بسونی پرائمری سکول گزشتہ برس سرحدی گولہ باری سے متاثر

 
 مینڈھر//تحصیل بالا کوٹ کے سرحدی علا قہ بسونی میں گور نمنٹ پرائمر ی سکول کے نزدیک بنکروں کی تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے سکولی بچے خوف وحراس میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔گور نمنٹ پرائمری سکول بسونی جوکہ پاکستانی افواج کی فائرنگ کی رینج میں ہے ،اس وقت 40سے زائد بچے زیر تعمیر ہیں جبکہ ان کو تعلیم فراہم کرنے کیلئے 2ٹیچر تعینات کئے گئے ہیں ۔مقامی لوگوں نے مقامی انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ برس پاکستانی افواج کی جانب سے کی گئی فائرنگ کے دوران کئی گھنٹوں تک بچے سکول میں پھنس کر رہ گئے تھے ۔ایک مقامی شخص ظہیر خان نے بتایا کہ سکول کا فائرنگ کی وجہ سے شدید نقصان ہو ا ہے تاہم اس میں زیر تعلیم بچے اب سکول خوف میں مبتلا ہو چکے ہیں لیکن انتظامیہ کی عدم توجہی کی وجہ سے ابھی تک اس سکول کے نزدیک کو ئی بنکر تعمیر نہیں کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کی جانب سے سرحدی علا قوں میں بنکروں کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا تھا لیکن متعلقہ محکمہ کی غفلت شعاری کی وجہ سے ابھی تک بسونی علا قہ میں بنکروں کی تعمیر مکمل نہیں کی جاسکی ۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ بر س پیش آئے واقعہ کے بعد انتظامیہ کی جانب سے بنکر تعمیر کر نے کیلئے سکول کے ارد گرد کھڈے نکالے گئے تھے لیکن اس کے بعد مزید تعمیر شروع نہیں کی جاسکی جس کی وجہ سے مقامی لوگ اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے ڈرتے ہیں ۔مقامی لوگوںنے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ضلع انتظامیہ پونچھ کی غفلت شعار ی کی وجہ سے کوئی برا حادثہ پیش آسکتا ہے ۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بالا کوٹ علا قہ میں اس سے قبل پاکستانی افواج کی فا ئر نگ سے کئی افراد ہلا ک ہو چکے ہیں جبکہ متعد د زخمی ہوئے ہیں تاہم اس کے باوجود بھی ابھی تک بنکروں کی تعمیر کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا ہے ۔مقامی لوگوں نے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ بسو نی علا قہ میں بنکروں کی تعمیر عمل میں لائی جائے جبکہ مذکورہ سکول کے نزدیک بنکروں کو بھی جلداز جلد مکمل کیا جائے تاکہ بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو ۔