سے آزاد اورپاک ملکی پالیسی ہے ۔داخلی اطمینان اور سرحدوں کی قوت وشوکت ہے ،دوسرے ممالک میں عزت ومنزلت کامقام ہے ، قوموں کی برادری میں سربلندی ہے،افرادِ قوم کااطمینان معاشی ومعاشرتی خوشحالی ہے لیکن خوردبین لگا کربھی آپ کویہ اوصاف کسی مسلمان ممالک میں نہیں ملتے بلکہ مسلمان مملکتیں اپنے اندرکئی گروہوں میں بٹ کرایک دوسرے کے خلاف ’’سردجنگ اورپراکسی وار‘‘لڑرہی ہیں اوراپنے ہی کلمہ خوانوں کے گلے کاٹنے میں مصروف ہیں ۔اغیاراس بات پرخوش ہیں کہ ہزاروں میل دوربیٹھ کروہ ان پرحکومت کررہے ہیں۔اگردنیاوی دولت سے اللہ نے کچھ اسلامی ممالک کومالامال فرمایاہے توان کی دولت سے فائدہ بھی اغیار اٹھا رہے ہیں، ان مسلمانوں کے خزائن اغیارکے تصرف میں ہیں اوراسی سرمائے سے مسلمان ممالک کواسلحہ تیارکرکے فروخت محض اس لئے کیاجاتاہے کہ اس کاتجربہ بھی تم دوسرے مسلمان ممالک کی آبادی پرکرو۔
پھرشکوہ دیں یہ ہے کہ اللہ جس کے حاکم ہونے کااقرارہم سب کرتے ہیں جس کامطلب یہ ہوتاہے کہ اسی کاحکم اورقانون چلے اورجس کوآقامانا ہے، اس سے انحراف نہ ہو۔یہ عجیب مذاق ہے کہ ایک نمبردارہے توگائوں کاہرفرداسے تسلیم بھی کرے اوراس کے حقوق ِنمبرداری ادابھی کرے ،ایک شخص ضلع افسر ہے توضلع بھرمیں اس کی افسری کاڈنکابھی بجے اورکوئی شخص ملک کاسربراہ ہوتواس کاہرلفظ سرآنکھوں پرہواورجوخودکہتاہے کہ (ان الحکم للہ)اسی کے حکم کی ذرہ بھرپرواہ نہ ہو۔ادھرہرطرف دین کے نشاناے مٹ رہے ہوں ادھررقص وسرورکی مجالس سج رہی ہوں،گانابجاناکلچرکے نام پررواہو،شراب کی کھلی اجازت ہو،چوری چکاری ،بدعنوانی،رشوت خوری موجود ہو ، رزقِ حلال کاحصول ناممکن کردیاہو،جوبچاکھچادین قوم میں صدیوں کے انحطاط کے باوجودباقی چلاآرہاہواس کابھی صفایاکیاجارہاہو،قوم باربارپکارے کہ ہمیں دین کی حکمرانی اوراسلام کاقانون چاہئے ،اسی کے خلاف ساری قوت اورطاقت استعمال ہورہی ہواوردین سے ہرقدم دورجارہاہو،برسوں کاسفرزندگی مکہ مدینہ کی سمت چھوڑکرکسی اورہی سمت کیاگیاہوتووہاں شکوہ دین کہاں سے آئے گا؟پھر جب نہ شکوہ ملک ہونہ شکوہ دین توپھرآزادبندہ مومن کہاں ملے گا؟ اوریہی وجہ ہے کہ عیدکادن ہجوم ِ مومنین کے سواکچھ نہیں۔ہاں البتہ اگرعید کی حقیقی خوشیوں کاحصول چاہتے ہیں تویہ بہترین موقع ہے کہ وہ ہزاروں خاندان جواس وقت غربت اورفاقہ کشی کی حالت میں کسی سے بھی اپنایہ دکھ بیان نہیں کرسکتے اورغیرانسانی حقوق کی پابندیوں کے وجہ سے دوسرے ملک کے افرادبھی ان تک امدادپہنچانے سے قاصرہیں،آپ کی فوری توجہ کے مستحق ہیں۔جلدی کیجئے کہیں دیرنہ ہوجائے۔یہ امرواضح ہے کہ مسلم قوم کی عید تب ہوتی ہے جب ان کا ملک با وقار ہو اور دین سر بلند ۔ آج ہمارا دین کے ساتھ کیا معاملہ ہے اور ہمارے مسلم ممالک کی کیا حالت ہے؟ ہماری اصل عید تو اس دن ہوگی جب چاردانگ عالم مسلمان کو حقیقی آزادی حاصل ہوگی، خدا مختاری کادوردورہ ہوگا ، دین سر بلند ہوگا، اور کرہ ارض پرہم اپنے دین کے نفاذ اور سر بلندی کے لیے سرگرم عمل ہوں گے۔ اس لیے کہ غلاموں اور مجبوروں کی عید بھی کیا عید ہوتی ہے؟
ہم اپنے قارئین باتمکین کی معلومات میں اضافے کے لئے اس بات کوان تک پہنچانے کی سعادت محسوس کریں گے کہ امت مسلمہ میںقربانی کاجذبہ دیکھیںکاش امت کے ہرفردکوفلسفہ قربانی سے بھی آشکارکیاجائے توکتنانفع پہنچتا۔ اسلامی دنیا کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک انڈونیشیا ہے۔ اس کی آبادی ساڑھے 25 کروڑ ہے اور اس میں سے 1 کروڑ 8 لاکھ 40 ہزار لوگ ہر سال قربانی کرتے ہیں۔ اسلامی ممالک میں آبادی کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر پاکستان ہے۔ آبادی قریبا 20 کروڑ اور ہر سال 1 کروڑ 22 لاکھ لوگ قربانی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ 2016میں عید الضحی کے موقع پرصرف پاکستان میں 500 ارب روپے مالیت کے مویشیوں کی قربانی کی گئی۔ بنگلہ دیش کی آبادی 15 کروڑ 14 لاکھ اور 80 لاکھ 72 ہزار بنگالی ہر سال قربانی کرتے ہیں۔ مصر 8 کروڑ 5 لاکھ 24 ہزار آبادی اور 62 لاکھ 23 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ ترکی 7 کروڑ 46 لاکھ آبادی اور 48 لاکھ 20 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ ایران 7 کروڑ 38 لاکھ آبادی اور 21 لاکھ لوگ قربانی کرتے ہیں۔ مراکو 3 کروڑ 23 لاکھ آبادی اور 8 لاکھ 40 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ عراق 3 کروڑ 11 لاکھ آبادی اور 4 لاکھ 72 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ الجیریا 3 کروڑ 48 لاکھ آبادی اور 4 لاکھ 12 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ سوڈان 3 کروڑ 8 لاکھ آبادی اور یہاں 2 لاکھ 54 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ 
سعودی عرب 2 کروڑ 54 لاکھ آبادی اور یہاں حج کی وجہ سے سب سے زیادہ قربانی ہوتی ہے۔قریبا 1 کروڑ 50 لاکھ 30 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ افغانستان 2 کروڑ 90 لاکھ آبادی اور 2 لاکھ 10 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ ازبکستان 2 کروڑ 68 لاکھ آبادی اور 1 لاکھ لوگ 60 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ شام 2 کروڑ 8لاکھ آبادی اور 1 لاکھ قربانی کرتے ہیں۔ کویت کی 5 لاکھ آبادی اور 98 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ ملائیشیا 1 کروڑ 70 لاکھ آبادی اور 95 ہزار قربانی کرتے ہیں۔ تونیسیا 1 کروڑ 34 لاکھ آبادی اور 87 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں اور یمن 2 کروڑ 8لاکھ آبادی اور 80 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ یہ وہ بڑے بڑے اسلامی ممالک ہیںجن میں قربانیوں کی تعداد دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ ہے تا ہم دیگر اسلامی ممالک جیسے فلسطین، لیبیا، اردن، جبوتی، موریطانیہ، گیمبیا، تاجکستان، آذر بائیجان، ترکمانستان، قازقستان، کرغزستان، قطر، بحرین، عمان اور متحدہ عرب امارات جیسے درجنوں ممالک ہیں جن میں قربانی ہوتی ہے۔ اسی طرح بعض غیر مسلم ممالک میں بھی مسلمان قربانی کرتے ہیں۔ جیسے بھارت اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ بھارت کے 17 کروڑ مسلمانوں میں سے 1 کروڑ سے زائد لوگ قربانی کرتے ہیں۔ اب آپ چند لمحوں کے لیے رک جائیے اور درج بالا ممالک میں قربانیوں کے اعدادو شمار کا مجموعہ ملاحظہ کیجیے۔
یہ 6 کروڑ 20 لاکھ93 ہزار قربانی کرنے والے افراد بن جاتے ہیں۔ اگر اس میں دیگر تمام مسلم ممالک کے صرف 50 لاکھ اور غیرمسلم ممالک بالخصوص بھارت کے مسلمانوں کو بھی شامل کرلیا جائے تو یہ مجموعہ 7 کروڑ 70 لاکھ 93 ہزار بن جاتا ہے۔ ہم فرض کرتے ہیں یہ پونے 8 کروڑ لوگ مل کر 3 کروڑ جانور ذبح کرتے ہیں تو ان 3 کروڑ جانوروں کے گوشت کا اوسطا مجموعی وزن کتنا ہوگا؟ ہم اس کو اس اندازے سے حل کرتے ہیں کہ چھوٹے اور بڑے جانور کا اوسط وزن 50 کلوگرام فکس کردیتے ہیں تو یہ ایک ارب 50 کروڑ کلو یعنی 3 کروڑ 75 لاکھ من گوشت بن جاتا ہے۔ اگر ہم اس گوشت کی فی کلو قیمت 500 روپے ہی رکھیں تو اس گوشت کی کل قیمت 7 کھرب 50 ارب بن جاتی ہے۔ اب ایک قدم اور آگے بڑھتے ہیں اور 3 کروڑ جانوروں کی کھالوں کا حساب لگاتے ہیں۔ہم چھوٹی اور بڑی کھال کی اوسط قیمت 1800 روپے ہی رکھ لیتے ہیں تو اس کا مجموعہ 54 ارب روپے بن جاتے ہیں۔ جانوروں کی ہڈیاں اور آنتیں وغیرہ بھی فروخت ہوتی ہیں، لیکن ہم ان کو شمار میں نہیں لارہے۔ یوں امت مسلمہ ہر سال 8 کھرب اور 4 ارب کی قربانی کرتی ہے۔ یاد رکھیں! ہر صاحبِ نصاب پر قربانی واجب ہے۔ استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ناراضی کا اظہار فرمایا ہے، حتیٰ کہ اس کا عیدگاہ کے قریب آنا بھی پسند نہیں فرمایا۔
دوسری طرف اس سال حسب سابق یومِ عرفہ کے موقع پرخالص سونے اور چاندی کے تاروں اور ریشم سے تیار غلاف کعبہ کی تبدیلی کی روح پرور تقریب منعقد کی گئی۔خالص سونے اور چاندی کے تاروں اور ریشم سے تیار کردہ غلاف کعبہ کی روح پرور تقریب میں گورنر مکہ سمیت اعلی حکومتی شخصیات نے شرکت کی۔ 2 کروڑ 20 لاکھ  ریال سے تیار غلاف کعبہ میں 150 کلو گرام خالص سونا اور چاندی جب کہ670 کلو گرام خالص ریشم استعمال کی گئی ہے۔غلاف پر بیت اللہ کی حرمت، حج کی فرضیت اور فضیلت کے بارے میں قرآنی آیات کشیدہ کی گئی ہیں جب کہ اس کا سائز658 مربع میٹر اور یہ 47 حصوں پر مشتمل ہے۔ ہر حصہ14میٹر طویل اور 95 سینٹی میٹر چوڑا ہے۔ اتارے جانے والے غلاف کے ٹکڑے بیرونی ممالک سے آئے ہوئے سربراہان مملکت اور دیگر معززین کو بطور تحفہ پیش کیے جاتے ہیں۔واضح رہے کہ غلاف کعبہ ہر سال 9 ذوالحجہ کو تبدیل کیا جاتا ہے جب کہ بیت اللہ کو غسل ہر سال 2 مرتبہ شعبان المعظم اور ذوالحجہ کے مہینوں میں دیا جاتا ہے مگراس کے باوجودمسلم اُمہ غلامی کی بدتر ین زندگی بسرکررہی ہے۔ آخر کیوں؟؟؟؟؟
بہرکیف! اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الااللہ و اللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد کا نعرہ بلندکرتے ہوئے ہم مسلمان ہر سال ودبار عیدگاہوں کارُخ کرتے ہیں اوراس طرح اسلام عظیم الشان نیکیوں اور انقلاب آفرین خوبیوں کی بنیاد پر یوم عید کاڈسپلن اورکوڈآف کنڈیکٹ مقرر کرتا ہے،یعنی عید ہر فرد مسلم کی اپنی عیداپنی مرضی اوراپنی من چاہی نہیں ہوتی کہ جیسے چاہے منائے اور جو چاہے کر گزرے، کسی کو کسی کے ساتھ کوئی سروکار نہ ہو۔ جو انسانیت کے لیے ہمہ گیر، ہمہ جہت اور ہمہ وقت ہوں ، جن کا تعلق کسی خاص قوم، نسب و حسب یا علاقے سے نہ ہو بلکہ اس کا تعلق نوع انسانی سے ہو اور عالم گیر ہو۔پھریہ کہ اسلام کی عید محض کھیل تماشا، شور شرابا اور ہنگامہٓ ہا  ہو کا نام نہیں، یا فقط خوش لباسی اور خوش خوراکی سے عبارت نہیں،بلکہ یہ خدائے قدیر کی اجتماعی عبادت سے لے کر اخوت و مدت، ہمدردی اور محبت، خیرات اور فیاضی، پاکیزگی اور طہارت اور تنظیم و اتحاد جیسی اعلی صفات کا مظہر ہے،بلکہ یہاں تو ابنائے وطن کو عید میں شریک کرنے کا حکم ہے، اور وہ جو مالی مجبوریوں اور معاشی دشواریوں کے سبب ان مسرتوں سے بہرہ ور نہیں ہوسکتے تو دوسرے مسلمانوں کے فرائض میں ہے کہ وہ ان سے مالی تعاون کریں اور عید سے پہلے پہلے انہیں اس قابل بنائیں کہ وہ دوسرے مسلمانوں کے دوش بدوش خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔ 
غرض عید اسلام کی عظمت، شوکت اور شاندار روایت کا امین ہے۔ اگر ہم عید کے ان عظیم دینی و اجتماعات کو کارآمد، مفید اور کثیر المقاصد بنانے کی تدابیر اختیار کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو ان اجتماعات سے دینی اور دنیاوی افادیت میں بہت اضافہ ہوسکتا ہے۔یہ احیائے دین اور اقامتِ دین کے لیے انتہائی موثر ثابت ہوسکتے ہیں، مگر افسوس کہ ہم ان اجتماعات سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھارہے۔ یہ اجتماعات محض ہجوم مومنین ہوکر رہ گئے ہیں اور انہیں شکوہِ ملک و دین کا وہ مرتبہ حاصل نہیں جو آزاد قوموں کا شعار ہوتا ہے۔